نئی دہلی، (یو این آئی) وزارت پیٹرولیم اور قدرتی گیس کے مطابق، ہندوستان میں گھریلو ایل پی جی کی قیمتیں پڑوسی ممالک جیسے پاکستان (1,046 روپے)، سری لنکا (1,242 روپے) اور نیپال (1,208 روپے) کے مقابلے میں دنیا میں سب سے کم ہیں۔وزارت پیٹرولیم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، کمرشل ایل پی جی سلنڈروں کی قیمتیں، جو صنعتوں اور ہوٹلوں میں استعمال ہوتے ہیں، ڈی ریگولیٹڈ (آزاد) اور مارکیٹ کی بنیاد پر طے ہوتی ہیں، اور عام طور پر ماہانہ بنیادوں پر ان پر نظر ثانی کی جاتی ہے۔ ملک میں مجموعی طور پر استعمال ہونے والی ایل پی جی میں ان کا حصہ 10 فیصد سے بھی کم ہے۔”بدھ کو قیمتوں میں اضافے کے اعلان پر ردعمل دیتے ہوئے وزارت نے کہا، "یکم اپریل کو کمرشل سلنڈر کی قیمتوں میں اضافہ سعودی کنٹریکٹ پرائس میں 44 فیصد اضافے کی وجہ سے ہوا ہے، جو مارچ میں 542 ڈالر فی میٹرک ٹن سے بڑھ کر اپریل کے لیے 780 ڈالر فی میٹرک ٹن ہو گئی ہے، کیونکہ عالمی ایل پی جی سپلائی کا 20 سے 30 فیصد حصہ آبنائے ہرمز میں پھنسا ہوا ہے۔”وزارت نے مزید کہا کہ گھریلو صارفین کو مکمل تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے، جہاں 14.2 کلوگرام کے گھریلو سلنڈر کی قیمت 913 روپے اور پی ایم یو وائی کے مستفید ین کے لیے سلنڈر کی قیمت 613 روپے پر برقرار ہے، جن میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔بیان میں کہا گیا، "موجودہ قیمتوں پر تیل کمپنیوں کو فی سلنڈر 380 روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ مئی کے آخر تک مجموعی نقصانات تقریباً 40,484 کروڑ روپے تک پہنچنے کی توقع ہے۔ گزشتہ سال 60,000 کروڑ روپے کے کل نقصانات میں سے 30,000 کروڑ روپے سرکاری تیل کمپنیوں نے اور 30,000 کروڑ روپے حکومت ہندوستان نے برداشت کیے تاکہ ہندوستانی شہریوں کو بین الاقوامی سطح پر ایل پی جی کی بلند قیمتوں سے بچایا جا سکے۔”پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کے بارے میں، جن میں مغربی ایشیا کے تنازع کی وجہ سے اضافہ ہو سکتا ہے، وزارت پیٹرولیم نے کہا کہ دہلی میں پیٹرول کی قیمت 94.77 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت 87.67 روپے فی لیٹر پر برقرار ہے۔وزارت نے واضح کیا، "گزشتہ ایک ماہ میں عالمی سطح پر پیٹرولیم کی قیمتوں میں 100 فیصد تک اضافے کے باوجود، سرکاری تیل کمپنیوں کو یکم اپریل 2026 تک خردہ فروخت کی سطح پر پیٹرول پر 24.40 روپے فی لیٹر اور ڈیزل پر 104.99 روپے فی لیٹر کا خسارہ ہو رہا ہے۔












