• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
بدھ, مارچ 4, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home اداریہ ؍مضامین

غمخوار ملت ڈاکٹر منظور عالم

Hamara Samaj by Hamara Samaj
جنوری 20, 2026
0 0
A A
غمخوار ملت ڈاکٹر منظور عالم
Share on FacebookShare on Twitter

(13 ؍ جنوری2026) جب ڈاکٹر منظور عالم صاحب کے انتقال کی خبر ملی تو دل پر جو بیتی، وہ دل ہی جانتا ہے۔ اگرچہ وہ کئی برسوں سے علیل تھے اور گزشتہ چند مہینوں میں ان کی بیماری میں خاصی شدت آ گئی تھی، یہاں تک کہ آخری ایام میں انہیں وینٹی لیٹر پر منتقل کرنا پڑا، اس لیے ذہن کسی حد تک اس خبر کے لیے تیار تھا، مگر اس کے باوجود اس سانحے نے دل و دماغ کو گہرا صدمہ پہنچایا۔
ڈاکٹر محمد منظور عالم کا شمار ان دانش وروں میں ہوتا ہے جن کی زندگی محض ذاتی علمی ارتقا تک محدود نہیں رہی، بلکہ جنہوں نے علم کو سماجی ذمہ داری، فکر کو عمل اور نظریے کو ادارہ سازی کے قالب میں ڈھال کر پیش کیا۔ وہ ایک ایسے دور میں سامنے آئے جب ہندوستانی مسلمان آزادی کے بعد کی نئی سیاسی، سماجی اور فکری صورتِ حال سے دوچار تھے اور انہیں محض جذباتی وابستگی کے بجائے منظم علمی تیاری اور معروضی تجزیے کی اشد ضرورت تھی۔ ڈاکٹر محمد منظور عالم کی زندگی اسی ضرورت کا عملی جواب بن کر سامنے آتی ہے۔
ڈاکٹر منظور عالم صاحب نے عصرِ حاضر اور وقت کے تقاضوں کو سامنے رکھ کر قوم و ملت کے لیے بے شمار اہم اور دور رس خدمات انجام دیں۔ انہوں نے اہلِ علم کے لیے نہایت اہم اور وقیع موضوعات پر سیمینار منعقد کرائے اور دانشوروں کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیا۔ 1982 میں ایک نہایت اہم سیمینار عربی مدارس میں عصری علوم کی تدریس کے موضوع پر منعقد ہوا، جس میں انہوں نے مجھے بھی مدعو فرمایا۔ یہ سیمینار دہلی کے ایک بڑے ہوٹل میں منعقد ہوا تھا، جس کی صدارت قاضی مجاہد الاسلام قاسمی صاحب نے فرمائی۔ اس میں پروفیسر یاسین مظہر صدیقی، مولانا سید حامد علی اور مقتدی حسن ازہری جیسی ممتاز علمی شخصیات بھی شریک تھیں۔
میرے علم کے مطابق یہ اس موضوع پر اپنی نوعیت کا پہلا سنجیدہ اور وقیع سیمینار تھا، جس میں اس بات پر تفصیلی غور و فکر کیا گیا کہ مدارس کے نصاب میں عصری علوم کو کس حد تک اور کس انداز میں شامل کیا جائے، تاکہ نہ تو مدارس کا اصل مقصد فوت ہو اور نہ ہی وہاں زیرِ تعلیم طلبہ جدید علوم سے نابلد رہیں۔ چنانچہ غور و خوض کے بعد کئی اہم فیصلے کیے گئے۔ یہ ڈاکٹر منظور عالم صاحب سے میری بالمشافہ پہلی ملاقات تھی۔ اگرچہ میں پہلے ہی ان کی علمی و ملی سرگرمیوں سے واقف تھا، اور یہ بھی جانتا تھا کہ وہ ابتدائی دور میں اس طلبہ تنظیم سے وابستہ رہے تھے جس سے میری بھی وابستگی رہی ہے۔
غالباً 1995ء کی بات ہے جب مجھے معلوم ہوا کہ ملی کونسل کی جانب سے بجنور میں ایک ریلی نکالی جا رہی ہے، جو سہنس پور سے شروع ہو کر شہر بجنور میں اختتام پذیر ہونی تھی۔ یہ تین روزہ ریلی تھی، جس میں مولانا اسرار الحق قاسمی صاحب،کمال فاروقی صاحب اور مولانا عبداللہ مغیثی صاحب بھی شامل تھے۔ میں سہنس پور سے ہی اس وفد میں شامل ہو گیا۔اس طرح مجھے اپنے وقت کی تین اہم شخصیات کے ساتھ اسٹیج شیئر کرنے کا موقع ملا۔
سہنس پور سے براہِ راست دھام پور کا پروگرام تھا، سیوہارہ میں کوئی پروگرام طے نہیں تھا، تاہم میں نے سیوہارہ کی شاہی جامع مسجد میں ان حضرات کا ایک اجتماع رکھوا دیا، جہاں ان کی تقاریر ہوئیں۔ ان دنوں مولانا عبدالجلیل صاحب بھٹہ والے جمعیۃ علماء یوپی کے صدر تھے۔ وہ علیل تھے۔ یہ وفد مولانا عبدالجلیل صاحب کی عیادت کے لیے ان کے گھر بھی گیا۔
