(سید مجاہد حسین)
بلا شبہ دہشت گردی کسی بھی ریاست اور ملک کیلئے خطرناک ہوتی ہے ،اس کی کسی طور سے حمایت یا آبیاری نہیں کی جاسکتی۔اس سے ملک کو نقصان پہنچتا ہے بلکہ ترقی بھی متاثر ہوتی ہے ۔بھارت نے کئی دہائیوں تک دہشت گردی کی بد ترین صورتوں کا سامنا کیا ہے ۔جس میں نہ صرف عام نوجوان ہی ہلاک ہوئے ،بلکہ اس میں سیاسی پارٹیوں کے کئی قیمتی لیڈر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔ریاست کشمیر ہو یا پھر تمل ناڈو چھتیس گڑھ ہو یا مدھیہ پردیش،آسام ہو یا پنجاب ،ملک کو ہر طرف سے دہشت گردی نے جکڑ رکھا تھا ۔جنوب میں ایل ٹی ٹی ای ،تو شمال میں الفا ،پنجاب میں خالسا لبریشن فرنٹ تو وہیں مدھیہ پردیش سے نکسلزم ،نیپالی سرحدی علاقوں میں مائو وادیوں کا ظہور بھارت کیلئے ایک عذاب تھا ۔ حالیہ کچھ دنوں سے اس کی شدت میں کمی ضرو ر دیکھنے میں آئی ہے ،لیکن یہ کہنا ٹھیک نہیں کہ ان کی جڑیں مکمل طور سے کمزور پڑی ہیں یا پھر خاتمہ ہوگیا ہے۔گلوبل سطح پر بھی دیکھا جائے توآج بھی کئی ممالک تاحال دہشت گردی اور انتہا پسندی کے شکنجہ میں جکڑے ہوئے ہیں۔بلا شبہ دہشت گردی کی کئی قسمیں ہو سکتی ہیں جنمیں ایک دوسروں سے انتقام لینے کی جنونی کیفیت بھی ہے جو پل بھر میں معصوم لوگوں کے کون کی ندیاں بہا دیتی ہے اور ان کو تڑپتا ہوا دیکھ کرہوش ہوتی ہے۔ممبئی میں ہمیں 26/11کا وہ حملہ بھی یاد ہے جب ایک اسٹیشن پر لوگوں کو اجمل عامر قصاب نامی شخص نے معصوم لوگوں کی جان لے لی تھی ،حال ہی میں نیوزی لینڈ میں ایک درندہ صفت ظالم شخص نے دو درجن معصوم بچو ں کے کریچ میں گھس کر حملہ کر کے ان کو گولیوں سے بھون ڈالا تھا۔آج سے بیس سال قبل9/11کو امریکہ میں ٹوئین ٹاور س کو ہوائی حملہ کر کے تباہ کر دیا گیا تھا۔اس کے علاوہ ہمارے سامنے کئی مثالیں موجودہیں جو دہشت گردانہ حملوں سے عبارت ہیں ۔جو ہمارے دلو دماغ کو پریشان رکھتی ہیں ،لیکن ان کا ہر طرح سے مقابلہ کرنا ہے اور ان جنونیوں کا خاتمہ کرنا ہے جنہیں انتقام ،علیحدگی پسندی کے جنون اور انتہا پسندی کے عنصر نے اندھا کرکے رکھ دیاہے۔اس کیلئے ہماری مودی حکومت نے زیرو ٹالرینس کی پالیسی اپنائی ہے ،جس کا جزوی اثرضرور دکھائی دیا جانا چاہئے۔ ابھی اس سمت میں مزید کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ کانگریس یا دیگر پارٹیوں پر یہ الزام کہ انہوں نے دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے کچھ نہیں کیا ،غلط ہے ۔تب بھارت نے تو ایل ٹی ٹی ای سے مقابلہ کرنے کیلئے اپنی فوج سری لنکا بھیجی تھی تاکہ تمل ٹائیگرس کی جڑیں مٹا دی جائیں ۔لیکن اس کے باوجود کانگریس خود دہشت گردانہ حملوں سے بچ نہیں سکی۔اس وقت کانگریس نے اپنے کئی اہم لیڈر اس دہشت گردی کی وجہ سے گنوا دئے ۔1991میںراجیو گاندھی ایل ٹی ٹی ای کے حملے میں ہلاک ہو گئے تو سال 1984میںسابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کو ان کے ہی باڈی گارڈ بے انت سنگھ نے گولیوں سے چھلنی کر کے قتل کردیا تھا ۔اس لئے کسی ایک پارٹی کو دہشت گردی کو نہ مٹاپانے کیلئے ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاسکتا! ۔لیکن بد قسمتی ہے کہ ہم ماضی کو ہی آج تک کوس رہے ہیں،حالانکہ اس سے کچھ حاصل ہونے والا نہیں ۔ہمیں ملک کے موجودہ حالات کا مقابلہ کرنا چاہئے اور ماضی سے موازنہ کرنے کا سلسلہ بند کرنا چاہئے۔وزیر اعظم مودی کی جمعہ کے دن دہشت گردی پر طویل اسپیچ اس امر کی عکاس ہے کہ موجودہ بی جے پی کی حکومت اس کو ختم کرنے کے لئے کسی بھی حد تک جاسکتی ہے ،اچھی بات ہے ،یہ ضروری بھی ہے ۔لیکن سوال یہ ہے کہ جو کوشش کی جارہی ہے اس میں مکمل کامیابی کیوں نہیں مل پارہی ہے ۔چھ سال پہلے جب نوٹ بندی کی گئی تھی تب کہا گیا تھا کہ اس کا مقصد جعلی کرنسی اور دہشت گردی کو ختم کرنا ہے ۔لیکن اس کا زیادہ اچھا رزلٹ بر آمد نہیں ہوا ۔نا تو جعلی کرنسی بند ہو سکی نا ہی دہشت گردی پر لگام لگ پائی ۔لیکن اس اینگل سے ان تمام ممالک کو سوچنا چا ہئے جو اسپانسرڈ ٹیررازم کو فروغ دینے کا کام کرتے ہیں یا تاویلات تلاش کرتے ہیں۔دہشت گردی کیلئے کہیں کوئی جگہ نہیں ہونی چاہئے ،یہ دو ملکوں میں نفرت پھیلانے اور انہیں ترقی سے روکنے کا کام کرتی ہیں۔سبھی دنیا کے ممالک کو بھارت کے اس فارمولہ کو اپنالینا چاہئے ۔اگر صفر برداشت کی پالیسی پر عمل کیا جائے تو امید ہے کہ دہشت گردی کو ختم کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔












