خرطوم، (یو این آئی) سوڈان کے وسطی علاقے میں ایک مصروف بازار پر ڈرون حملے کے نتیجے میں کم از کم 28 افراد ہلاک ہو گئے، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیم ایمرجینسی لائرز نے واقعے کی تصدیق کی ہے۔رپورٹ کے مطابق یہ حملہ شمالی کردفان کے علاقے سوداری کے قریب الصفیہ مارکیٹ میں کیا گیا، جہاں اس وقت بڑی تعداد میں عام شہری موجود تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں خواتین، بچے اور بزرگ بھی شامل ہیں۔ تنظیم کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد ابتدائی ہے اور اس میں اضافے کا خدشہ موجود ہے۔یہ علاقہ اس وقت سوڈانی فوج اور نیم فوجی فورس آر ایس ایف کے درمیان شدید جھڑپوں کا مرکز بنا ہوا ہے۔ اپریل 2023 سے جاری اس خانہ جنگی میں دونوں فریق ایک دوسرے پر فضائی حملے کرتے رہے ہیں۔سوداری شمالی کردفان کا ایک دور افتادہ قصبہ ہے جو ریاستی دارالحکومت الابیض سے تقریباً 230 کلومیٹر شمال مغرب میں واقع ہے۔ کردفان کا علاقہ مشرق سے مغرب تک پھیلے اہم زمینی راستے کے باعث اس تنازع میں کلیدی اہمیت اختیار کر چکا ہے، جو دارفور کو خرطوم سے ملاتا ہے۔گزشتہ ہفتے بھی ایک اسکول پر حملے میں دو بچے ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے، جبکہ ایک اور واقعے میں اقوام متحدہ کے امدادی گودام کو شدید نقصان پہنچا تھا۔اپریل 2023 سے جاری اس جنگ میں دسیوں ہزار افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں اور تقریباً ایک کروڑ دس لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں، جس کے باعث سوڈان دنیا کے سنگین ترین انسانی بحرانوں میں شمار ہو رہا ہے۔ ملک عملاً دو حصوں میں منقسم ہے، جہاں فوج وسطی، شمالی اور مشرقی علاقوں پر قابض ہے جبکہ آر ایس ایف مغربی اور بعض جنوبی علاقوں پر کنٹرول رکھتی ہے۔












