• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
جمعہ, مارچ 20, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home اداریہ ؍مضامین

عید الفطر: بندگی کی تکمیل، شعور کی آزمائش اور موجودہ حالات میں حکمتِ عمل

Hamara Samaj by Hamara Samaj
مارچ 20, 2026
0 0
A A
عید الفطر: بندگی کی تکمیل، شعور کی آزمائش اور موجودہ حالات میں حکمتِ عمل
Share on FacebookShare on Twitter

رمضان المبارک جب اپنے اختتام کو پہنچتا ہے تو فضا میں ایک عجیب سی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ ایک طرف دل اس مہینے کی جدائی پر افسردہ ہوتا ہے اور دوسری طرف عید الفطر کی خوشی دستک دیتی ہے۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب ایک مومن اپنے اندر جھانک کر دیکھتا ہے کہ اس نے اس مہینے میں کیا پایا اور کیا کھویا۔ عید الفطر دراصل اسی احتساب کا نام ہے، یہ محض ایک تہوار نہیں بلکہ ایک شعوری اعلان ہے کہ بندہ اپنے رب کے سامنے جھکا، اس نے اپنی خواہشات کو قربان کیا، اور اب وہ اس بندگی کی تکمیل پر خوشی منا رہا ہے۔
اسلام نے عید کو جس انداز میں پیش کیا ہے، وہ دیگر تہواروں سے یکسر مختلف ہے۔ یہاں خوشی کا تعلق محض دنیاوی اسباب سے نہیں بلکہ روحانی کامیابی سے ہے۔ ایک مہینہ بھوک و پیاس برداشت کرنے کے بعد، راتوں کو جاگ کر عبادت کرنے کے بعد، اور اپنی زبان، آنکھ اور دل کو قابو میں رکھنے کے بعد جب بندہ عید کی صبح اٹھتا ہے تو دراصل وہ اپنے رب کی رحمتوں کا مستحق بن چکا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عید کی نماز سے پہلے صدقۂ فطر ادا کرنے کا حکم دیا گیا، تاکہ خوشی کا یہ پیغام صرف صاحبِ حیثیت لوگوں تک محدود نہ رہے بلکہ معاشرے کے ہر فرد تک پہنچے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے عید کے اس حقیقی مفہوم کو سمجھا ہے؟ یا ہم نے اسے صرف ظاہری خوشیوں تک محدود کر دیا ہے؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب ہمیں اپنے اندر تلاش کرنا ہوگا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ہمارے اردگرد کے حالات ہمیں مسلسل ایک امتحان میں ڈال رہے ہیں۔
آج کا ہندوستان ایک پیچیدہ دور سے گزر رہا ہے۔ سماجی فضا میں ایک طرح کی بے چینی ہے، اور یہ بے چینی خاص طور پر مسلمانوں کے لیے ایک آزمائش کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ یہ کہنا کہ قانون سب کے لیے برابر ہے، ایک اصولی بات ہے، لیکن عملی میدان میں جو کچھ دکھائی دیتا ہے، وہ ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بعض مواقع پر قانون کی سختی کا رخ ایک خاص طبقے کی طرف زیادہ ہوتا ہے، اور یہی احساس ہمارے اندر ایک اضطراب پیدا کرتا ہے۔ لیکن یہاں ہمیں رک کر سوچنا ہوگا۔ کیا ہمارا ردعمل اس اضطراب کے مطابق ہونا چاہیے، یا ہمیں اس سے بلند ہو کر کوئی ایسا راستہ اختیار کرنا چاہیے جو نہ صرف ہمیں محفوظ رکھے بلکہ ہمارے دین کی تعلیمات کے بھی عین مطابق ہو؟ اسلام ہمیں ہر حال میں توازن اور حکمت کا درس دیتا ہے۔ یہی وہ نقطہ ہے جسے آج سب سے زیادہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔
عید الفطر ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ خوشی کے مواقع پر بھی ذمہ داری کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ آج اگر حالات حساس ہیں تو ہمیں اپنی خوشیوں کے اظہار میں بھی احتیاط برتنی ہوگی۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ ہمارا ہر عمل نہ صرف شرعی اصولوں کے مطابق ہو بلکہ ملکی قوانین کے دائرے میں بھی ہو۔ کیونکہ ایک معمولی سی لغزش بھی ایسے حالات میں بڑے مسائل کو جنم دے سکتی ہے۔
