تل ابیب (ہ س)۔اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے جمعرات کو داخلی سلامتی کی ایجنسی شِن بیٹ کے اگلے سربراہ کے لیے اپنے انتخاب کا اعلان کر دیا۔ انہوں نے یہ فیصلہ ملک کے اٹارنی جنرل اور عوام کے ایک اہم طبقے کی مرضی کے برخلاف کیا ہے۔وزیرِ اعظم کے دفتر نے کہا، "وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے آج شام میجر جنرل ڈیوڈ زینی کو شِن بیٹ کا اگلا سربراہ مقرر کرنے کے فیصلے کا اعلان کیا۔یہ فیصلہ اس عہدے کے حوالے سے جاری دیرینہ تنازعہ میں تازہ ترین پیشرفت ہے۔ اس حوالے سے موجودہ سربراہ کی برطرفی کے ساتھ ساتھ اْن اقدام کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج ہوا ہے جو نیتن یاہو کی حکومت نے ججز کی تقرری کے لیے منتخب عہدیداروں کے اختیارات میں اضافہ کرنے کی غرض سے اٹھائے۔سپریم کورٹ نے بدھ کے روز حکومت کی طرف سے داخلی سلامتی کے موجودہ سربراہ رونن بار کی برطرفی کے فیصلے کو غیر مناسب اور غیر قانونی” قرار دیا۔اٹارنی جنرل گالی بہاراو میارا نے کہا تھا، عدالتی فیصلے کے پیشِ نظر وزیرِ اعظم کو "شِن بیٹ کے نئے سربراہ کی تقرری سے متعلق کسی بھی کارروائی سے گریز کرنا چاہیے۔نیتن یاہو نے فوری طور پر ایک غیر معمولی پریس کانفرنس میں جواب دیا کہ ان کی حکومت بہاراو-میارا کے مؤقف کے باوجود تقرر کرے گی۔جمعرات کے اعلان کے بعد اٹارنی جنرل نے ایک بیان میں کہا، وزیرِ اعظم قانونی رہنمائی کے برعکس کام کر رہے ہیں۔بیان میں کہا گیا، "اس بات پر شدید تشویش ہے کہ انہوں نے مفادات کے تصادم کے دوران کام کیا اور تقرری کا عمل ناقص ہے۔ جمعرات کے اعلان میں کہا گیا ہے کہ فرانس کے تارکینِ وطن کا بیٹا اور ہولوکاسٹ سے بچ جانے والے کا پوتا زینی اسرائیلی فوج میں "کئی” آپریشنل اور کماندار عہدوں پر فائز رہا ہے جن میں بعض اشرافیہ یونٹس اور جنگی بریگیڈ کے عہدے بھی شامل ہیں۔دو ماہ سے زیادہ عرصے تک یہ سیاسی اور قانونی کشمکش جاری رہی کہ طاقتور ایجنسی کی سربراہی کسے کرنی چاہیے جس کے بعد یہ اعلان سامنے آیا ہے۔مارچ میں نیتن یاہو نے کہا تھا کہ انہوں نے "اعتماد کی مسلسل کمی” کی وجہ سے رونن بار کو برخاست کر دیا۔اس اقدام کو غیر منافع بخش تنظیموں اور سیاسی اپوزیشن نے عدالت میں چیلنج کیا تھا جنہوں نے مذمت کرتے ہوئے اس اقدام کو نیتن یاہو کی دائیں بازو کی حکومت کی جانب سے جمہوریت مخالف تبدیلی کی علامت قرار دیا۔جمعرات کے اعلان کے بعد حزبِ اختلاف کے رہنما یائر لاپڈ نے "جنرل زینی سے یہ اعلان کرنے کا مطالبہ کیا کہ جب تک سپریم کورٹ اس معاملے پر فیصلہ نہیں دیتی، وہ اپنی تقرری قبول نہیں کر سکتے۔اسرائیل میں غیر سرکاری تنظیم موومنٹ فار کوالٹی گورنمنٹ نے اس دوران کہا، وہ "اس غلط تقرری کے خلاف آئندہ دنوں میں ایک قانونی پٹیشن دائر کرے گی اور قانونی نظام اور قانون کی حکمرانی کو پامال کرنے کی کوششوں کے خلاف ثابت قدم رہے گی۔”رونن بار نے خود کہا کہ ان کی برطرفی کا تعلق حماس کے سات اکتوبر 2023 کے حملے "اور دیگر سنگین معاملات” کی تحقیقات سے تھا۔اس کے بعد انہوں نے کہا ہے کہ وہ جون میں عہدہ چھوڑ دیں گے۔انتہائی دائیں بازو کے وزیر برائے قومی سلامتی اتمار بین گویر نے جمعرات کو کہا، "شِن بیٹ کے سربراہ کی تقرری کا اختیار قانونی طور پر صرف وزیرِ اعظم کو دیا گیا ہے اور یہ اچھی بات ہے کہ وزیرِ اعظم نے اس اختیار کا استعمال کیا اور ایک نہایت قابل شخص کا تقرر کیا۔












