• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
اتوار, مارچ 22, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home اداریہ ؍مضامین

کیا ہم انتخابات سے کوئی سبق حاصل کرتے ہیں؟

عبدالغفار صدیقی

Hamara Samaj by Hamara Samaj
مئی 17, 2023
0 0
A A
کیا ہم انتخابات سے کوئی سبق حاصل کرتے ہیں؟
Share on FacebookShare on Twitter

کرناٹک کے ریاستی اور اترپردیش کے بلدیاتی انتخابات کے نتائج آچکے ہیں ۔دونوں جگہ کے نتیجے اگرچہ الگ الگ ہیں لیکن ایگزٹ پول کے مطابق ہی ہیں۔کرناٹک میں کانگریس کو زبردست فتح حاصل ہوئی ہے ۔وہاں بی جے کی ہار سے جنوبی ہندمیں اس کا صفایا ہوگیا ہے ۔کرناٹک میں کانگریس کی فتح اپوزیشن جماعتوں کے لیے حوصلہ افزا ہے۔البتہ زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں ہے ،بعض لوگوں کا خیال ہے کہ بی جے پی جان بوجھ کر ہار گئی ہے تاکہ ای وی ایم پر اٹھنے والے سوالات بند ہوجائیں اور 2024کے پارلیمانی الیکشن میں کچھ کیا جاسکے ۔کرناٹک وہ ریاست ہے جہاں گزشتہ کئی سال سے بی جے پی اور ہندتو وادی طاقتوں نے اسلام اور مسلمانوں پراپنے تمام تیر چلائے ۔حجاب تنازع کا تعلق اسی ریاست سے ہے ۔یہ معاملہ اتنا طول پکڑا کہ سڑک سے سپریم کورٹ تک جاپہنچا ۔بیٹی پڑھائو اور بیٹی بچائو کا نعرہ لگانے والوں نے باحجاب طالبات کے لیے تعلیم گاہوں کے دروازے بند کردیے ۔میری سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ کون سی’ سبھیتا‘ ہے جو ننگے رہنے کی حوصلہ افزائی کرتی ہے اور حجاب کی مخالفت کرتی ہے ۔یہی وہ ریاست ہے جہاں سے چار فیصد مسلم رزرویشن ختم کیا گیا ۔یہ معاملہ بھی اعلیٰ عدالت میں زیر سماعت ہے ۔یہ کیسا ’مسلم پریم ‘ہے ؟ایک طرف مسلم پسماندہ محاذ بنا کر مسلمانوں کی ترقی و خوش حالی اور انھیں مکھیہ دھارا میں لانے کی بات کرتے ہیں اور دوسری طرف محض چار فیصد رزرویشن بھی برداشت نہیں کرتے ۔شہید وطن ٹیپو سلطان کے ایشو کا تعلق بھی کرناٹک سے ہی ہے ۔ملک کی آزادی کی جنگ میں انگریزوں کا ساتھ دینے والے ٹیپو سلطان کی وفاداری پر سوال اٹھارہے ہیں ؟جس شخص نے ریاست کی حفاظت کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ پیش کردیا اس کو بے عزت کیا جارہا ہے ۔حرام کھانے والوں کی جانب سے حلال فوڈ کی مخالفت اور اس پر پابندی کی بات بھی اس ریاست میں کی گئی ۔اسی موقع پر دی کیرالہ اسٹوری فلم چلائی گئی ،نعرہ تکبیر پر ایف آئی آر کرانے والوں کی جانب سے جے بجرنگ بلی کا نعرہ لگاکر ووٹ ڈالنے کی اپیل کی گئی ۔غرض مسلمانوں کی کھلم کھلا مخالفت کی گئی ۔ صاف صاف کہہ دیا کہ ہمیں مسلمانوں کے ووٹوں کی ضرورت نہیں ہے ۔ایک سو چالیس کروڑ عوام کے وزیر اعظم نے حسب عادت ساری مریادائیں طاق پر رکھتے ہوئے ،سنگھ کے پرچارک کے طور پر انتخابی مہم میں حصہ لیا۔اب تک کی انتخابی مہمات اور کرناٹک کی مہم میں یہ فرق نمایا ں یہ تھا کہ پہلے فرقہ پرستی ،مسلم دشمنی اورمذہبی انتہاپسندی پس منظر میں رہتی تھی لیکن اس بار وہ خود منظر کا حصہ تھی ۔فرقہ پرستی نے جس قدر ننگا ناچ کرناٹک میں کیا ہے اور مسلم دشمنی کا جو مظاہرہ کیا گیا ہے اس سے آگے کچھ باقی نہیں رہ جاتا سوائے اس کے کہ مسلمانوں کا سیدھے سیدھے قتل عام کیا جائے ۔ان سب کے باوجود فرقہ پرستوں کی کراری شکست نے یہ واضح کردیا ہے کہ ملک کو ابھی بچایا جاسکتا ہے ۔