• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
ہفتہ, مارچ 28, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home اداریہ ؍مضامین

الیکٹورل بانڈ تو ایکسٹور شن ریکٹ ثابت ہوے

پرسپریم کورٹ کے فیصلے سے عدلیہ پرعوام کا اعتماد بحال ہوا ہے

Hamara Samaj by Hamara Samaj
مارچ 20, 2024
0 0
A A
ایس بی آئی کو نیومیرک نمبروں سمیت تمام تفصیلات دینی ہوں گی:سپریم کورٹ
Share on FacebookShare on Twitter

یہ تلخ حقیقت ہے کہ گزشتہ دس برسوں سے تمام آئینی اور جمہوری اداروں سے ایسی حرکتیں سرزد ہوئی ہیں کہ عوام کا ان پر سے اعتماد ہی اٹھ گیا ہے سب سے زیادہ تشوشناک حالات رہے ہیں عدلیہ کے ضلع عدالتوں سے لے کر سانصاف پریم کورٹ تک سے ایسے فیصلہ آئے ہیں جنھیں انصاف کے خون کے علاوہ اور کچھ نہیں کہا جا سکتا ان فیصلوں کے فورن بعد ہی سپریم کورٹ کے ہی سبکدوش ججوں نے اور وہاں کے سینئر وکلاء انہیں ناانصافی قرار دیا تھا یہ فیصلے دینے والے جج صاحبان جن میں ضلع ججوں سے لے کر سپریم کورٹ تکّ کے جج صاحبان شامل ہیں ریٹائرمنٹ کے فورن بعد ہی کئی معاملات میں تو قانون بدل کر جس طرح تقرریاں دی گئیں اس سے صاف ہو گیا کہ ان ججوں نے حکومت کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے انصاف کا خون کیا تھا اور جو جج اسکے لئے تیار نہیں ہوے ان کو اپنی جان سے ہاتہ دھونا پڑا -جج لویا کا معاملہ تو عالمی شہرت حاصل کر چکا ہے جھارکھنڈ کے بھی ایک جج کو صبح کی سیر کے دوران کر سے کچل کر مار ڈالا گیا تھا – اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ بہت سے فیصلے ثواب (پن ) کمانے کے لئے کے گئے حالانکہ وہ جج صاحبان یہ بھول گئے تھے کہ اللہ ایشور بھگوان یا اجو بھی کہیں وہ ناانصافی اور ظلم برداشت نہیں کرتا خاص کر جب اس کے نامپر ظلم اور ناانصافی کی جائے تو وہ غضبناک سزا ضرور دیگا یہاں نہیں تو وہاں – عدلیہ آئین کی محافظ اور عوام کے آئینی حقوق یقینی بنانے کی ذمہ دار ہے مگر اکثر معاملات میں وہ اپنا یہ آئینی فرض اداکرنے میں ناکام رہی ہے -سپریم کورٹ کے ایک سبکدوش جج نے ریٹائرمنٹ کے بعد ایک موقر اخبارکو دئے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ ججوں سے اپوزیشن لیڈر کے کردار کی امید نہیں کرنی چاہئے بجا فرمایا تھا مائی لارڈ نے لیکن ججوں سے یس سر یس مین اور جی حضور یا ہونے کی بھی امید نہیں کی جا سکتی -گزشتہ دس برسوں کے عدالتوں کے فیصلوں کا اگر جائزہ لیا جائے اور ججوں کو ریٹائرمنٹ کے بعد جو تقرریاں دی گئیں تو ان پر ایک ضخیم کتاب تیار ہو سکتی ہے –
اس گھٹاٹوپ اندھیرے میں کچھ جج صاحبان اورکچھ فیصلے ایسے ضرو آئے ہیں جن سے انصاف کے تقاضے پورے ہوے ایک پرانا مقولہ ہے کہ انصاف صرف یہ نہیں ہے کہ انصاف کے گیا بلکہ انصاف کیا گیا عوام کو خود اس کا احساس ہو جانا چاہئے ایک طرف ایسے مائی لارڈ تھے جنہوں نےسرکار کے ا ایک چہیتے کارپوریٹ گھرانے کے قریب چھیالیس مقدموں میں ان ک حق میں فیصلے دے کر انھیں اربوں روپیہ کا فائدہ پہنچایا ظاہر ہے انکا یہ فائدہ سرکار یعنی عوام کا نقصان تھا ان جج صاحب کو ریٹائرمنٹ کے بعد قانون بدل کرایک عمدہ پوسٹنگ دی گئی دوسری طرف بلقیس بانو کے مجرموں کو دوبارہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھیجنے والے اور الیکشن کمیشن کی تشکیل میں حکومت کی منمانی روکنے کا فیصلہ کرنے والے جج سبکدوشی کے بعد گوشہ گمنامی میں ہیں -سرکار کے پسندیدہ فیصلہ کرنے والے صرف سپریم کورٹ یا ہائی کورٹوں کے ججوں کو ہی سبکدوشی کے بعد منفعت بخش پوسٹنگ نہیں دی گئی ضلع ججوں کو بھی نوازہ گیا ہے
