سہرسہ(سالک کوثر امام)ریاستی حکومت کی جانب سے پنچایت سطح پر پنچایت سرکار بھون کی تعمیر کا دعویٰ تو کیا جا رہا ہے، لیکن زمینی حقیقت اس کے برعکس نظر آ رہی ہے۔ بنما اٹہری بلاک کی کئی پنچایتوں میں برسوں گزر جانے کے باوجود نہ تو عمارتیں مکمل ہو سکی ہیں اور نہ ہی تیار شدہ عمارتوں کو ہینڈ اوور کیا گیا ہے۔سب سے حیران کن معاملہ اٹہری پنچایت کا ہے، جہاں تقریباً سوا کروڑ روپے کی لاگت سے سال 2018 میں پنچایت سرکاری بھون کی تعمیر مکمل ہو چکی تھی، لیکن آج تک اسے ہینڈ اوور نہیں کیا گیا۔ نتیجتاً اس عمارت میں ایک دن بھی پنچایت دفتر شروع نہیں ہو سکا اور اب عمارت خستہ حال ہونے لگی ہے۔مقامی باشندوں کی شکایت پر رکن اسمبلی رتنیش سادا نے اس معاملے کو اسمبلی میں اٹھایا اور حکومت سے سوال کیا کہ آخر تیار شدہ عمارت کو اب تک استعمال میں کیوں نہیں لایا گیا۔اسی طرح گھوردوڑ 2019 اور جمال نگر 2021 میں تقریباً تین کروڑ روپے کی لاگت سے پنچایت سرکار بھون کی تعمیر شروع کی گئی تھی، لیکن آج تک مکمل نہیں ہو سکی ہے۔ سہوریہ پنچایت میں بھی تقریباً تین کروڑ کی لاگت سے بننے والی عمارت فنڈ کی کمی کے سبب ادھوری پڑی ہے۔ سال 2025 میں شروع ہونے والا یہ کام بیچ میں ہی رک گیا۔ٹھیکیدار بلرام سنگھ کے مطابق حکومت کی جانب سے وقت پر رقم فراہم نہ کیے جانے کی وجہ سے مزدوروں کو اجرت دینا اور تعمیراتی سامان مہیا کرنا مشکل ہو گیا ہے، جس کے باعث کام بند پڑا ہے۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پنچایت سرکار بھون کی تکمیل سے تمام سرکاری خدمات ایک ہی جگہ دستیاب ہو جاتیں، جس سے عوام کو بڑی سہولت ملتی، لیکن کام رکنے سے ان کی امیدوں پر پانی پھر گیا ہے۔بلاک کی سات پنچایتوں میں سات سال گزرنے کے باوجود پنچایت سرکار بھون کی تعمیر مکمل نہ ہونا انتظامی نظام پر سنگین سوال کھڑے کرتا ہے۔ مقامی لوگوں نے حکومت اور متعلقہ محکمے سے مطالبہ کیا ہے کہ جلد از جلد فنڈ فراہم کر کے ادھورے کام کو مکمل کیا جائے۔