ہمیں یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اسلام نے ہمیں فساد سے بچنے کی تعلیم دی ہے۔ قرآن کریم بار بار ہمیں صبر اور حکمت کی تلقین کرتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کی سیرت ہمارے سامنے ایک روشن مثال ہے کہ مشکل ترین حالات میں بھی آپ نے صبر، برداشت اور دانائی کا دامن نہیں چھوڑا۔ آج اگر ہمیں اپنے حالات کا سامنا کرنا ہے تو ہمیں اسی اسوہ کو اپنانا ہوگا۔ عید کے موقع پر ایک اور اہم پہلو جس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، وہ ہے ہمارا اجتماعی رویہ۔ ہمیں اپنی خوشیوں کو اس انداز میں منانا چاہیے کہ اس سے کسی کو تکلیف نہ پہنچے، کسی کے جذبات مجروح نہ ہوں، اور کسی کو یہ موقع نہ ملے کہ وہ ہمارے خلاف کوئی منفی تاثر قائم کرے۔ یہ صرف ایک سماجی ضرورت نہیں بلکہ ایک دینی تقاضا بھی ہے۔
سوشل میڈیا کے اس دور میں ہماری ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ ایک غلط پیغام، ایک غیر ذمہ دارانہ پوسٹ، یا ایک جذباتی تبصرہ نہ صرف ہمیں بلکہ پوری کمیونٹی کو مشکل میں ڈال سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے الفاظ اور اپنے رویے پر مکمل کنٹرول رکھیں۔ عید کے موقع پر ہمیں ایسے پیغامات کو فروغ دینا چاہیے جو محبت، بھائی چارے اور امن کا پیغام دیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ موجودہ حالات میں ہمیں اپنی شناخت کے حوالے سے بھی محتاط رہنا ہوگا۔ لیکن اس احتیاط کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اپنے دین سے پیچھے ہٹ جائیں یا اپنی پہچان کو مٹا دیں۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنی شناخت کو وقار، سادگی اور حکمت کے ساتھ پیش کریں۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں عزت بھی دے سکتا ہے اور تحفظ بھی۔
عید الفطر کا ایک بنیادی پیغام یہ بھی ہے کہ ہم اپنے معاشرے کے کمزور طبقے کو نہ بھولیں۔ آج جب معاشی حالات مشکل ہیں، بہت سے لوگ بنیادی ضروریات سے محروم ہیں، تو ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ان کا سہارا بنیں۔ زکوٰۃ، صدقات اور دیگر فلاحی کاموں کے ذریعے ہم نہ صرف اپنی عبادت کو مکمل کرتے ہیں بلکہ ایک مضبوط اور متحد معاشرہ بھی تشکیل دیتے ہیں۔ میں خاص طور پر نوجوانوں سے کہنا چاہوں گا کہ وہ جذبات کے بجائے شعور کو اپنا رہنما بنائیں۔ آج کا دور نعرے بازی کا نہیں بلکہ حکمت اور تدبر کا ہے۔ اگر ہم نے اپنے جذبات کو قابو میں نہ رکھا تو ہم خود بھی نقصان اٹھائیں گے اور اپنی آنے والی نسلوں کے لیے بھی مشکلات پیدا کریں گے۔ تعلیم، کردار اور مثبت سوچ ہی وہ راستہ ہے جو ہمیں اس آزمائش سے نکال سکتا ہے۔
عید الفطر ہمیں امید کا پیغام دیتی ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ مشکلات کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہوں، اگر انسان اپنے رب سے جڑا رہے تو وہ کبھی تنہا نہیں ہوتا۔ آج اگر ہمیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ حالات ہمارے خلاف ہیں تو ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ کی مدد ہمیشہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوتی ہے۔ موجودہ حالات میں جب ہم عید الفطر جیسے مبارک موقع پر کھڑے ہیں تو ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ یہ محض خوشی منانے کا دن نہیں بلکہ اپنے طرزِ فکر اور طرزِ عمل کا ازسرِ نو جائزہ لینے کا بھی موقع ہے۔ وقت نے ہمیں ایک ایسی کیفیت سے دوچار کر دیا ہے جہاں جذباتی ردعمل کے بجائے سنجیدگی، تدبر اور حکمت کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ اگر ہم نے اس موقع کو صرف رسمی خوشیوں تک محدود کر دیا تو ہم اس کے اصل پیغام سے محروم رہ جائیں گے۔
آج کا سب سے بڑا تقاضا یہ ہے کہ ہم حالات کی نزاکت کو سمجھیں اور اپنی زندگی کو اسی کے مطابق ڈھالیں۔ ہمیں یہ بات ذہن نشین رکھنی ہوگی کہ کسی بھی معاشرے میں بقا اور ترقی کا راستہ تصادم سے نہیں بلکہ دانشمندانہ طرزِ عمل سے نکلتا ہے۔ اگر ہمیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے لیے زمین تنگ کی جا رہی ہے تو اس کا حل یہ نہیں کہ ہم خود کو مزید مشکلات میں ڈالیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم صبر، حکمت اور قانونی دائرے میں رہتے ہوئے اپنے وجود کو مضبوط کریں۔
یہ وقت اپنی ترجیحات درست کرنے کا ہے۔ ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم وقتی جذبات کے پیچھے چلیں گے یا ایک دور اندیش قوم کی طرح اپنے مستقبل کو محفوظ بنانے کی کوشش کریں گے۔
عید الفطر ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ اصل کامیابی نفس پر قابو پانے میں ہے، نہ کہ وقتی ردعمل میں۔ اگر ہم نے رمضان کی تربیت کو اپنی زندگی میں باقی رکھا تو یقیناً ہم ہر مشکل کا سامنا بہتر طریقے سے کر سکیں گے۔ سماجی سطح پر بھی ہمیں اپنے رویوں میں توازن پیدا کرنا ہوگا۔ ہمیں اپنی خوشیوں کو اس انداز میں منانا چاہیے کہ وہ کسی کے لیے پریشانی کا باعث نہ بنیں۔ ایک ذمہ دار شہری ہونے کے ناطے یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم نہ صرف اپنے اعمال بلکہ اپنے الفاظ پر بھی کنٹرول رکھیں۔ خاص طور پر اس دور میں جب سوشل میڈیا ایک طاقتور ذریعہ بن چکا ہے، ہمیں ہر پیغام کو سوچ سمجھ کر آگے بڑھانا ہوگا۔ ایک غیر محتاط قدم نہ صرف ہماری ذاتی زندگی بلکہ اجتماعی سطح پر بھی نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔
ہمیں اپنی شناخت کے معاملے میں بھی اعتدال اختیار کرنا ہوگا۔ نہ ہمیں خوفزدہ ہو کر پیچھے ہٹنا ہے اور نہ ہی غیر ضروری نمائش کے ذریعے خود کو مسائل میں ڈالنا ہے۔ بلکہ ہمیں اپنے دین اور اپنی پہچان کو وقار، سادگی اور حکمت کے ساتھ زندہ رکھنا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں عزت بھی دے سکتا ہے اور تحفظ بھی فراہم کر سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے معاشرے کے کمزور طبقات کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ عید کا حقیقی حسن اسی وقت ظاہر ہوتا ہے جب خوشی سب کے درمیان تقسیم ہو۔ اگر ہمارے آس پاس کوئی ضرورت مند ہے اور ہم اس کی مدد نہیں کرتے تو ہماری خوشی ادھوری رہ جاتی ہے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی استطاعت کے مطابق دوسروں کا سہارا بنیں، کیونکہ یہی وہ عمل ہے جو ہمیں ایک مضبوط اور متحد قوم بنا سکتا ہے۔ نوجوان نسل کے لیے یہ وقت خاص طور پر اہم ہے۔ انہیں یہ سمجھنا ہوگا کہ جذباتی نعروں اور وقتی جوش سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ اصل کامیابی علم، کردار اور مثبت سوچ میں ہے۔ اگر نوجوان اپنے آپ کو ان اصولوں پر استوار کر لیں تو نہ صرف وہ خود کامیاب ہوں گے بلکہ پوری قوم کے لیے ایک مضبوط بنیاد بن سکتے ہیں۔
آخرکار، ہمیں یہ یقین رکھنا ہوگا کہ حالات ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے۔ مشکل وقت آتا ہے اور گزر بھی جاتا ہے، لیکن جو چیز باقی رہتی ہے وہ انسان کا کردار اور اس کا رویہ ہوتا ہے۔ اگر ہم نے صبر، حکمت اور استقامت کو اپنا لیا تو کوئی بھی مشکل ہمیں شکست نہیں دے سکتی۔ عید الفطر ہمیں یہی امید دیتی ہے کہ اندھیرا کتنا ہی گہرا کیوں نہ ہو، روشنی اپنی جگہ بنا لیتی ہے۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس موقع کو سنجیدگی سے لیں، اپنے اندر مثبت تبدیلی پیدا کریں، اور ایک ایسی سوچ کے ساتھ آگے بڑھیں جو نہ صرف ہمارے لیے بلکہ پورے معاشرے کے لیے فائدہ مند ہو۔ یہی طرزِ عمل ہمیں موجودہ حالات میں محفوظ بھی رکھ سکتا ہے اور ایک بہتر مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

