تہران، (یواین آئی) ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ موجودہ جنگ کا خاتمہ تبھی ممکن ہے جب اس بات کی پختہ ضمانت دی جائے کہ حملے دوبارہ نہیں دہرائے جائیں گے۔ عراقچی نے ایک معروف عربی اخبار العربی الجدید سے گفتگو کے دوران واضح کیا کہ جنگ کا اختتام اسی وقت ممکن ہے جب حملوں کے دوبارہ نہ ہونے کی ضمانت دی جائے۔ ساتھ ہی انہوں نے تنازع کے دوران ہوئے نقصان کے لیے ہرجانے یا معاوضے کی ادائیگی کا مطالبہ بھی کیا۔ انہوں نے علاقائی ممالک کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی بنانے کی تجویز دی جو خطے میں ہوئے حملوں کی باریک بینی سے جانچ کر سکے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے زور دے کر کہا کہ تہران کی فوجی کارروائیاں صرف اس خطے میں موجود امریکی اڈوں اور مفادات تک محدود رہی ہیں۔ انہوں نے اس بات کی سختی سے تردید کی کہ ایران نے کسی پڑوسی ملک کے شہری یا رہائشی علاقے کو نشانہ بنایا ہے۔ عراقچی نے خدشہ ظاہر کیا کہ عرب ممالک کے شہری ٹھکانوں پر ہوئے حملوں کے پیچھے اسرائیل کا ہاتھ ہو سکتا ہے، جس کا مقصد ایران اور اس کے پڑوسی عرب ممالک کے خوشگوار تعلقات میں دراڑ ڈالنا ہے۔ انہوں نے یہ بھی سنسنی خیز دعویٰ کیا کہ امریکہ نے ایران کے "شاہد” ڈرون کی طرز پر "لوکاس” نامی ایک نیا ڈرون بنایا ہے، جسے عرب ممالک میں ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران کے توانائی مراکز یا تیل کی سہولیات کو نشانہ بنایا گیا تو تہران سخت جواب دے گا۔ ایسی صورت میں ایران خطے میں سرگرم امریکی کمپنیوں کے ٹھکانوں پر براہِ راست حملہ کرے گا۔ دریں اثنا ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے ایک ایسا بیان جاری کیا ہے جس نے واشنگٹن سے تہران تک خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ بدنامِ زمانہ ایپسٹین نیٹ ورک کی باقیات اور مخصوص امریکی حلقے ایک فالس فلیگ آپریشن کی تیاری کر رہے ہیں تاکہ نائن الیون جیسی کسی بڑی تباہی کا الزام ایران پر تھوپ کر بڑی جنگ کا جواز پیدا کیا جا سکے۔علی لاریجانی نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں عالمی برادری کو خبردار کیا کہ ایران ایسی کسی بھی دہشت گردانہ کارروائی کا حصہ نہیں ہو سکتا۔ ان کے خطاب کے کلیدی نکات یہ ہیں۔ لاریجانی کے مطابق ایپسٹین ٹیم کی باقیات اس گھناؤنے منصوبے کے پیچھے ہیں۔












