دبئی: 26 اکتوبر /سماج نیوز سروس ۔قطر کی عدالت کی جانب سے گزشتہ سال گرفتار کیے گئے آٹھ ہندوستانیوں کو سزائے موت دینے کے اعلان سے ہندوستان حیران ہے۔ وزارت خارجہ نے جمعرات کو اس فیصلے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت تمام قانونی آپشنز تلاش کر رہی ہے۔ ان آٹھ سابق میرینز کے نام کیپٹن نوتیج سنگھ گل، کیپٹن بیرندر کمار ورما، کیپٹن سوربھ وششٹھ، کمانڈر امیت ناگپال، کمانڈر پورنیندو تیواری، کمانڈر سوگناکر پکالا، کمانڈر سنجیو گپتا اور سیلر راگیش ہیں۔ ان سبھی کو جاسوسی کے الزام میں پوچھ گچھ کے لیے ان کی مقامی رہائش گاہ سے گرفتار کیا گیا تھا۔ زیادہ تر سابق افسران کی عمر 60 سال سے اوپر ہے۔ وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ ہم سزائے موت کے فیصلے سے بہت صدمے میں ہیں اور تفصیلی فیصلے کا انتظار کر رہے ہیں۔ ہم اہل خانہ اور قانونی ٹیم کے ساتھ رابطے میں ہیں اور تمام قانونی آپشنز کی تلاش کر رہے ہیں ۔ ہم اس معاملے کو بہت اہمیت دیتے ہیں، اور اس کی قریب سے پیروی کر رہے ہیں۔ ہم تمام قونصلر اور قانونی مدد فراہم کرتے رہیں گے۔ ہم اس فیصلے کو قطری حکام کے ساتھ بھی اٹھائیں گے۔دوسری جانب ان کے اہل خانہ ان کی حوالگی کے فیصلے کے بارے میں پر امید تھے۔ ایک سابق فوجی کے خاندان کے ایک رکن نے کہا کہ ہمیں دیوالی تک ان کی واپسی کی امید تھی لیکن وہ اس فیصلے سے حیران ہیں۔ 2022 میں، قطر میں دفاعی خدمات فراہم کرنے والی کمپنی کے لیے کام کرنے والے آٹھ ریٹائرڈ ہندوستانی بحریہ کے اہلکاروں کو وہاں کے حکام نے حراست میں لیا تھا۔ تب سے، ان افراد کو قطری حکام نے ان کی حراست کی وجہ بتائے بغیر قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے۔ قطر نے انہیں سفارتی رسائی کی اجازت دی تھی ۔ وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے گزشتہ سال پارلیمنٹ کو بتایا کہ یہ ایک "حساس” معاملہ ہے اور اس بات کی تصدیق کی کہ یہ ہندوستانی حکومت کے لیے "ترجیح” کا معاملہ ہے۔












