بلاشبہ اللہ سبحانہ وتعالی اپنے فیصلے میں علیم وحکیم ہے اور اسی طرح وہ شرعی احکام کی تنفیذ میں بھی انتہائی علیم وحکیم ہے، وہ جو چاہے اور جیسا چاہے اپنا فیصلہ صادر فرمائے، وہ گاہے بگاہے اپنی نشانیوں کا ظہور فرماتا رہتا ہے اور اسے اپنے بندوں کے لیے نصیحت وعبرت کا باعث بناتا ہے اور اس نے اپنے بندوں پر جو احکامات واجب کیے ہیں ان کی یاددہانی کرانے کا باعث بناتا ہے۔ اس طرح کے عبرت آموز واقعات و حادثات اس بات کا غماز ہوتے ہیں کہ بندے اپنے رب کے اوامر کی مخالفت نہ کریں اور منع کی ہوئی چیزوں کا ارتکاب نہ کریں، جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالی نے اپنے اس فرمان میں ذکر کیا ہے :ہم تو لوگوں کو ڈرانے کے لیے ہی نشانیاں بھیجتے ہیں۔[ سورۃ الاسراء آیت: 59 ]اور دوسرے مقام پر کچھ اس طرح فرمایا :آپ کہئیے کہ اس پر بھی وہی قادر ہے کہ تم پر کوئی عذاب تمہارے لئے بھیج دے یا تو تمہارے پاؤں تلے سے یا کہ تم کو گروہ گروہ کر کے سب کو بھڑا دے اور تمہارے ایک کو دوسرے کی لڑائی چکھا دے [سورۃالانعام آیت 65]اس میں کوئی شک نہیں کہ ان دنوں شام اور ترکی میں جو زلزلے آئے وہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں جن سے اللہ کی عظمت اور قوت کا اظہار ہوتا ہے کہ یہ پوری کائنات اللہ کے قبضہ میں ہے، جس میں زمین ہے، آسمان ہے، سورج ہے، چاند ہے، جنات ہیں، انسان ہیں، حیوانات ہیں نباتات ہیں، سمندر ہیں پہاڑ ہیں، یہ سب کی سب اسی کے قبضہ میں ہے وہ جب چاہے زمین کو حرکت دے سکتا ہے، کوئی اس کے فیصلے کو روکنے والا نہیں ہے۔آج جو لوگ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں زمین پر خدا بن بیٹھے ہیں وہ آنکھیں کھولیں، جو لوگ شرک کے دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں اس سے توبہ کریں، جو لوگ اللہ کی غیرت کو چیلنج کر رہے ہیں وہ اب بھی پلٹ آئیں۔ در حقیقت یہ الٹی میٹم ہے جسے پانے کے باوجود اللہ کی طرف نہیں آئے تو اللہ تعالی کے ہاں ایسے لوگوں کی ہلاکت یقینی ہو جاتی ہے۔ آج کتنے ایسے لوگ ہیں جو شرک میں پھنسے ہوئے ہیں، کتنے ایسے لوگ ہیں جو بدعات میں پھنسے ہوئے ہیں، کتنے ایسے لوگ ہیں جو نماز سے غافل ہیں، کتنے ایسے لوگ ہیں جو زنا میں ملوث ہیں، کتنے ایسے لوگ ہیں جو سودی کاروبار کے دلدادہ اور رشوت لینے میں آگے ہیں۔ کیا ایسے لوگ اللہ کے عذاب سے بچ سکتے ہیں؟ آج نہیں تو کل آپ کا حساب لیا جائے گا پھر اللہ کی پکڑ سے آپ کو کوئی بچا نہیں سکتا۔ ہم اس زلزلے سے قیامت کے دن کے زلزلے کو یاد کریں۔ جو دن بچوں کو بوڑھا کردے گا، جس دن دودھ پلاتی مائیں اپنے بچے کو بھول جائیں گی، جس دن حاملہ عورتوں کا حمل گر جائے گا، لوگ مدہوشی کی حالت میں ہوں گے۔ حالاں کہ وہ اصل میں مدہوش نہ ہوں گے بلکہ اللہ کا عذاب ہی سخت ہوگا۔زلزلوں کوآپ نے سوشل میڈیا پر دیکھا ہوگا کہ لوگوں پر کیسی وحشت اور ہولناکی چھائی ہوتی ہے۔ زلزلہ کیا قیامت کا ہولناک اور روح فرسا منظر پیش کر رہا ہوتا ہے۔ گویا ایک انسان کو چاہیے کہ ایسی چھوٹی تباہی کو دیکھ کر قیامت کے دن کی تیاری شروع کردے۔ اللہ سے ڈرے۔ اس کی پکڑ سے خوف کھائے، اپنے احوال کی سدھار کرلے، سچی توبہ کرے، اللہ سے گڑگڑائے اور لو لگائے، معاشرے اور سماج میں جو برائیاں پنپ رہی ہیںان پر روک لگائے، ان پر نکیر کرے، معاشرے میں نیکی کا چلن ہو اور برائی کی حوصلہ شکنی ہو، اور اگر ہم نے دوسروں کے حقوق مارے ہیں، دوسروں پر زیادتی کی ہے، دوسروں کو ستایا ہے تو ان سے معافی مانگیں۔ اور بکثرت صدقات و خیرات کریں یعنی معاشرے کے غرباء ومساکین کی اعانت اور مدد کریں۔ اللہ تعالی سے دعائیں کریں اور اللہ پر بھروسہ رکھیں، کثرت سے توبہ واستغفار کریں۔اللہ ہم سب کی اصلاح فرمائے۔ آمین!