پروگرام کے بعد یہ معزز وفد ہمارے غریب خانے پر تشریف لایا، جہاں دوپہر کا کھانا تناول فرمایا، کچھ دیر آرام کیا، اور پھر ہم سب دھام پور کے لیے روانہ ہوئے۔ رات کا پروگرام نگینہ میں تھا اور قیام بھی وہیں رہا۔ میں نے بھی اس رات ان کے ساتھ نگینہ میں قیام کیا۔ صبح کے وقت میں واپس آ گیا، جبکہ یہ حضرات بجنور کے لیے روانہ ہو گئے۔ اس طرح مجھے ان تینوں اکابر شخصیات سے تفصیلی تبادلۂ خیال، مشاورت اور قربت کا موقع ملا، اور میں نے انہیں قریب سے سمجھا۔
یہ پورا پروگرام ڈاکٹر منظور عالم صاحب ہی کی کوششوں کا نتیجہ تھا۔ انہوں نے بجنور کی عظمتِ رفتہ کی بحالی، تعلیمی بیداری اور اتحادِ بین المسلمین کے فروغ کے لیے اس ریلی کا اہتمام کیا تھا۔ اس مہم کا بنیادی مقصد ہی تعلیمی آگہی پیدا کرنا اور مسلمانوں کو متحد کرنا تھا، چنانچہ ہر مقام پر اسی موضوع پر گفتگو ہوئی اور عوام کو تعلیم کی طرف متوجہ کیا گیا۔
ڈاکٹر منظور عالم صاحب کی نگاہ ہندوستان کے مختلف علاقوں پر رہتی تھی، اور وہ متنوع جہات سے وہاں کام کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے متعدد علمی منصوبے انجام دیے، خصوصاً فقہ اکیڈمی کے تحت الموسوعۃ الفقہیۃ—جو کویت سے عربی زبان میں کئی جلدوں میں شائع ہوئی تھی—کا اردو ترجمہ ہندوستان میں کرایا۔ یہ ان کا ایک عظیم علمی کارنامہ ہے، جس کے ذریعے فقہ کے عصری مسائل کو سمجھنے اور ان پر غور و فکر کرنے کے مواقع علما کو میسر آئے۔
اسی طرح انہوں نے فقہی میدان میں ایک اور نہایت اہم خدمت یہ انجام دی کہ فقہی سیمیناروں کا ایک منظم سلسلہ شروع کیا، جس کی ذمہ داری قاضی مجاہد الاسلام قاسمی صاحب کو سونپی گئی۔ ان کی رہنمائی میں منعقد ہونے والے یہ فقہی سیمینار نہایت کامیاب رہے اور اپنے وقت کی ایک بڑی ضرورت کی تکمیل کا ذریعہ بنے۔ الحمدللہ، یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ عصرِ حاضر کے اہم مسائل پر یہ سیمینار منعقد ہوتے ہیں، جن میں ملک و بیرونِ ملک سے جید فقہاء اور علما شرکت کرتے ہیں، اور بحث و تمحیص کے بعد اجتماعی فیصلے سامنے آتے ہیں۔
یہ وقت کا ایک بڑا چیلنج تھا، جسے ڈاکٹر منظور عالم صاحب نے نہ صرف محسوس کیا بلکہ اس کے حل کی عملی صورت بھی پیش کی۔ وہ ایک یونیورسٹی قائم کرنے کا خواب بھی رکھتے تھے، جس کے لیے انہوں نے ایک بڑی آراضی بھی خریدی تھی۔ یہ منصوبہ کہاں تک پہنچا، اس کی مجھے مکمل اطلاع نہیں، کیونکہ اپنی تعلیمی، تصنیفی اور صحافتی مصروفیات کے باعث بعد کے زمانے میں ان سے ملاقات اور ان کی سرگرمیوں سے براہِ راست واقفیت ممکن نہ ہو سکی۔
ڈاکٹر محمد منظور عالم 9 اکتوبر 1945 کو ریاست بہار میں ایم عبدالجلیل کے گھر پیدا ہوئے۔ ان کا خاندانی ماحول سادگی، محنت اور اخلاقی اقدار سے عبارت تھا۔ یہی ابتدائی تربیت آگے چل کر ان کی شخصیت میں وقار، ضبط اور مقصدیت کی صورت میں ظاہر ہوئی۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم ہندوستان ہی میں حاصل کی، جہاں ان کی فطری ذہانت اور مطالعے کا شوق جلد نمایاں ہونے لگا۔ کم عمری ہی سے انہیں سماج کے مسائل، معاشی ناہمواری اور انسانی محرومیوں نے متوجہ کیا، جو بعد میں ان کے علمی اور عملی سفر کا مرکزی موضوع بن گئے۔
اعلیٰ تعلیم کے لیے انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا انتخاب کیا، جو محض ایک تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ ہندوستانی مسلمانوں کی فکری روایت اور سماجی شعور کا ایک اہم مرکز رہی ہے۔ یہاں انہوں نے معاشیات جیسے سنجیدہ اور ہمہ گیر مضمون میں تخصص اختیار کیا اور بالآخر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ علی گڑھ کے علمی ماحول نے ان کی فکر کو وسعت دی اور انہیں یہ احساس دلایا کہ معاشیات محض اعداد و شمار کا علم نہیں بلکہ انسانی زندگی، سماجی انصاف اور اخلاقی نظم سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔
دورانِ تعلیم ہی ان کی دل چسپی اسلامی سماجی علوم، معاشی اصلاحات اور علم کے ذریعے سماجی تبدیلی کے امکانات کی طرف بڑھتی چلی گئی۔ وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ جدید دنیا کے مسائل کو نہ تو محض مغربی فکری سانچوں کے ذریعے سمجھا جا سکتا ہے اور نہ ہی روایتی بیانیے سے حل کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے ایک ایسے فکری زاویے کی ضرورت ہے جو اسلامی اخلاقی اقدار اور جدید سماجی علوم کے درمیان بامعنی مکالمہ قائم کرے۔ یہی زاویۂ نظر آگے چل کر ان کی زندگی بھر کی فکری جدوجہد کا محور بنا۔
تعلیم مکمل کرنے کے بعد ڈاکٹر محمد منظور عالم نے جس پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا، وہ غیر معمولی وسعت اور تنوع کا حامل تھا۔ انہوں نے سعودی عرب کی وزارتِ خزانہ میں معاشی مشیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ اس ذمہ داری کے دوران انہیں ریاستی سطح پر معاشی پالیسی سازی، مالی نظم و نسق اور ترقیاتی ترجیحات کو قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملا۔ یہ تجربہ ان کے لیے نہایت قیمتی ثابت ہوا، کیونکہ اس نے ان کی فکر کو زمینی حقائق اور عملی تقاضوں سے ہم آہنگ کیا۔
بعد ازاں وہ ریاض کی امام محمد بن سعود یونیورسٹی میں اسلامی معاشیات کے ایسوسی ایٹ پروفیسر مقرر ہوئے۔ یہاں ان کا کردار محض تدریسی نہیں تھا، بلکہ وہ ایک ایسے معلم کی حیثیت سے سامنے آئے جو طلبہ کو اسلامی معاشی فکر کی روح سے آشنا کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسلامی معاشیات کوئی جامد یا ماضی کی یادگار نہیں، بلکہ ایک زندہ فکری روایت ہے جو جدید دنیا کے معاشی مسائل کا اخلاقی اور انسانی حل پیش کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
مدینہ منورہ کے کنگ فہد پرنٹنگ کمپلیکس میں قرآنِ مجید کے تراجم کے چیف کوآرڈینیٹر کی حیثیت سے ان کی خدمات ایک مختلف مگر نہایت اہم نوعیت کی تھیں۔ اس منصب پر فائز رہتے ہوئے انہوں نے بین الاقوامی سطح پر قرآن کے تراجم کے علمی معیار، لسانی دقت اور فکری دیانت کو یقینی بنانے میں کردار ادا کیا۔ یہ ذمہ داری ان کی علمی گہرائی اور انتظامی صلاحیت دونوں کا امتحان تھی، جس میں وہ پوری طرح کامیاب نظر آتے ہیں۔
ملائشیا کی انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی میں انہوں نے ہندوستان کے چیف نمائندے کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ اس کردار میں وہ صرف ایک سرکاری نمائندہ نہیں تھے، بلکہ ایک فکری رابطہ کار تھے جنہوں نے ہندوستانی مسلمانوں اور عالمی اسلامی علمی حلقوں کے درمیان پل کا کردار ادا کیا۔ اسی طرح اسلامی ترقیاتی بینک کے اسکالرشپ پروگرام کمیٹی کے رکن کی حیثیت سے انہوں نے مسلم دنیا کے نوجوانوں کے لیے اعلیٰ تعلیم کے مواقع پیدا کرنے میں عملی حصہ لیا۔
ڈاکٹر محمد منظور عالم کی شخصیت کا ایک نہایت اہم پہلو ان کی ادارہ سازی کی صلاحیت تھی۔ وہ اس حقیقت سے بخوبی واقف تھے کہ علمی و سماجی تبدیلی محض افراد کے ذریعے نہیں بلکہ مضبوط اداروں کے ذریعے ممکن ہوتی ہے۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز کی بنیاد رکھی۔ یہ ادارہ ان کے وژن کا عملی اظہار تھا، جس کا مقصد مسلمانوں کے مسائل کو معروضی تحقیق، علمی تجزیے اور سنجیدہ مکالمے کے ذریعے سمجھنا اور پیش کرنا تھا۔
انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز کے ذریعے انہوں نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر تحقیقاتی منصوبے، علمی سمینارز اور کانفرنسیں منعقد کیں۔ ان سرگرمیوں کا مقصد محض علمی سرگرمی نہیں بلکہ ایک ایسا فکری ماحول پیدا کرنا تھا جہاں مسلمان اپنے مسائل کو خود سمجھ سکیں اور دوسروں کے سامنے باوقار علمی زبان میں رکھ سکیں۔ یہ ادارہ آہستہ آہستہ ہندوستانی مسلمانوں کے فکری منظرنامے کا ایک معتبر حوالہ بن گیا۔
اسی کے ساتھ ساتھ وہ آل انڈیا ملی کونسل کے جنرل سکریٹری رہے، مسلم سوشل سائنسز ایسوسی ایشن کے صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں، اور فقہ اکیڈمی، انڈین ایسوسی ایشن آف مسلم سوشل سائنسٹس، انڈو عرب اکنامک کوآپریشن فورم اور متعدد عالمی مشاورتی بورڈز سے وابستہ رہے۔ ان تمام ذمہ داریوں میں ان کا انداز فعال، مشاورتی اور فکری تھا، نہ کہ محض رسمی۔
ڈاکٹر محمد منظور عالم کی علمی اور ادارہ جاتی خدمات کو سمجھنے کے لیے ان کے ذاتی اوصاف کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ وہ غیر معمولی قیادت اور تنظیمی صلاحیت کے حامل تھے، مگر ان کی قیادت کا انداز حکم چلانے کے بجائے اعتماد پیدا کرنے پر مبنی تھا۔ وہ افراد کو محض وسائل نہیں سمجھتے تھے بلکہ انہیں شریکِ سفر بناتے تھے۔ منصوبہ بندی، ترجیحات کے تعین اور افراد کی درست صلاحیتوں کے مطابق ذمہ داری سونپنے میں ان کی بصیرت نمایاں تھی، جس کے نتیجے میں ادارے محض وقتی سرگرمیوں کے مراکز نہیں بلکہ مستقل فکری پلیٹ فارم بن سکے۔
محروم اور کمزور طبقات کے لیے ان کے دل میں گہری ہمدردی اور عملی احساس موجود تھا۔ وہ سماجی نابرابری کو ایک نظری بحث کے بجائے انسانی وقار کا مسئلہ سمجھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی فکری کاوشوں میں انصاف، مساوات اور شمولیت کا تصور بار بار سامنے آتا ہے۔ وہ چاہتے تھے کہ علم اور مواقع صرف مراعات یافتہ طبقے تک محدود نہ رہیں بلکہ سماج کے ان حصوں تک بھی پہنچیں جو تاریخی طور پر نظرانداز ہوتے رہے ہیں۔اگر آپ صرف دو مصرعوں میں ان کی شخصیت کا تعارف کرانا چاہیں تو امیر مینائی کے درج شعر میں کراسکتے ہیں:۔
خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیرؔ
سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے
اخلاقیات ان کی فکر کا بنیادی ستون تھی۔ ان کے نزدیک علم اگر اخلاقی اقدار سے خالی ہو تو وہ سماج کو فائدہ نہیں بلکہ نقصان بھی پہنچا سکتا ہے۔ اسی لیے وہ تحقیق، تدریس اور پالیسی سازی—ہر سطح پر دیانت، شفافیت اور انسانی خیر کے اصولوں پر زور دیتے تھے۔ عوامی خدمت ان کے لیے کوئی اضافی سرگرمی نہیں بلکہ علم کا فطری تقاضا تھی۔ وہ ایک عالم و دانشور کو سماج سے کٹا ہوا نہیں بلکہ سماج کے لیے جواب دہ فرد سمجھتے تھے۔
ان تمام اوصاف کی بنیاد پر ان کا ایک واضح سماجی وژن ایک ایسے معاشرہ کا قیام تھا جو منصفانہ ہو، شمولیت پر قائم ہو اور جہاں اختلاف کو تصادم کے بجائے مکالمے کے ذریعے حل کیاجائے۔ وہ تنوع کو کمزوری نہیں بلکہ سماجی طاقت سمجھتے تھے، اور یہی وژن ان کی تحریروں، تقاریر اور ادارہ جاتی سرگرمیوں میں مسلسل جھلکتا رہا۔
ڈاکر منظور عالم 13 جنوری 2026 کو ہم سے رخصت ہوگئے۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔وہ اپنے پیچھے ایک علمی اثاثہ چھوڑ گئے۔ڈاکٹر محمد منظور عالم کی وراثت محض یادوں یا تعزیتی بیانات تک محدود نہیں، بلکہ اداروں، تربیت یافتہ افراد اور ایک زندہ فکری روایت کی صورت میں موجود ہے۔ انہوں نے یہ ثابت کیا کہ اگر علم کو مقصد، اخلاق کو رہنما اور خدمت کو نصب العین بنا لیا جائے تو ایک فرد بھی سماج اور تاریخ پر گہرا اثر چھوڑ سکتا ہے۔
اللہ تعالی مرحوم کی مغفرت فرمائے۔ان کی سیٔات کو حسنات میں مبدل فرمائے اور جنت میں اعلی مقام عطا فرمائے۔آمین۔