کرناٹک کی فتح امید کا روشن چراغ ہے ۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا کانگریس اس فتح سے کوئی نصیحت حاصل کرے گی ۔کیا وہ اپنے اندرونی اختلافات پر قابو پائے گی ۔کیا وہ اپنے وعدے پر کھری اترے گی ۔یا ہر بار کی طرح اس بار بھی بے وفائی کرے گی ۔کرناٹک میں چار فیصد رزرویشن ختم کیے جانے پر واویلا کرنے والی کانگریس اپنی دوسری ریاستوں میں اس رزرویشن کو نافذ کیوں نہیں کرتی ۔راجستھان میں چار مسلم نوجوانوں کو جنھیں دہشت گردی کے فرضی مقدمات میں پھنسایا گیا تھا اور نچلی عدالت نے قصور وار تسلیم کیا تھا اس کے بعدہائی کورٹ نے انھیں باعزت بری کردیا تھا ۔اس فیصلہ کے خلاف اشوک گہلوت نے مسلم نوجوانوں کو سزا دلوانے کے لیے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹانے کی بات کیوں کہی تھی ؟ کیا کانگریس اپنی صفوں سے خاکی نیکر والوں کو باہر کرپائے گی یا یہ کہہ کر مسلمانوں کو نظر انداز کردے گی کہ ہم نے بی جے پی کے ظلم سے بچایا ہے ۔مجھے کانگریس کے ایفائے عہد پر شبہ ہے ۔کرناٹک کے مسلمانوں کی مہم اور امتحان ابھی ختم نہیں ہوا ہے ۔اب انھیں اس بات پر نظر رکھنا ہے کہ کانگریس اپنے وعدے پورے کرے ،اس سال کئی ریاستوں میں انتخاب ہونے والے ہیں ۔ہوسکتا ہے کانگریس مسلمانوں کو خوش کرنے اور منہ بھرائی کے الزامات سے بچنے کے لیے اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں ٹال مٹول کرے ۔اس لیے جو کھویا ہے اسے جلد از جلد حاصل کرنے کی کوشش کی جائے ۔کرناٹک میں کانگریس کو فتح صرف راہل گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا کی وجہ سے نہیں ملی ہے اگر ایسا ہوتا تو جالندھر میں لوک سبھا کے انتخاب اور یوپی کے بلدیاتی انتخاب میں اسے شکست نہ ہوتی ۔جالندھر کی سیٹ تو اس کے پاس بیس سال سے تھی ۔کرناٹک کی فتح میں مسلمانوں کی دانش مندی اور سیکولر عوام کے اتحاد کا اہم کردار ہے۔
اتر پردیش کے بلدیاتی الیکشن کے نتائج حسب توقع ہی ہیں ۔میونسپل کارپوریشن کی سبھی سترہ سیٹیں بی جے پی نے جیت لی ہیں ،نگر پالیکا کی 199میں سے 98اور نگر پنچایت کی 544میں سے 204سیٹیں بی جے پی کے حصے میں آئی ہیں ۔ریاستی حکومت کاپورا زور میونسپل کارپوریشن پر رہا ،خود وزیر اعلیٰ نے بہت محنت کی جس کا انھیں فائدہ ہوا ۔گزشتہ الیکشن میں بھی دو سیٹیں چھوڑ کر باقی پر ان کا قبضہ تھا ۔حالانکہ یہ وہ شہر ہیں جہاں مسلمانوں کی بڑی تعداد ہے ۔لیکن مسلم ووٹوں کے انتشار نے اس کی راہ آسان کردی ۔اگر مسلمان اور سیکولر ووٹ متحد ہوجائے تو کسی بھی سیٹ پر بی جے پی کو کامیابی نہ ملے ۔نگر پالیکا کی بعض وہ سیٹیں بھی بی جے پی کے کھاتے میں چلی گئیں جہاں مسلمان ستر فیصد ہیں ۔مثال کے طور پربریلی ضلع کی بہیڑی نگر پالیکا میں بی جے پی کا امیدوار11179ووٹ لے کر کامیاب ہوگیا ،جب کہ سماج وادی پارٹی کے انجم رشید کو 8874بہوجن سماج کے نسیم احمد کو 6183مجلس کے محمد شاداب کو 4326کانگریس کے سلیم اختر کو2610اور آزاد امیدوارسالک کاتب کو 4645ووٹ ملے ۔اس کے علاوہ کینسل ووٹ اور ڈمی امیدواروں کو ملنے والے ووٹ بھی ہوں گے ۔یعنی 26638ووٹ ہوتے ہوئے بھی محض انتشار کی وجہ سے بی جے پی کا امیدوار کامیاب ہوگیا ۔اس کے باوجود بھی لوگ کہتے ہیں مسلمانوں میں قیادت کا فقدان ہے ۔یہ مسلم عوام ،ہماری ملی و سماجی تنظیموں اورعلماء کرام کے لیے ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ ہم گزشتہ 75سال میں مسلمانوں کو کسی پلیٹ فارم پر بھی متحد نہ کرسکے ۔رائے دہندگابرادری اور مذہب میں تقسیم ہوتے دیکھے گئے۔امید وار کا کردار ان کے لیے زیادہ معنی نہیں رکھتا ۔ایک بڑی تعداد اپنے ووٹوں کو ایک بوتل شراب اور پانچ سو یا ہزار روپے میں فروخت کردیتی ہے ۔اس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ جیتنے کے بعد کوئی کام نہیں کرتے ۔قوم ان پر اس لیے دبائو نہیں ڈالتی کہ وہ ان کا نمک کھا چکی ہوتی ہے ۔مزے کی بات یہ ہے کہ اپنے ووٹ بیچنے والے ہی خدا سے دعا کرتے ہیں کہ وہ انھیں ظالم حکمرانوں سے بچا لے۔
یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ قابل ذکر تعداد میں ووٹ کینسل ہوجاتے ہیں ۔اس لیے کہ جہالت کی بنا پر صحیح طریقہ سے مہر نہیں لگائی جاتی ،ایک جگہ چوبیس ہزار ووٹ ڈالے گئے اور چودہ سو کینسل ہوگئے ۔ان میں بیشتر مسلم امیدواروں کے تھے، ڈمی امیدواروں کو بھی ایک ہزار سے زیادہ ووٹ ڈال دیے گئے ۔اس طرح چوبیس سو ووٹ خراب ہوگئے۔وہاں بی جے پی کاا میدوار صرف بارہ سو ووٹوں سے جیت گیا ۔اگر رائے دہندگان کو ووٹ دالنے کی تربیت دے دی جاتی تو اس نقصان سے بچا جاسکتا ہے ۔کتنے ہی ووٹر مہر لگانے کے بجائے اپنے ہاتھ کا انگوٹھا لگا آئے ۔سنگھ جس کو برا کہتے ہم نہیں تھکتے وہ ایک ایک ووٹر کو ہر بات سمجھاتی ہے ۔ہمارے امیدوار آپس میں ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے ،چائے پکوڑی کھلانے ،دھمکانے یا خریدنے میں لگے رہتے ہیں اوراپنے انتخابی نشان کی درست پہچان تک نہیں کراپاتے ۔اول تو ووٹوں کا انتشار اور پھر کینسل اور ڈمی امیدواروں کے حق میں ووٹنگ جیت کو بھی ہار میں بدل دیتی ہے ۔ہم حاجیوں کی لیے تربیتی کیمپ لگاتے ہیں لیکن ووٹ ڈالنے کی تربیت دینے لیے کوئی پروگرام نہیں چلاتے۔جب کہ حج میں تو معلم اور گائڈ مکہ و مدینہ میں میسر ہوتے ہیں ،جب کہ بوتھ پر اکیلے ہی سب کچھ کرنا ہوتا ہے ۔ہر تیوہار پر امن و سکون کی اپیل کرنے والے معزز علماء کی جانب سے انتخابات کے موقع پر کوئی اپیل تک جاری نہیں ہوتی ۔کسی مسجد کے ممبر سے ووٹ کی اہمیت پر تقریر نہیں کی جاتی ۔کیا یہ سب اعمال خلاف آئین یا خلاف شریعت ہیں ؟
میں سمجھتا ہوں کہ ہر انتخاب ہمارے لیے ایک آزمائش اور امتحان ہے ۔انتخابات ہماری اور ہماری نسلوں کی زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔اس لیے ہم میں سے ہر شخص کو اپنی ذمہ داری ادا کرنا چاہئے ۔محض چوراہوں ،چوپالوں اور گلی محلہ کے نکڑوں پر کٹ حجتی کرکے انتخابات نہیں جیتے جاسکتے ۔پارٹیوں کو ٹکٹ دیتے وقت اور امیدواروں کو لیتے وقت اپنی استطاعت ،زمینی حقیقت کے ساتھ ساتھ اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ اس کے ملک و قوم پرکیا اثرات مرتب ہوں گے ؟امیدواروں کے کارکنوں کو انتخابی مہم میں ووٹ ڈالنے کی تربیت دینا چاہئے ۔آج کے ڈیجیٹل دور میں یہ بہت آسان ہے ۔آپ ویڈیو بنا کر دکھا سکتے ہیں یا ووٹرس کے نمبر پر بھیج سکتے ہیں ۔زعماء ملت کو بھی اپنے حجروں سے نکل کر میدان میں آنا چاہئے اور انسانوں کی راضی و ناراضی کے بجائے اللہ کی خوشی و خفگی کا خیال رکھنا چاہئے ۔رحمان کے بندے برائے مصلحت زبان پر تالا ڈالے رہتے ہیں اور شیطانی طاقتیں میدان مار لیتی ہیں۔

