غزہ کی پٹی میں اسرائیلی جنگ کو 9 ماہ ہونے کے قریب ہیں، بڑے پیمانے پر تباہ شدہ پٹی میں اسرائیلی بمباری اور لڑائی بدستور جاری ہے۔
مصر نے بارہا اس بات کی تصدیق کی کہ اسرائیل کی جانب سے پٹی کی سب سے جنوبی رفح سرحدی راہداری کی عسکریت اس کی بندش کا باعث بنی اور امدادی ٹرکوں کے داخلے میں رکاوٹیں پیدا ہوئیں۔
آج اس نے اسرائیلی اقدامات کو مسترد کرتے ہوئے اپنے مؤقف کا اعادہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ تل ابیب فلسطینیوں پر دباؤ کا ماحول پیدا کرتا ہے۔
مصر کے وزیرِ خارجہ سامح شکری نے آج بدھ کو قاہرہ میں اپنے یمنی ہم منصب شائے محسن الزندانی سے ملاقات کے دوران کہا کہ رفح راہداری پر اسرائیل کا کنٹرول انسانی امداد کی روانی میں تعطل کا باعث بنا۔
انہوں نے واضح کیا کہ غزہ کی پٹی پر جنگ مغربی کنارے اور یروشلم کی صورتِ حال سے الگ تھلگ نہیں ہے۔
مصری وزیرِ خارجہ نے جاری کشیدگی کے اثرات سے بھی خبردار کیا اور اس بات پر زور دیا کہ اس سے تنازع کے بڑھتے ہوئے خطرات کی نشاندہی ہوتی ہے جس کے خطے کی سلامتی اور استحکام پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
یہ قابلِ ذکر ہے کہ قاہرہ نے غزہ کی پٹی کے ساتھ رفح سرحدی راہداری چلانے سے انکار کر دیا جب تک اس راہداری کے فلسطینی جانب سے اسرائیلی انخلاء نہ ہو۔ فلسطینی حصہ اس پٹی کے لیے ایک اہم شریان ہے اور تقریباً نو ماہ سے جاری جنگ اور اسرائیلی محاصرے کی روشنی میں یہاں قحط کا خطرہ ہے۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو کی جانب سے پوری پٹی پر فوجی قبضہ جاری رکھنے کی دھمکی کے بعد مصر کی جانب سے یہ تصدیق سامنے آئی ہے۔












