عامر سلیم خان
نئی دہلی ،سماج نیوز سروس: انتخابی دنوں میں ایک بار پھر یکساں سول کوڈ (یوسی سی) پر بحث شروع کردی گئی ہے۔ مرکزی وزیرداخلہ امیت شاہ سمیت بی جے پی اقتدار والی کئی ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ یوسی سی کے نفاذ کیلئے کمیٹیاں اور پینل تشکیل دینے کی باتیں کررہے ہیں۔ اتراکھنڈ، گجرات، مدھیہ پردیش اورکرناٹک جیسی بی جے پی والی ریاستوں میں تیاریاں شروع ہو چکی ہیں۔ آسان الفاظ میں سمجھنے کیلئے یونیفارم سول کوڈ ایک ایسا قانون ہے جو مذہب، ذات اور برادری سے قطع نظر ملک کی ہر کمیونٹی پر یکساں طور پر لاگو ہوتا ہے۔لیکن جب بھی یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی باتیں کی جاتی ہیں تو بی جے پی لیڈرو ںکے اشارے یا کھلے الفاظ میں بیانات یہی ہوتے ہیں کہ مسلمان چار شادیوں کیلئے کیوں مجاز ہیں جبکہ دیش ایک ہے اور سیکولربھی ہے؟ ۔ سال رواں کے ماہ جولائی میں پارلیمنٹ میں مرکزی وزیر قانون کرن رججو نے بھی کہا تھا کہ نریند رمودی سرکار یکساں سول کوڈ نافذ کرنے کیلئے پرعزم ہے۔
ملک میں مختلف مذاہب اپنے انفرادی عائیلی اور شخصی قوانین کے تحت چلتے ہیں۔ مثال کے طور پر، ہندو مت، جین مت، بدھ مت اور سکھ مت کے پیروکاروں کے درمیان شادیاں ہندو میرج ایکٹ 1955 کے تحت کی جاتی ہیں۔ اسی طرح عیسائی اور پارسی شادیوں پر بالترتیب انڈین کرسچن میرج ایکٹ 1872 اور پارسی میرج اینڈ ڈیوورس ایکٹ 1936 کے تحت انتظام کیا جاتا ہے۔ اسی طرح مسلمانوں میں شادیاں مسلم پرسنل لاء(شریعت) ایپلی کیشن ایکٹ 1937 کے تحت کی جاتی ہیں۔ ملک میں مختلف طبقات کے پرسنل لاز زیادہ تر ان کے مذہب کے تحت چل رہے ہیں۔ مسلمانوں کی مخالفت کی دلیل یہ ہے کہ یو سی سی نفاذ کے بعد شادی، طلاق، وراثت اورگود لینے وغیرہ پر تمام مذہبی طبقات کو متاثر کرے گا، لیکن سیاسی وجوہات کی بناء پر اس مسئلے کو ایسے اٹھایا جارہا ہے جیسے اس کا اثر صرف مسلم طبقہ ہی پر پڑے گا۔
مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے یکساں سول کوڈ کے نفاذ کے بیان کے بعد مدھیہ پردیش کے وزیراعلی اور کرناٹک کے وزیراعلی نے لنگوٹ کس لیا ہے اور یوسی سی لاگو کرنے میں بڑی عجلت کامظاہرہ کررہے ہیں۔ اسی طرح اتراکھنڈ اور یوپی کی سرکاریں یو سی سی کے نفاذ پر بیانات دیتی رہی ہیں۔ مرکزی وزیر قانون کرن رججو بھی اکثر وبیشتر اس پر بیانات دیتے رہے ہیں۔ دلچسپ پہلو یہ ہے کہ جب بھی انتخابی سیزن ہوتا ہے تو یو سی سی کا بھوت بوتل سے باہر آجاتا ہے۔ فی الحال دہلی ایم سی ڈی اور گجرات اسمبلی انتخابات ہورہے ہیں جن کیلئے یہ فارمولے آزمائے جارہے ہیں اور آنے والے مہینوں میں کچھ اور ریاستوں میں انتخابات ہونیوالے ہیں۔ چونکہ یکساں سول کوڈ کا فارمولہ بی جے پی کیلئے انتخابی مفاد میں کارگر رہاہے اس لئے ایسے معاملات اٹھاتے رہتے ہیں۔ ادھر مسلم تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ بیانات انتخابی دنوں اس لئے آتے ہیں تاکہ انتخابی فائدہ اٹھایا جاسکے اور بقیہ دنوں میں اس لئے ایسے بیانات آتے ہیں تاکہ مہنگائی اور بیروزگاری سمیت ملک کے دیگر مسائل سے لوگوں کا ذہن ڈائیورٹ کیا جاسکے۔
میڈیا کا ایک خاص طبقہ جسے مسلمانوں سے جنم کی دشمنی ہے وہ یوسی سی پر خبریں کچھ اس انداز میں پیش کرتا ہے گویا مسلمان چار شادیوں میں مست ہیںاور پورے دیش کیلئے ایک قانون ہے جبکہ ان کیلئے دوسرا قانون ہے، جبکہ سچائی یہ ہے کہ صرف عائیلی قوانین تک مذہبی قوانین محدود ہوتے ہیں اور تعزیزی قوانین میں ملک کے سبھی لوگ یکساں ہوتے ہیں اور ان پر مجرمانہ قوانین ایک طرح سے لاگو ہوتے ہیں۔ علاوہ ازیں رپورٹس بتاتی ہیں کہ مسلمانوں سے زیادہ دیگر طبقات میں شادیوں اور طلاق کارواج ہے۔یکساں سول کوڈ آئین ہند کے آرٹیکل 44 کے تحت آتا ہے اور اس میں ایسے ذاتی قوانین متعارف کرانے کی تجویز ہے جو مذہب، جنس، ذات وغیرہ سے قطع نظر تمام شہریوں پر یکساں طور پر لاگو ہوں۔ یہ بات بھی سمجھنی چاہئے کہ آرٹیکل 44 ریاستی پالیسی کے ہدایتی اصولوں کے تحت آتا ہے، ان کو صرف رہنما اصول سمجھا جاتا ہے اور ان کا استعمال لازمی نہیں ہے۔اس کے باوجود بار بار یہ شوشہ چھوڑا جاتا ہے۔