 

ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    فائر بریگیڈ کی ہائیڈرولک لفٹ تک نہیں کھلی، بی جے پی  حکومت کی ناکامی اور لاپروائی نے9لوگوں کی جان لے لی:کیجریوال

    فائر بریگیڈ کی ہائیڈرولک لفٹ تک نہیں کھلی، بی جے پی حکومت کی ناکامی اور لاپروائی نے9لوگوں کی جان لے لی:کیجریوال

    مارچ 20, 2026
    پالم آتشزدگی معاملہ، بی جے پی اور ’آپ‘ میں ہاتھا پائی

    پالم آتشزدگی معاملہ، بی جے پی اور ’آپ‘ میں ہاتھا پائی

    مارچ 20, 2026
    عید الفطر: بندگی کی تکمیل، شعور کی آزمائش اور موجودہ حالات میں حکمتِ عمل

    عید الفطر: بندگی کی تکمیل، شعور کی آزمائش اور موجودہ حالات میں حکمتِ عمل

    مارچ 20, 2026
    دہلی میں فسادات جیسے حالات پیدا کر رہی ہے بی جے پی

    دہلی میں فسادات جیسے حالات پیدا کر رہی ہے بی جے پی

    مارچ 20, 2026
    فائر بریگیڈ کی ہائیڈرولک لفٹ تک نہیں کھلی، بی جے پی  حکومت کی ناکامی اور لاپروائی نے9لوگوں کی جان لے لی:کیجریوال

    فائر بریگیڈ کی ہائیڈرولک لفٹ تک نہیں کھلی، بی جے پی حکومت کی ناکامی اور لاپروائی نے9لوگوں کی جان لے لی:کیجریوال

    مارچ 20, 2026
    پالم آتشزدگی معاملہ، بی جے پی اور ’آپ‘ میں ہاتھا پائی

    پالم آتشزدگی معاملہ، بی جے پی اور ’آپ‘ میں ہاتھا پائی

    مارچ 20, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist