عام انتخاب کے اعلان میں ابھی بھی تقریبا ڈھائی سے تین ماہ باقی ہیں۔یعنی یہ ممکن ہے کے مارچ کے آخری ہفتہ تک الیکشن کمیشن تاریخوں کا اعلان کر دے ۔لیکن اس کے پہلے سیاسی پارٹیوں نے اپنا فیلڈ ورک شروع کر دیا ہے ۔ان تیاریوں میں قابل دید تیاری بی جے پی کی ہی ہوتی ہے ۔کیونکہ ایک تو اسے اقتدار بچانی ہوتی ہے ،دوسری بات یہ کہ اس کے پاس وسائل لا محدود ہیں ۔بی جے پی کی تیاری یوں بھی اہم اور دلچسپ ہوتی ہے کہ اس کے پاس کوئی ایسی پالیسی یا پروگرام نہیں ہوتا جس پر عوام کا مکمل اعتماد ہو لیکن وہ فضا بندی اس طرح کرتی ہے کہ لگتا ہے پورے ملک کا ایک ایک فرد بیتابی کے ساتھ نریندر مودی کو بطور وزیر اعظم دیکھنے کو بیچین ہے ۔اس سلسلے میں سب سے اہم رول ان میڈیا چینلوں کا ہے جن کے مالکان کسی نہ کسی صورت میں مودی سرکار کے تنخواہ دار ہیں یا ان کی کمپنی کے حق میں مودی سرکار پالیسیاں بناتی ہے ،ان کمپنیوں کے لون معاف کرتی ہے اور مزید لون کے لئے انہیں مواقع فراہم کرتی ہے ۔
سرکار کے گراف کو ہمیشہ اوپر رکھنے کا یہ کھیل ایسی ایجنسیاں کرتی ہیں جن کا دعوی ہے کہ وہ 365دن ملک کے مختلف حصوں کے لاکھوں شہریوں سے ان کی رائے لیتی رہتی ہیں اور ان عوامی تاثرات کو بنیاد بنا کر وہ سرکار کی مقبولیت اور حزب اختلاف کی غیر مقبولیت کا ڈھنڈورہ پیٹتی ہیں تاکہ برسراقتدار پارٹی کے حق میں فضا بن سکے ۔اب یہ لاکھوں شہری کون ہوتے ہیں اس کاپتہ لگانے کے لئے بھی ایک تحقیقاتی کمپنی کو بحال کرنا پڑیگا کیونکہ میرے جاننے والے سیکڑوں لوگوں میں سے کسی نے اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ ان سے کبھی کسی نے اس طرح کے سوال پوچھے ہوں ۔ممکن ہے کہ ایسے سروے ہوتے بھی ہوں ،لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسے وقت میں جب ابھی ملک میں پانچ ریاستوں میں سے تین میں بی جے پی کی شاندار جیت ہوئی ہے ،اپوزیشن محاذ نے ابھی اپنے سیٹ بٹوارے کا بھی اعلان نہیں کیا ہے اور نہ ہی اس محاذ نے ابھی نریندرمودی کے مقابلے میں کوئی چہرہ ہی طئے کیا ہے لیکن سروے ٹیم اتر پردیش میں جا کر عوام سے یہ پوچھ رہی ہے کہ بطور وصیر اعظم راہل گاندھی اچھے رہینگے یا نریندر مودی ؟اور پھر اس کے جواب پر ٹی وی چینل میں ڈیبیٹ ہو رہا ہے جس میں یہ کہا جا رہا ہے کہ مودی کی مقبولیت سے راہل بہت پیچھے ہیں ۔ہنسی آتی ہے اس بے وقوفانہ سروے پر ۔اگر اوپینین پول ہی کرنا ہے تو کیا یہ ایمانداری نہیں ہوتی کہ پہلے یہ سروے کمپنیاں انڈیا الائنس کے ذریعہ وزیر اعظم کے چہرے کا اعلان ہونے دیتیں اور پھر نریندر موفی اور اور اس متوقع امیدوار کے حلقہ میں جاکر ان کے ووٹر سے پوچھیں کہ کون کتنا مقبول ہے۔جہاں تک سوال راہل گاندھی کا ہے تو ابھی تک نہ تو کانگریس نے یہ اعلان کیا ہے کہ راہل گاندھی اس کی طرف سے وزیر اعظم کے امیدوار ہونگے اور نہ ہی انڈیا الائنس نے کسی متوقع نام کا اعلان کیا ہے ۔جبکہ سچ یہ ہے کہ انڈیا الائنس کی میٹنگ میں جب ممتا بنرجی اور کیجریوال نے کمیٹی کے سامنے وزیر اعظم کے طور پر کانگریس کے صدر کھڑگے کے نام کی سفارش کی تو کانگریس صدر نے خود اٹھ کر اس کی تردید کر دی اور صاف کر دیا کہ انڈیا الائنس نتائج سے قبل اپنی طرف سے کسی کے نام کا اعلان بطور وزیر اعظم نہیں کریگی ۔لیکن ان سروے والوں کو پتہ نہیں کیوں اس پورے محاذ میں ایک راہل گاندھی کا چہرہ نظر آتا ہے جسے نریندر مودی کے مقابلے رکھ کر ان کی مقبولیت کا گراف تیار کریں ۔وہ بھی یو پی جیسی ریاست میں جہاں کانگریس کہیں زمین پر نظر نہیں آرہی ہے ۔ویسے بھی اتر پردیش میں کانگریس نے 1985کے بعد کبھی سرکار بنائی بھی نہیں ہے ۔یعنی تقریبا چالیس برس سے جس ریاست میں کانگریس کو اقتدار سے باہر ہوئے ہو گئے وہاں یہ سروے کیا جا رہا ہے کہ نریندر مودی کے مقابلے راہل گاندھی کی مقبولیت کتنی ہے ؟اور ہم تمام لوگ نہایت سنجیدگی سے ایسے سروے کو اہم سمجھ کر اس پر مستقبل کے انتخابی نتائج کی عمارت کھڑی کرنے لگتے ہیں ۔حالانکہ گفتگو تو اس پر ہونی چاہئے کہ کیا کسی جمہوری ملک میں اس طرح کے سروے سے کسی ایک سیاسی جماعت کے حق میں ماحول سازی نہیں ہوتی ؟اس طرح کے سروے کا بیجا استعمال تو نہیں ہوتا ؟اور کیا کوئی بھی سیاسی پارٹی پیسہ دیکر کسی بھی ایجنسی کے نام سے خود اس طرح کا سروے رپورٹ کیوں شائع نہیں کرسکتی ۔تازہ سروے جو ABP Cvoterکا تمام چینلوں پر دکھایا جا رہا ہے اس میں عوام سے سوالات کا نمونہ دیکھیں ۔پی ایم مودی کی کار کردگی سے آپ کس حد تک مطمئین ہیں؟جس کے جواب میں یوپی کے 48فیصد لوگوں نے خود کو بے حد خوش بتایا ،27فیصد لوگوں نے مودی جی کی سرکار سے خود کو مطمئین بتایا ،25فیصد لوگوں نے خود کو کم مطمئین بتایا۔
اگر براہ راست وزیر اعظم کا انتخاب کرنا ہو کہ جواب میں 60فیصد عوام نے پی ایم نریندر مودی،جبکہ 30فیصد لوگوں نے راہل گاندھی کو بطور وزیر اعظم پسند کیا ۔ اب آپ اندازہ لگائیں کہ گذشتہ دس برس سے نریندر مودی ملک کے وزیر اعظم ہیں ،اتر پردیش کے واراندی سے ممبر آف پارلیمنٹ ہیں ،اس سے قبل وہ پندرہ سال سے زیادہ گجرات کے وزیر اعلی رہے ہیں ،یوپی میں بھی بی جے پی کی حکومت ہے اور راہل گاندھی کیرل کے وائناڈ سے کانگریس کے ممبر آف پارلیامنٹ ہیں ۔صرف ممبر آف پارلیامنٹ اور وہ بھی ایک ایسی پارٹی کے جس کے کل 50ممبر ان لوک سبھا میں ہیں ۔
یہ میڈیا کا کون سا چہرہ ہے ؟یہ کیسا سروے ہے ؟اور دنیا کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کی یہ کیسی مقبولیت ہے جس سے اگر سرکاری ایجنسیوں بشمول عدالت اور الیکشن کمیشن اور نیشنل میڈیا چھن جائے تو اس پارٹی کا قومی کردار بھی شاید ہی باقی بچے ۔
(شعیب رضا فاطمی)