 

ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    چین کو ایک اور اتحادی کے نقصان کا سامنا

    چین کو ایک اور اتحادی کے نقصان کا سامنا

    مارچ 3, 2026
    حراست میں ڈاکٹر ماہ رنگ کی علالت پر تشویش

    حراست میں ڈاکٹر ماہ رنگ کی علالت پر تشویش

    مارچ 3, 2026
    ٹی 20 ورلڈ کپ میں ناقص کارکردگی، پاکستانی کھلاڑیوں پر بھاری جرمانہ عائد کرنے کا فیصلہ

    ٹی 20 ورلڈ کپ میں ناقص کارکردگی، پاکستانی کھلاڑیوں پر بھاری جرمانہ عائد کرنے کا فیصلہ

    مارچ 3, 2026
    ایف آئی ایچ ہاکی ورلڈ کپ 2026 کوالیفائر: حیدرآباد میں ٹکٹوں کی فروخت شروع

    ایف آئی ایچ ہاکی ورلڈ کپ 2026 کوالیفائر: حیدرآباد میں ٹکٹوں کی فروخت شروع

    مارچ 3, 2026
    چین کو ایک اور اتحادی کے نقصان کا سامنا

    چین کو ایک اور اتحادی کے نقصان کا سامنا

    مارچ 3, 2026
    حراست میں ڈاکٹر ماہ رنگ کی علالت پر تشویش

    حراست میں ڈاکٹر ماہ رنگ کی علالت پر تشویش

    مارچ 3, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist