آزادی کے بعد ہمارے ملک میں شاید ہی کوئی ایسا وزیر اعظم ہوا ہو جس کے منہ سے نکلنےوالا ہر جملہ لطیفہ لگتا ہو ۔ یوں تو ہمارے وزیر اعظم کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ موصوف اس وقت بولتے ہیں جب کسی چناو کا موقع ہو یا پھر وہاں جہاں کہیں سے بھی کسی کے سوال پوچھنے کا امکان نہ ہو ۔اور اس کا انہوں نے نہایت بھرپور انتظام کر رکھا ہے لہذا وہ کچھ بھی بول سکتے ہیں ۔اور وہ بول بھی رہے ہیں ۔مودی جی کے اس اہم خطاب کی وجہ بی جے پی کی یوم تاسیس تھی ،جسے پورے ملک میں 6مارچ کو دھوم دھام سے منایا گیا اور موقعہ پر چوکا لگانے کے ماہر سمجھے جانے والے مودی جی نے اپنی پارٹی اور اپنے کارناموں کی اپنے منہ سے جو تعریف کی اس پر سوائے ہنسنے کے اور کچھ نہیں کیا جاسکتا۔
انہوں نے کہا کہ بی جے پی بدعنوانی، اقربا پروری پر نہایت سخت ہے اور اب سماجی انصاف صرف نعرہ نہیں رہا۔
یہ مودی جی اس دن کہہ رہے ہیں جس دن پارلیمنٹ کے دونوں ایوان پندرہ دن تک کھلے رہنے کے باوجود ہنگاموں کی نذر ہوکر بند ہو گئے اور اس ایوان میں مسلسل یہ نعرے گونجتے رہے کہ وزیر اعظم صاحب ایک جوائنٹ پارلیامنٹری کمیٹی سے یہ تحقیق کرا کر کہ اڈانی سے آپ کا کیا تعلق ہے حزب اختلاف کے منہ میں خاک ڈال دیجئے لیکن موصوف ٹس سے مس نہ ہوئے ۔اور پھر پارٹی کے یوم تاسیس کے موقع پر کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے، انہوں نے 2024 کے لوک سبھا انتخابات سے قبل اپوزیشن کو خوش فہمی سے نکلنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں ایک وجودی بحران سے نبرد آزما ہیں اور اس لیے، بی جے پی پر الزامات لگانے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے ۔ وزیر اعظم کہتے ہیں کہ حزب اختلاف کی اہم پارٹی یعنی کانگریس کا موقف، اقربا پروری، خاندان پرستی، ذات پرستی اور علاقائیت سے منسلک ہونا ہے۔جبکہ بی جے پی نے سب کو ساتھ لے کر چلنے کا ایک نیا کلچر ملک کو دیا ہے ۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے مزید کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی ایک ایسی جماعت ہے جو ملک کو بدعنوانی اور اقربا پروری سے نجات دلانے کے لیے "سخت قدم” اٹھانے کے لیے پرعزم ہے اور اس کی اہلیت رکھتی ہے، بی جے پی کےلئے سماجی انصاف صرف ایک نعرہ نہیں ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ غریبوں، قبائلی لوگوں، پسماندہ طبقے، دلتوں اور خواتین سمیت دیگر لوگوں کی حمایت ہمیں حاصل ہے اور یہی حمایت ‘کمل’ کی حفاظت اور اسے کھلنے میں مدد فراہم کرتی رہے گی۔ نریندر مودی نے مزید کہا کہ "بادشاہی ذہن رکھنے والے یہ لوگ دوسروں کے ساتھ، خاص طور پر غریبوں اور محروموں کے ساتھ، غلاموں جیسا سلوک کرتے ہیں۔ اور اسی وجہ سے لوگ پہلے ہی یہ کہنا شروع کر چکے ہیں کہ 2024 میں بی جے پی کو کوئی نہیں ہرا سکتا۔ یہ سچ ہے، لیکن بی جے پی کارکن ہونے کے ناطے ہمیں ملک کے ہر شہری کا دل جیتنا ہے۔”
جمعرات کو بی جے پی لیڈروں اور کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے انہیں عدم اطمینان کے خلاف خبردار کیا، اور کہا کہ پورے ملک میں لوگوں کے لیے مفت راشن ان کی حکومت کے خلاف کیسے ہو سکتا ہے، یہ تو جمہوریت کا امرت ہے، لوک سبھا انتخابات کے مد نظر موصوف نے کہا کہ سماجی انصاف کی جھلک 50 کروڑ غریبوں کو بلا تفریق مفت علاج کی سہولت ہے،‘‘ انہوں نے مزید کہا۔سب کا ساتھ ، سب کا وکاس اور سب کا وشواس ہم نے ہمیشہ اپنے دلوں میں بھی رکھا ہے ۔اور کام کرنے کے انداز میں بھی ۔ہم نے ہر طبقہ کو سماجی انصاف دلانے اور انہیں بااختیار بنانے کو اولین ترجیح دی ہے۔ سماجی انصاف ہمارے لیے سیاسی نعرے بازی کا حصہ نہیں ہے بلکہ ہمارے لیے ایمان کا مضمون ہے۔‘‘
وہ ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے جب یہ خطاب کر رہے تھےتو پارٹی کے چوالیسویں یوم تاسیس کو ملک کے کروڑوں بی جے پی ممبران دیکھ رہے تھے ۔اس پروگرام کی 10 لاکھ پوائنٹس پر اسکریننگ کی گئی۔جہاں وزیر اعظم نے کہا کہ "بی جے پی نے جمہوری نسل کے بطن سے جنم لیا ہے۔اور یہ کہہ کر انہوں نے کانگریس سمیت تمام اپوزیشن پارٹیوں جو’خاندان سے منسلک’ہیں پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ "آج، وہ اتنے مایوس ہو چکے ہیں کہ انہوں نے کھلے عام کہنا شروع کر دیا ہے کہ مودی تیری قبر کھدیگی-
جبکہ "بی جے پی سماجی انصاف کی زندگی گزارتی ہے، اس پر عمل پیرا ہے۔ بی جے پی کے پروگرام اور پالیسی کا فائدہ 80 کروڑ لوگ حاصل کر رہے ہیں۔
"بی جے پی سب کا ساتھ-سب کا وکاس سب کا وشواس اور سب کا پریاس کے منتر کے ساتھ کام کر رہی ہے۔
یہ ہے بی جے پی کے کرشمائی وزیر اعظم کا چوالیسویں یوم تاسیس پر کیا ہوا خطاب ۔اور اسی خطاب کی بنیاد پر موصوف کا دعوی ہےکہ لوگ کہتے ہیں کہ مودی کو شکست دینا ناممکن ہے ۔اس پورے خطاب کے دوران ہر شخص اپنے بال خود نوچنے پر مجبور تھا کہ آخر 2014سے قبل 2019کے عام انتخاب کے دوران اور اب 2024کے عام انتخاب سے قبل کے اس خطاب میں کیا فرق ہے ۔سب کا وکاس کب اور کہاں ہوا ۔سرکار نے اپنے دوست اڈانی امبانی کے علاوہ کس پر وشواس کیا ۔اور اس ملک کی ترقی کے پریاس کےدوران سرکاری اثاثوں کی فروختگی کے علاوہ اور ہوا کیا ہے ۔
میں نے ابتدا میں جو کہا تھا کہ ہمارے وزیر اعظم دنیا کے واحد وزیر اعظم ہیں جن کی تقریر سن کر ہنسی آتی ہے ۔