عدلیہ کے ایسے مشکوک رویہ کے ما حول میں جب ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز نامی تنظیم نے الیکٹورل بانڈ کے معملہ پر عدالتی حارہ جوئی کی تو بہت کم لوگوں کو امید تھی کہ عدالت اس میں کوئی ایسا سخت رخ اپانیگی جو بر سر اقتدار پارٹی اور اس کی حکومت کے لئے پریشانی کا سبب بن جائے حکومت کی جانب سے سالسٹر جنرل سمیت د گج وکیلوں کی پوری ٹیم نے پورا زور اگا دیا کہ الیکٹورل بانڈ کا سچ سامنے نہ آ سکے ادھر پرشانت بھوشن اور کپل سبل جیسے وکلا نے بھی زور دار بحثکی اور عدالت کو جمہوریت میں شفافیت کے اصولوں کی اہمیت پر زور دیا اور آخر کار سپریم کورٹ کا وہ تاریخی فیصلہ آ گیا جس نے حکومت اور حکمران جماعت کی جڑیں ہلا کر رکھ دیں -جوحقائق سامنے آئے ہیں اور جس طرح سرکاری ایجنسیوں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ سی بی آئ پولیس وغرہ کے غیر قانونی غور اخلاقی غیر جمہوری استعمال کر کے کھربوں روپیہ کا چندہ بٹورا گیا وہ ہمارے پورے جمہوری نظام پر ایک بدنما داغ بن گیا ہے -منتخب حکومتوں کو گرانے ممبران اسمبلی اور پارلیمنٹ کی وفاداریاں خریدنے مخالف پارٹیوں میں پھوٹ ڈلوانے میں تو ان ایجنسیوں کے استعمال کے الزام بہت پرانے ہیں لیکن چندہ کے نام پر دھن اگاہی ہفتہ وصولی رقم اینٹھنے (اکسٹورشن )کا یہ معاملہ اپنی نوعیت کا با لکل نیا معاملہ ہے دس سال کی حکومت میں پانچ ہزار کروڑ کا ریزرو فنڈ ملک کے ہر ضلع میں شاندار دفترکارکنوں پر لاکھوں روپیہ خرچ ایسے ہی تو نہں ہورہا ہے حکومتیں گرانے وفاداریاں خریدنے اور تشہیر پر بے تہاشہ رقم یونہی تو نہیں لٹائی جا رہی ہے -ظاہر سی بات ہے کہ حکمران جماعت کے مقابلہ اپوزیشن کے پاس نہ تو سرکاری طاقت ہے اور نہ ہی اتنا پیسہ پھر وہ انتخابی میدان میں ان کا مقابلہ کیسے کر سکتی ہے ؟ اسی لئے تو ہماری جمہوریت بتدریج چین روس شمالی کوریا کی طرح ایک پارٹی ایک لیڈر والے نظام کی جانب بڑھ رہی ہےSjh
میڈیا کو جمہوریت کا محافظ (واچ ڈاگ ) کہا جاتا ہے جمہوریت اگر چہ عدلیہ مقننہ اور انتظامیہ تین پایوں پر کھڑی ہوتی ہے لیکن میڈیا اسکا چوتھا پایا کہا جاتا ہے کیونکہ یہ ملک اور عوام کے مفاد میں حکومت سے غلط کاموں پر سوال پوچھتی ہے اچھے کاموں کو عوام تک پہنچاتی ہے نیز عوام اور سرکار کے درمیان پل کا کام کرتی ہے لیکن گزشتہ دس برسوں میں تمام جمہوری ا داروں کے ساتھ ساتھ جمہوریت کے اس ستون میں بھی گھن لگ گیا ہے حالت یہ ہو گئی ہے کہ جن لوگوں کی علی الصبح اخبار پہلی ضرورت ہوتا تھا ان میں سے ایک بڑے طبقے نے اخبار پڑھنا ہی بند کر دیا ہے خبریہ چینلوں کی حالت تو اور بھی خراب ہے وہ نہ صرف حکمران طبقہ کے گن گان میں لگے رہتے ہیں بلکہ ایک سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت اقلیتوں کے خلاف نفرت پھیلانے میں بھی دن رات لگے رہتے ہیں جس کی وجہ سے متعدد بار انکی سرزنش بھی ہو چکی ہے -یہ وہی میڈیا ہے جو منموہن سنگھ کے دور میں میں ٹو جی کوئلہ جیسے نام نہاد گھپلوں پر چوبیسوں گھنٹے زہر اگلتا تھا حالانکہ یہ تمام الزامات عدالت میں خارج ہو گئے ہیں لیکن میڈیا نے اپنے منہ پر کالکھ پوت لی تھی وہی میڈیا اب الیکٹورل بانڈ کو لے کر ہوے خلاصہ پر منہ میں دہی جمائے ہوے ہے -جس ملک میں میڈیا ہز ماسٹرس وائس بن جائے اس ملک میں جمہوریت زیادہ دنوں زندہ نہیں رہ سکتی -وہ تو بھلا ہو سوشل میڈیا اور یو ٹیوب چینلوں کا کہ عوام حقیقت سےرو برو ہو جائے ہیں -مین اسٹریم میڈیا کے اسی رویہ کی وجہ سے عالمی رینکنگ میں ہندستانی میڈیا بہت نچلے پائیدان پر پہنچ چکی ہے –
سپریم کورٹ کے سامنے ابھی اوربھی بہت سے اہم معالات زیر غور ہیں ان میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین ا ور الیکشن کمیشن کی تشکیل خاصی اہمیت کے حامل ہیں اگر ان مقدموں میں بھی سپریم کورٹ نے الیکٹورل بانڈ جیسا موقف اختیار کیا تو مودی حکومت کے لئے بہت سی مشکلات کھڑی ہو سکتی ہیں ان حالات میں وہ عوام کا دھیان بھٹکانےاور چناؤ جیتنے کے لئے پلوامہ گودھرا جیسآ کچھ کر گزریں تو کسی کو حیرت نہیں ہوگی ستیہ پال ملک صاحب تو یہ شک بہت پہلے ظاہر ہی کر چکے ہیں اس لئے عوام کو بھی بہت چوکس رہنے کی ضرورت ہے

ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    حزب اقتدار نے بجٹ کو عام لوگوں کا خیال رکھنے والا قرار دیا

    حزب اقتدار نے بجٹ کو عام لوگوں کا خیال رکھنے والا قرار دیا

    مارچ 28, 2026
    مودی نہیں چاہتے تھے کہ پیٹرولیم قیمتیں  بڑھیں، لاک ڈاؤن نہیں لگے گا: سیتا رمن

    مودی نہیں چاہتے تھے کہ پیٹرولیم قیمتیں بڑھیں، لاک ڈاؤن نہیں لگے گا: سیتا رمن

    مارچ 28, 2026
    ایم سی ڈی ایوان میں ایل پی جی قلت پر بحث سے بھاگی بی جے پی،’ آپ‘ کا زبردست احتجاج

    ایم سی ڈی ایوان میں ایل پی جی قلت پر بحث سے بھاگی بی جے پی،’ آپ‘ کا زبردست احتجاج

    مارچ 28, 2026
    پھانسی گھر میں، بڑھ سکتی ہیں سابق وزیر اعلیٰ کجریوال کی مشکلیں

    پھانسی گھر میں، بڑھ سکتی ہیں سابق وزیر اعلیٰ کجریوال کی مشکلیں

    مارچ 28, 2026
    حزب اقتدار نے بجٹ کو عام لوگوں کا خیال رکھنے والا قرار دیا

    حزب اقتدار نے بجٹ کو عام لوگوں کا خیال رکھنے والا قرار دیا

    مارچ 28, 2026
    مودی نہیں چاہتے تھے کہ پیٹرولیم قیمتیں  بڑھیں، لاک ڈاؤن نہیں لگے گا: سیتا رمن

    مودی نہیں چاہتے تھے کہ پیٹرولیم قیمتیں بڑھیں، لاک ڈاؤن نہیں لگے گا: سیتا رمن

    مارچ 28, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist