سلطنت عمان:ڈیجیٹل کوآپریشن آرگنائزیشن (ڈی سی او) نے عمان میں اپنی چوتھی جنرل اسمبلی کے دوران متعدد مفاہمت ناموں پر دستخط کیے۔ جنرل اسمبلی کا اختتام بدھ کو ہوا۔
ڈی سی او اور شہزادہ محمد بن سلمان فاؤنڈیشن، ہیولٹ-پیکارڈ، ایجنسی برائے اقتصادی تعاون و ترقی، سلطنتِ عمان اور 500 گلوبل کے درمیان یادداشتوں پر دستخط ہوئے۔
ڈی سی او اور یو این آفس فار ساؤتھ-ساؤتھ کوآپریشن کے درمیان اظہارِ دلچسپی پر بھی دستخط کیے گئے۔
ڈی سی او کے ایک وفد کی اردن کے وزیرِ اعظم جعفر عبدالفتاح حسن سے ملاقات ہوئی جس کے بعد یہ دستخط ہوئے۔
اردن کے وزیر برائے ڈیجیٹل اکانومی اور انٹرپرینیورشپ اور ڈی سی او کونسل کے چیئرمین سمیع سمیرات نے کہا کہ اردن کے پاس ایک جامع ڈیجیٹل معیشت کی تعمیر کے لیے عالمی کوششوں کی قیادت کرنے کی جو صلاحیت ہے، 2024 میں تنظیم کی اردن کی صدارت اس کا اظہار کر چکی ہے۔
انہوں نے کہا، "اس سال کے دوران ہم نے پرجوش اقدامات شروع کیے ہیں، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کو مضبوط کیا ہے اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں نوجوانوں اور خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے ٹھوس بنیادیں رکھی ہیں۔”
سمیرات نے 2025 کی صدارت کی بات کی جو کویت کو دی گئی تھی۔
انہوں نے کہا، "ہم ریاست کویت میں اپنے بھائیوں کو صدارت سونپتے ہیں۔ ہم تنظیم کے اہداف کے حصول میں ایک فعال شراکت دار کے طور پر کام جاری رکھنے کے لیے اردن کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔ ہم اپنا مشترکہ وژن حاصل کرنے کے لیے اپنی مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کے منتظر ہیں: ایک ڈیجیٹل دنیا جس میں سب کے لیے خوشحالی اور انصاف ہو۔”
ڈی سی او کی سیکرٹری جنرل دیمۃ ال یحییٰ نے کہا، جنرل اسمبلی تنظیم کی ترقی کے چار سالوں کی نشان دہی کرتی ہے۔
سیکرٹری جنرل نے ڈی سی او کے آئندہ عزائم پر روشنی ڈالتے ہوئے مزید کہا: "اگرچہ ہم نے گذشتہ چار سالوں میں بہت کچھ حاصل کیا ہے لیکن سب کے لیے ڈیجیٹل اقتصادی ترقی کو آگے بڑھانے کی غرض سے اہم کام بدستور باقی ہے۔”
بدھ کے پروگرام میں تمام دنیا کے سرکردہ ماہرین کے ساتھ پینلز اور مباحثے شامل تھے۔
ڈی سی او کی بنیاد نومبر 2020 میں رکھی گئی تھی اور اس وقت 16 ممالک اس کے رکن ہیں جن میں سعودی عرب، اردن، پاکستان، بحرین، بنگلہ دیش اور عمان شامل ہیں۔ اس میں 39 مبصر اور شراکت دار تنظیمیں بھی ہیں۔












