کرناٹک میں اسمبلی انتخاب کے آخری مرحلے کے سروے میں بھی یہ بات صاف ہو رہی ہے کہ بی جے پی سے کرناٹک کے لوگ خوش نہیں ہیں اور نتائج بی جے پی کے خلاف جا سکتے ہیں ۔حالانکہ اس آخری مرحلے میں نریندر مودی نے خود کرناٹک کی کمان سنبھال لی ہے اور عوامی ریلی سے لے کر روڈ شو تک میں پسینہ بہا رہے ہیں لیکن ان کی ترکش کا تیر وہی پرانا ہے جس کا ہدف سونیا گاندھی ،راہل گاندھی ،پرینکا گاندھی اور کانگریس کے دور اقتدار کا ستر سال ہے جسے سن سن کر لوگ پاگل ہو چکے ہیں ۔اس پرانے مکالمے کو کرناٹک میں کچھ نیا کرنے کے دھن میں موصوف نے بجرنگ دل کو بجرنگ بلی سے منسوب تنظیم بنا دیا اور اس طرح ہندو آستھا سے جوڑنے کی کوشش کی جیسے بجرنگ دل پر کسی قانونی کارروائی کے نتیجہ میں پوری سناتن سنسکرتی خطرے میں آ جائیگی ۔لیکن وہ یہ بھول گئے کہ جس بجرنگ بلی کے نام کو وہ جال بنا کر کانگریس کو گھیرنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ بجرنگ بلی تو شیوا کے اوتار ہیں لیکن آپ تو ایسے پاپی ہیں کہ مہاراشٹرا میں شیو سینا کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑے ہیں اور اس کی سرکار کو گرانے کا گھناؤنا کام آپ ابھی حال ہی میں کر چکے ہیں ۔جبکہ اس شیو سینا کے صدر کو وزیر اعلی بنانے کا کام کانگریس نے کیا تھا جو آپ کی سازش کا شکار ہوکر اقتدار سے باہر ہو چکا ہے ۔
تو کیا کرناٹک کے لوگوں کی بینائی اتنی ہی کمزور ہے کہ وہ اپنی سرحد سے متصل ریاست میں آپ کی سازش کو نہیں دیکھ رہے ۔
نریندر مودی کرناٹک اسمبلی انتخاب کے دوران روڈ شو کرنے کے درمیان یہ بھی بھول گئے کہ کرناٹک میں خود ان کی ہی سرکار ہے اور لوگ آپ سے بار بار یہ پوچھ رہے ہیں کہ اب جو وعدے آپ کر رہے ہیں ان وعدوں کو نبھانے کا موقع تو آپ کو ملا تھا لیکن آپ نے کچھ کرنے کے بجائے کمیشن خور سرکار کی سر پرستی کرتے رہے ۔اور اپنی کسی بھی تقریر میں یہ بتانے سے گریز کر رہے ہیں کہ کرناٹک کی موجودہ بی جے پی کی سرکار نے کرناٹک میں عوامی مفاد میں کون کون سے کام کئے ۔
دوسری طرف منی پور سے اٹھتے آگ کے شعلے بھی پورے ملک کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ ووٹ حاصل کرنے کے لئے قبائلی آبادی کے اکٹریتی طبقہ کو ریزرویشن دینے سے دیگر پہاڑیوں کے پیروں کے نیچے سے کس طرح زمین کھسک جائے گی ۔میدانی اور پہاڑی عوام کے درمیان کشیدگی تو وہاں پہلے سے بھی تھی اور اب ایک طبقہ کو ریزرویشن دے کر بی جے پی نے جو ناعاقبت اندیشی کی ہے اس نے اس پورے خطہ کو آگ کے حوالہ کر دیا ہے ۔لیکن وزیر اعظم ہوں یا ان کے نائب امیت شاہ کرناٹک کے علاوہ کچھ دیکھنے کو راضی ہی نہیں ۔ان کو تو اس کا بھی اندازہ نہیں کہ دہلی میں ان کی ناک کے نیچے خواتین پہلوانوں کے احتجاج نے اپنی جسامت کو کتنا بڑا کر لیا ہے ۔جنتر منتر پر کسان لیڈر راکیش ٹکیت کے علاوہ دہلی، ہریانہ، راجستھان اور مغربی یوپی کی کھاپ پنچایتوں کے رہنما خواتین پہلوانوں کی حمایت میں اتوار کو دہلی کے جنتر منتر پر بڑے پیمانے پر پہنچے۔ آج صبح دہلی ہریانہ کی ٹیکری بارڈر پر کھاپ پنچایت ممبران اور دہلی پولیس کے درمیان جھڑپ بھی ہوئی۔ دہلی پولس کھاپ پنچایت کے ارکان کو دہلی آنے کی اجازت نہیں دینا چاہتی تھی لیکن کھاپ پنچایتوں کے سخت رویے کو دیکھتے ہوئے انہیں آنے کی اجازت دے دی گئی۔
کھاپ کے صدر پالم چودھری سریندر سولنکی نے آج جنتر منتر پر مہاپنچائیت کے موقع پر کہا، ’’ان بچوں (احتجاجی پہلوانوں) کو انصاف ملنے تک احتجاج جاری رہے گا اور ہم اسے کیسے آگے بڑھائیں گے، ہم سب آج فیصلہ کریں گے۔‘‘ جدوجہد کرنے والے پہلوانوں نے کہا۔ ونیش پھوگاٹ نے اس سلسلے میں مزید قانونی کارروائی پر غور کرنے اور آگے بڑھنے کو کہا۔ راکیش ٹکیت اور کھاپ کے تمام رہنما جنتر منتر پر خواتین پہلوانوں کے ساتھ بیٹھے ہیں۔بی کے یو (اوگرہان) کے کارکنوں نے اتوار کو دہلی کے ٹکری سرحد پر احتجاج کیا جب انہیں قومی دارالحکومت میں داخلے سے منع کیا گیا تو انہوں نے دہلی پولیس کی طرف سے لگائی گئی رکاوٹوں کو توڑ دیا اور جنتر منتر جا پہنچے۔
کرناٹک میں مذہبی کارڈ کھیل رہے نریندر موفی یہ دیکھ ہی نہیں پا رہے کہ جنتر منتر پر بیٹھی ہوئی بچیاں بجرنگ بلی کی بھکت ہیں اور ان کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والے ممبر اف پارلیامنٹ آپ کے بھکت ہیں ۔اور آپ ان کی حرکتوں پر اس لئے خاموش ہیں کہ وہ جس برادری سے آتے ہیں اس کے ہاتھ میں اتر پردیش کی کمان ہے اور اگر وہ برادری ناراض ہوگئی تو اتر پردیش جو آپ کی آخری پناہ گاہ ہے اور جہاں سے جیت کر آپ خود وزیر اعظم بنے ہیں وہ پناہ گاہ بھی غیر محفوظ نہ ہو جائے۔ لیکن اگر اپنے اس چہیتے کو آپ نے جلد از جلدبخود سے الگ کر کے جیل رسید نہ کروایا تب بھی آپ کی مشکلوں میں کمی آنے والی نہیں کیونکہ کھاپ پنچایتوں سمیت آپ کے وعدوں کا زخم لئے کسان یونین کے لوگ بھی جنتر منتر پہنچ چکے ہیں ۔