 

ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    فائر بریگیڈ کی ہائیڈرولک لفٹ تک نہیں کھلی، بی جے پی  حکومت کی ناکامی اور لاپروائی نے9لوگوں کی جان لے لی:کیجریوال

    فائر بریگیڈ کی ہائیڈرولک لفٹ تک نہیں کھلی، بی جے پی حکومت کی ناکامی اور لاپروائی نے9لوگوں کی جان لے لی:کیجریوال

    مارچ 20, 2026
    پالم آتشزدگی معاملہ، بی جے پی اور ’آپ‘ میں ہاتھا پائی

    پالم آتشزدگی معاملہ، بی جے پی اور ’آپ‘ میں ہاتھا پائی

    مارچ 20, 2026
    عید الفطر: بندگی کی تکمیل، شعور کی آزمائش اور موجودہ حالات میں حکمتِ عمل

    عید الفطر: بندگی کی تکمیل، شعور کی آزمائش اور موجودہ حالات میں حکمتِ عمل

    مارچ 20, 2026
    دہلی میں فسادات جیسے حالات پیدا کر رہی ہے بی جے پی

    دہلی میں فسادات جیسے حالات پیدا کر رہی ہے بی جے پی

    مارچ 20, 2026
    فائر بریگیڈ کی ہائیڈرولک لفٹ تک نہیں کھلی، بی جے پی  حکومت کی ناکامی اور لاپروائی نے9لوگوں کی جان لے لی:کیجریوال

    فائر بریگیڈ کی ہائیڈرولک لفٹ تک نہیں کھلی، بی جے پی حکومت کی ناکامی اور لاپروائی نے9لوگوں کی جان لے لی:کیجریوال

    مارچ 20, 2026
    پالم آتشزدگی معاملہ، بی جے پی اور ’آپ‘ میں ہاتھا پائی

    پالم آتشزدگی معاملہ، بی جے پی اور ’آپ‘ میں ہاتھا پائی

    مارچ 20, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist