
اسرائیل ایران جنگ اب جس مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اسے ریسلنگ کی اصطلاح میں ناک آؤٹ مرحلہ کہتے ہیں ۔جس میں کسی بھی ایک پہلوان کو ہارنا ہوگا اور اس کے بعد ہی کھیل کا فیصلہ ہوگا اور یہ فیصلہ آخری ہوگا ۔اس جنگ کے سلسلہ میں ایک اہم بات اور بھی ہے اور وہ یہ کہ جو بھی خبریں یا ویڈیو جنگ سے متعلق ساری دنیا میں پہنچ رہی ہیں وہ اسرائیل کی سخت پابندیوں کے درمیان سے نکل رہی ہیں یا جنگی حکمت عملی کے تحت نکالی جا رہی ہیں ۔کیونکہ دنیا جانتی ہے کہ آج عالمی میڈیا پر سب سے زیادہ گرفت یہودی لابی کا ہے اور اس نئے دور میں کہنے کو تو جدید ٹیکنالوجی لوجی کی ریل پیل ہے لیکن سب کچھ بک رہا ہے اور اس کے خریدار بھی موجود ہیں ۔لیکن ان صارفین میں عام لوگوں کا شمار نہیں ہوتا اور نہ ہی عام ممالک کا جس میں بھارت بھی شامل ہے۔اور یہی وجہ ہے کہ کہ یہاں کے تمام ٹی وی چینل اسرائیل کو کامیاب کروا رہے ہیں اور سوشل میڈیا والے ایران کو ۔لیکن جو سچ ہے اس کی خبر کسی کو نہیں ۔سارے تیر ہوا میں چھوڑے جارہے ہیں ۔اور اگر ایسا نہ ہوتا تو پھر بھارت کی میڈیا ہر روز گلا پھاڑ کر یہ اعلان نہ کرتی کہ بس گھنٹے دو گھنٹے میں اس جن میں ٹرمپ کودنے والے ہیں اور پھر ایران کا دنیا کے نقشہ سے مٹ جانا یقینی ہے ۔جبکہ سچ یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی شخصیت جتنی متنازع ہے، ان کی خارجہ پالیسی بھی اتنی ہی جارحانہ رہی ہے، خصوصاً مشرق وسطیٰ کے تناظر میں۔ ٹرمپ نے اپنے دورِ صدارت میں ایران کے ساتھ سخت رویہ اپنایا، جس کی جھلک ہمیں جوہری معاہدے سے یکطرفہ علیحدگی، سخت اقتصادی پابندیوں، اور جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت میں دیکھی گئی۔ اس پس منظر میں یہ سوال ابھرتا ہے کہ اگر ٹرمپ ایران کو دشمن سمجھتے ہیں اور اسرائیل کی مکمل حمایت کرتے ہیں، تو وہ اسرائیل کی کسی ممکنہ جنگ میں شامل ہو کر ایران کا "خاتمہ” کیوں نہیں کر دیتے؟سب سے پہلے، ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ بین الاقوامی سیاست میں "خاتمہ” جیسے الفاظ صرف نعرے بازی یا انتخابی زبان تک محدود ہوتے ہیں۔ کسی ملک کا خاتمہ کرنا — خاص طور پر ایران جیسے قدیم، طاقتور اور علاقائی اثر و رسوخ رکھنے والے ملک کا — نہ صرف سیاسی طور پر خطرناک ہے بلکہ عسکری لحاظ سے بھی ایک پیچیدہ اور خطرناک عمل ہے۔
ٹرمپ اگرچہ اسرائیل کے قریب ترین اتحادی ثابت ہوئے، خاص طور پر یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے فیصلے کے ذریعے، لیکن ان کی حکمت عملی مکمل جنگ سے زیادہ اقتصادی دباؤ اور "ڈیل میکنگ” پر مبنی رہی ہے۔ وہ جنگوں سے زیادہ معاہدوں کے ذریعے فائدہ حاصل کرنے کے قائل رہے ہیں، جس کا اظہار انہوں نے شمالی کوریا سے لے کر افغانستان تک کیا۔ ایران کے خلاف بھی ان کا ہدف اس کی اقتصادی کمر توڑ کر اسے میز پر لانا تھا، نہ کہ فوجی مداخلت سے اس کا خاتمہ۔دوسری جانب، ایران صرف ایک ملک نہیں بلکہ ایک نظریاتی ریاست ہے جس کے خطے میں وسیع پیمانے پر حمایتی گروہ موجود ہیں، جیسے حزب اللہ، حوثی باغی، اور عراق و شام میں شیعہ ملیشیا۔ ایران پر حملہ پورے خطے کو آگ میں جھونک سکتا ہے، جس کا خمیازہ صرف اسرائیل یا امریکہ کو نہیں، بلکہ عالمی معیشت کو بھی بھگتنا پڑے گا، خاص طور پر تیل کی ترسیل کے حوالے سے۔تیسری بات یہ ہے کہ امریکہ میں بھی جنگی پالیسی پر شدید اندرونی مخالفت موجود ہے۔ امریکی عوام افغانستان اور عراق کی طویل جنگوں سے تنگ آ چکے ہیں، اور ٹرمپ خود اپنے انتخابی وعدوں میں ’لامحدود جنگوں کا خاتمہ‘ چاہتے تھے۔ ایران سے براہِ راست جنگ امریکی عوام میں مقبول نہیں اور ٹرمپ جیسے سیاستدان اس عوامی رجحان کو نظرانداز نہیں کر سکتے۔آخری اور اہم بات یہ ہے کہ اگرچہ ٹرمپ اسرائیل کے سب سے بڑے ہمدرد ہیں، لیکن ان کا پہلا ہدف ہمیشہ "امریکہ فرسٹ” رہا ہے۔ وہ اسرائیل کی جنگ کو امریکہ کی جنگ بنانے کے قائل نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ایران پر حملے کی بارہا دھمکیاں دیں، لیکن کبھی کھلے عام فوجی تصادم کی راہ اختیار نہیں کی ۔ٹرمپ کا ایران کے "خاتمے” میں شریک نہ ہونا دراصل ایک سوچا سمجھا سیاسی و عسکری فیصلہ تھا، نہ کہ کمزوری کی علامت۔ وہ ایران کو سبق سکھانا چاہتے تھے، مگر مکمل تباہی کی راہ پر نہیں جانا چاہتے تھے۔ عالمی توازن، داخلی سیاست، معاشی مفادات، اور خطے کے ممکنہ ردعمل کو دیکھتے ہوئے، ایران کے خلاف کھلی جنگ نہ چھیڑنا ہی دراصل دانشمندی تھی — چاہے اسے ظاہری طور پر کمزوری سمجھا جائے یا موقع پرستی۔
شعیب رضا فاطمی











