وزیر اعظم نریندر مودی کے اس بیان پر کہ ‘کانگریس ملک کی دولت کو دوبارہ تقسیم کرے گی تبصرہ و تنقید کرتے ہوئے راجیہ سبھا کے رکن کپل سبل نے سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کی تاریخ میں سیاسی گفتگو کبھی بھی اتنی نیچے نہیں گری۔انہوں نے الیکشن کمیشن پر زور دیا کہ وہ اس معاملے میں کارروائی کرے۔کپل سبل نے کہا کہ وہ الیکشن کمیشن سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ اس نے مودی کی تقریر پر کوئی ایکشن کیوں نہیں لیا، الیکشن کمیشن اس بیان کی مذمت تو کر ہی سکتی ہے۔ مودی کو نوٹس دے سکتی ہے ۔ چینلز کو ہدایت دے سکتی ہے کہ وہ ایسے بیان کو دہرانے سے گریز کرے ۔ساتھ ہی آئی پی سی کی دفعہ 153Aکے تحت مقدمہ درج کیا جائے۔ الیکشن کمیشن یہ نہ بھولے کہ اس نے آئین پر حلف اٹھایا ہے۔ اگر وہ اس کی خلاف ورزی کرتی ہے اور اس بیان کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے تو ایسی تقاریر نہ ان کے لیے اچھی ہوں گی اور نہ ہی ملک کے لیے۔سبل نے یہ تبصرہ وزیر اعظم مودی کے اس بیان کے ایک دن بعد کیا جب کانگریس کے اقتدار میں آنے پر لوگوں کی دولت کو مسلمانوں میں دوبارہ تقسیم کرے گی ۔انہوں نے اپنے اس بیان میں سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کے اس تبصرہ کا حوالہ دیا کہ ملک کے وسائل پر اقلیتی برادری کا پہلا حق ہے۔سبل نے پریس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پی ایم کی تقریر کے بعد کروڑوں لوگ مایوس ہوں گے۔ شاید 1950 کی دہائی کے بعد کسی اور وزیر اعظم نے ایسا بیان نہیں دیا۔ کپل سبل نے اپنا اعتراض درج کراتے ہوئے کہا کہ یہ کیسی بات ہے کہ ہماری اقلیتیں جو برسوں سے ہندوستان میں رہ رہی ہیں درانداز ہیں۔ یہ کیسی سیاست ہے؟وزیر اعظم کے ریمارکس پر تنقید کرتے ہوئے سبل نے کہا کہ یہ کیسی ثقافت ہے؟ آپ رام مندر کی بات کرتے ہو، مندر کا افتتاح کرتے ہو، رام کے نظریات کی بات کرتے ہو اور دوسری طرف نفرت پھیلاتے ہو۔ کہاں ہے ‘سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس؟ آپ اس طرح ہندوستان کی ثقافت کو برقرار نہیں رکھ سکتے۔سبل نے کہا کہ وہ وزیر اعظم کے اس بیان سے بہت مایوس ہوئے ہیں کیونکہ وہ وزیر اعظم کے عہدے اور اس پر فائز شخص کا احترام کرتے ہیں لیکن جب وزیر اعظم احترام کے قابل نہیں ہیں تو پھر ملک کے دانشوروں کو آگے آنا چاہیے۔سبل نے کہا کہ وزیر اعظم نے ایسے وقت میں دولت کی بات کی ہے جب ملک کی 40 فیصد سے زیادہ دولت ایک فیصد آبادی کے ہاتھوں میں ہے، سبل نے کہا، وہ کہتے ہیں کہ کانگریس دراندازوں کو پیسہ دے گی۔ ملک کے لوگوں کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ ہندوستان کی تاریخ میں سیاسی بحث اتنی سطحی ہو چکی ہے ۔ پی ایم پر نشانہ لگاتے ہوئے، سبل نے ان پر ‘جھوٹ بولنے کا الزام لگایا، "کانگریس اور خاص طور پر منموہن سنگھ نے کبھی یہ نہیں کہا کہ ملک کی دولت ایک برادری کے پاس جائے۔ نفرت کا مطلب ہے کہ آپ ‘سب کا ساتھ، سب کا وکاس بھول گئے ہیں اور کسی کو آپ پر ‘اعتمادنہیں ہے












