پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس شروع ہونے جارہا ہے ، یہ اجلاس 29دن کا ہوگا ،لیکن اس بار اندازہ ہو رہا ہے کہ سرمائی اجلاس کافی گرما گرم ہوگا ۔جہاں حکومت اپنی بات رکھے گی اور بلوں کو منظور کرانے کی کوش شکرے گی تو ہیں اپوزیشن حکومت کے ساتھ بحث کے ساتھ وہ تمام ایشوز اٹھانے کی کوشش کرے گی جو کافی گرم ہیں اور مسئلہ بنے ہوئے ہیں۔اس میں مہنگائی ،بے روزگاری اور چین کا سرحد تنازع کافی اہم ہوگا جن کو اپوزیشن اٹھانے کی ٹھان چکی ہے۔اس لئے کہ سکتے ہیں کہ ایک جانب مرکزی حکومت اجلاس کیلئے تیاریوں میں مصروف ہے ،تو وہیں اپوزیشن بھی پارلیمنٹ میں اپنے مطالبات منوانے کیلئے عہد بند ہے ۔اس سلسلے میں کانگریس کچھ دن پہلے ایک اہم میٹنگ کر چکی ہے جس میں تین اہم ایشوز کو اٹھانے اور اس پر حکومت سے جواب مانگنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔حکومت اس دوران تقریبا سول بلوں کو پاس کرانے کے لئے پیش کرے گی ۔موجودہ سرمائی سیشن کی ا ہم بات یہ ہے کہ یہ اس وقت شروع ہوگا جب نتائج آنے میں ایک دن بچے گا خاص کر اسوقت جب ایگزٹ پول گجرات و ہماچل میں بی جے پی کی حکومت میں واپسی کا بگل بجا چکا ہے ۔ لیکن وہیں اس کے برخلاف دہلی کی کارپوریشن میں عام آدمی پارٹی کی سرداری کا بھی اشارہ ظاہر کیا گیا ہے۔اس اجلاس کو اہمیت کے ساتھ اس لئے بھی دیکھا جارہا ہے کہ کانگریس جو کہ پچھلے کئی سالوں سے بحث نہ کرنے کا حکومت پر الزام عائد کر چکی ہے ،کے کئی اہم لیڈر پارٹی کو الوداع کہہ چکے ہیں ،جس میں غلام نبی آزاد اور کپل سبل کے چہرے کافی اہمیت رکھتے ہیں۔کانگریس ان چہروں سے بھاری بھرکم سمجھی جاتی تھی اور ان کا پارٹی میں وزن تھا ۔ان کے جانے کے بعد سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ کہ پارٹی اب اپوزیشن میں کتنا مضبوط رول ادا کرنے کی حالت میں ہوگی ۔ وہیں کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ اجلاس اس لئے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ اس میں کانگریس کی صدارت ملکارجن کھڑگے کرینگے جو مضبوطی کے ساتھ پارلیمنٹ میں اپوزیشن پارٹی کے طور پر کانگریس کے سوالوں کو رکھ سکیں گے ۔اس لئے اگر سبل اور آزاد جیسے لیڈر پارٹی میں نہیں ہیں تو اس سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے ،پارٹی کے پاس ایک قائد تو ہے جو ملک کے مسائل کے ساتھ حکومت سے سوال کرنے کی ہمت رکھتا ہے ۔الغرض ،لوگوں کے ذہنوں میں مختلف طرح کے ابھرت خیالات اور سوالا ت و خدشات کے درمیان یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ اس وقت کانگریس کی پوزیشن مضبوط ہے اور وہ پارلیمنٹ میں مضبوطی کے ساتھ اپنی بات رکھنے اور حکومت سے سوالات کرنے کہ اہل ثابت ہو سکتی ہے۔غور طلب ہے کہ کانگریس کے لیڈرجے رام رمیش کا کہنا ہے کہ وہ اس بار ایوان پارلیمنٹ میں تین اہم ایشوز اٹھائیںگے ،اور وہ چاہتے ہیں کہ حکومت ان پر بحث کرے ۔رمیش کاکہنا ہے کہ انکے کے تین ایشوز جس میں معاشی معاملات ،آئینی اداروں کے رول اورجی ایس ٹی کا ایشو شامل ہوگا ،پر حکومت کو بحث کے لئے تیار کرے گی مسائل کو ملک کے سامنے رکھیں گے۔ ۔اس کے علاوہ کانگریس کا الزام یہ بھی ہے کہ حکومت جن آزاد اور آئینی اداروں میں مداخلت کررہی ہے وہ ان ایشوز کو بھی اٹھائے گی اور حکومت سے جواب مانگے گی۔وہیں کانگریس ترجمان کا سوال کے ساتھ کہنا تھا سرکار اس بار ان ایشوز کو پارلیمنٹ میں سنے اور بحث کرائے ،وہ بحث سے نہیں بھاگے ۔جے رام رمیش کا سوال تھا کہ حکومت بحث سے کیوںبھاگ رہی ہے ؟دیکھنا ہوگا کہ حکومت اپوزیشن کے کتنے سوالات کو سنتی ہے اور کس کس کا جواب دیتی ہے ۔اس میں شک نہیں کہ ملک میں مہنگائی ،معاشی اتھل پتھل،بے روزگاری پچھلے کچھ سالوں میں کافی بڑھی ہے اور قابو سے باہر ہے ۔بے روزگاری سے نوجوان پریشان ہیں ، کہا جاتا ہے کہ ایسے حالات ملک میں کورونا کے بعد زیادہ پیدا ہوئے ہیں ۔لیکن ان سب سے قطع نظر کانگریس جس ایشو پر پچھلے کچھ سالوں سے حکومت کو متنبہ کرتی آرہی ہے وہ بھارت چین کے درمیان سرحد تنازع ہے ۔کانگریس کے لیڈر اور سابق صدر راہل گاندھی اکثر کہتے سنے گئے ہیں چین ہمارے ملک کی زمین میں گھس آیا ہے اور حکومت کچھ کر نہیںرہی ہے۔حلانکہ اس بارے میں وزیر اعظم مودی پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ بھارت کی زمین میں چین کی کسی طر ح کی دخل اندازی نہیں ہوئی ہے ناہی کوئی اندر گھس آیا ہے۔لبہر کیف ، اس بار ایک بار پھر چین سرحد کا متنازع کا ایشو پارلیمنٹ میں اٹھانے کیلئے کانگریس بضد ہے ۔موجودہ حالات کے تناظر میں یہ امید نہیںکی جاسکتی کہ پارلیمنٹ پر سکون رہے گی اور کوئی ہنگامہ نہیں ہوگا۔سوب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا اپوزیشن کانگریس اپنے مقصد میں کامیاب ہو سکے گی؟اس وقت جبکہ اس سے پہلے کانگریس نے کچھ اجلاس میں پارلیمنٹ سے واک آئوٹ کیانیز یہ کہ اس پر ہنگامہ کرنے کے الزام لگائے جانے کے بعد کئی لیڈرون کو معطل کیا جاچکا ہے۔تاہم ضروری ہے کہ پارلیمنٹ میں سیر حاصل بحث ہو اور ضروری ایشوز اٹھائے جائیں ۔لاحاصل بحث و تکرار سے بچا جائے ،وقت قیمتی ہوتا ہے ،حکومت کو اور اپوزیشن دونوں کو اپنے اختیارات اور حقوق کو دھیان میں رکھتے ہوئے بات کہنے کی آزادی ہے ، بلا و جہ وقت برباد نہیں کیا جاناچاہئے ۔












