ہولی آئی اور گذر گئی۔اتفاق سے اس بار ہولی کے ساتھ ہی شب برأت کا تہوار بھی تھا اور خواتین کا عالمی دن بھی۔اب اس کا اندازہ کرنا تو مشکل ہے کہ کس جشن نے کسے اوور لیپ کیا لیکن یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ کم از ہمارے ملک کے اکثر و بیشتر لوگ مصروف رہے۔ہندو ہولی میں ،مسلمان شب برأت میں اور جن کا کسی مذہب سے کوئی تعلق نہیں تھا وہ عالمی یوم خواتین میں۔تہوار انسانی تہذیب سے اسی طرح وابستہ ہے جیسے ناخن سے گوشت۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ہر مذہب میں تہوار منانے کی رسم کے پیچھے ایک خاص مقصد یہ بھی ہوتا ہے کہ اپنی زندگی کی تھکا دینے والی مصروفیت کے درمیان انہیں اکتاہٹ سے نجات مل جائے اور پھر وہ نئی توانائی کے ساتھ تازہ دم ہو کر کاروبار زندگی میں شامل ہو جائیں۔دنیا جہان میں اس فارمولے پر تحقیقات بھی ہو چکی ہیں اور اسے سود مند بھی پایا گیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ تہواروں پر ہر ملک میں سرکاری تعطیل کا اعلان ہوتا ہے تاکہ عوام ان تہواروں کا بھر پور مزہ لے سکیں۔
تہواروں کے بارے میں یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ اس کا تعلق خاص مذاہب سے بھی ہے۔اور چونکہ پوری دنیا میں الگ الگ مذاہب کے ماننے والے لوگ ہیں اس لئے ان تہواروں کے نہ صرف الگ الگ دن ہوتے ہیں بلکہ الگ الگ موسم بھی ہوتے ہیں سوائے مسلمانوں کے جن کا کیلنڈر قمری ہونے کی وجہ سے اسلامی تہواروں کا موسم تبدیل ہوتا رہتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کے تہوار اکثر بھارت کی غالب آبادی کے ساتھ شامل ہو جاتے ہیں۔اس اتفاق کو حسن اتفاق بھی کہا جا سکتا ہے لیکن ایسا ہوتا نہیں ہے۔بھارت میں اکثر یہ دیکھا جاتا ہے کہ جب بھی ہندوؤ ں اور مسلمانوں کے تہواروں کی تاریخوں میں تصادم ہوا سرکار اور انتظامیہ کے کان کھڑے ہو جاتے ہیں۔لا اینڈ آرڈر کا مسئلہ کھڑا ہو جاتا ہے۔
کسی تہوار کے موقعہ پر ایسا ہونا عجیب سا لگتا ہے لیکن ہمارے ملک میں یہ عام بات ہے اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں ہم آہنگی کی جگہ نفاق نے لے لی ہے۔ایک دوسرے کے عقیدے کا احترام اب خواب و خیال کی باتیں ہو گئی ہیں۔اور نہ صرف ایک دوسرے کے احترام کا جذبہ ختم ہو گیا ہے بلکہ دوسروں کے کپڑوں سے اپنے کپڑوں کو سفید قرار دینے کا رحجان عام ہو چکا ہے۔سیاست نے مذہب کا چولہ زیب تن کر لیا ہے اور اکثریتی طبقہ کے ذہن میں یہ بات نقش کرا دی گئی ہے کہ آپ کو یہ حق حاصل ہے کہ آپ کے مذہبی تہواروں میں ملک کا ہر شہری چاہے وہ کسی بھی مذہبی گروہ سے تعلق رکھتا ہو شامل ہو اور اگر وہ اس سے گریز کرے تو اسے جبرا ًاپنا شریک کار کریں۔
اس برس ہولی کے تہوار کے موقعہ پر جو خبریں ،تصویریں اور ویڈیوز وائرل ہو رہی ہیں ان میں صاف صاف نظر آرہا ہے کہ چند شر پسند ہندوؤ ں کے خوف سے مسلمان اپنی مسجدوں کو پلاسٹک اور ترپالوں سے ڈھک رہے ہیں۔کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ہولی کے دن ہلڑ مچاتے ہوئے غول کے غول لوگ شراب کے نشہ میں دھت ہو کر جب یہاں سے گذریںگے تو وہ مساجد اور خانقاہوں کی دیواروں کو رنگ اور کیچڑ سے شرابور کر دیںگے۔اس ہولی میں تو یہ نیا ٹرینڈ بھی دیکھا گیا کہ باحجاب مسلم لڑکیوں کو پکڑ پکڑ کر انہیں عبیر اور رنگ لگایا گیا اور اس زیادتی کے منظر کو فلما کر وائرل بھی کیا گیا۔ظاہر ہے اس کا مقصد سوائے اپنے مذہبی تفوق کے اظہار کے اور کچھ نہیں ہے۔یہ باتیں چھوٹی اس لئے نہیں ہےں کہ ہمارے ملک میں ایک آئین ضرور ہے لیکن اس میں ملک کے تمام شہریوں کے لئے ایک قانون نہیں ہے۔آئین میں یہ حق کسی کو نہیں دیا گیا ہے کہ وہ اپنے مذہبی عقیدے کو دوسروں پر جبراً تھوپے۔ملک کا ہر شہری آزاد ہے لیکن اس کے لئے حدود بھی متعین ہیں کہ وہ کس دائرے کو پھلانگ نہیں سکتا۔فرقہ پرستی اور فرقہ پسندی کے فرق کو سمجھنے کی بھی ضرورت ہے اور سمجھانے کی بھی۔کسی بھی جمہوری معاشرے میں سو طرح کے فرقہ ہو سکتے ہیں اور کسی بھی شہری کو ان فرقوں میں سے کسی ایک فرقہ کے مطابق زندگی گذارنے کا پورا حق ہے ہم اسے فرقہ پسند کہہ سکتے ہیں لیکن جیسے ہی وہ فرقہ پسند شخص اپنے فرقہ کے علاوہ دیگر فرقوں کو براکہنے لگے ،دیگر فرقہ کے ماننے والوں کو لعن طعن کرنے لگے اور بضد ہو جائے کہ تم بھی ہمارے عقیدے کے مطابق زندگی گذارو تو پھر ہم اسے فرقہ پرست کہیںگے۔ ہمارا ملک تو ویسے بھی کثرت میں وحدت کا علمبردار ہے اور یہاں وفاقی حکومت ہے جس میں ہر ریاست اور اس کی حکومت کے ساتھ وہاں آباد شہریوں کے ذات ،زبان ،لباس ،کھانے پینے ،عبادت کرنے اور اپنے مذہب و عقیدے کے مطابق زندگی گذارنے کا حق حاصل ہے اور اس کی خلاف ورزی کرنے والے کے لئے انڈین پینل کوڈ کے مطابق سزا بھی تجویز کی گئی ہے۔
اور اس کی خلاف ورزی اس وقت ہوتی ہے جب ملک کی سیاسی جماعتیں اپنی اپنی سہولت کے مطابق ملک میں ایک رنگ اور ایک نسل کا نعرہ بلند کرتی ہیں اور براہ راست آئین کے بنیادی عقیدے پر وار کرتی ہیں۔جب یہ بات آئین میں درج ہے کہ بھارت ایک ایسا ملک ہے جس کا اپنا کوئی مذہب نہیں ہے۔یہ ملک تمام مذاہب اور مسالک کا احترام کرتے ہوئے اپنے پروگرام اور پالیسی بھی بنائے گا اور قوانین بھی وضح کرے گا۔اب اسے اس ملک کے سیاستدانوں کی جاہلیت کہیں یا بزدلی کہ وہ سب جانتے ہوئے بھی آئے دن اپنے آپ کو آئین کے مقابلے میں کھڑا کرتے ہیں اور خود کو ملک اور آئین کا دوست بھی قرار دیتے ہیں۔آئین پر ہاتھ رکھ کر قسم کھانے والوں کو آئین میں درج احکامات کی پیروی نہ کرنے کی سزا بھی اسی آئین میں درج ہے لیکن اس آئین کی حفاظت کرنے کےلئے بنائے گئے عدلیہ کو بھی یہ سب کچھ نظر نہیں آتا۔اور اسی کمزوری کی وجہ سے آج ہمارے ملک میں ترقی کی رفتار سڑک اور پل بنانے سے آگے نہیں بڑھ سکی ہے۔












