حیدرآباد،پریس ریلیز،ہماراسماج:طلبۂ صحافت کی ہمہ جہت ترقی کو یقینی بنانے کے لیے عملی تربیت بھی ضروری ہے۔ اس ضمن میں شعبۂ ترسیل عامہ و صحافت ٹھوس بنیادوں پر کام کر رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسر سید عین الحسن، وائس چانسلر، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی نے کیا۔ انہوں نے آج شعبۂ ترسیل عامہ و صحافت کے ”اردشیر ایرانی میڈیا اسٹوڈیو “ کا باضابطہ طور پر افتتاح انجام دیا۔ اس موقع پر منعقدہ تقریب کو خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر نے کہا کہ صحافت کے طلبہ کو عملی میدان کے چیلنجس سے نمٹنے کے لیے بہترین تربیت کی ضرورت ہے اور مانو کا شعبہ ترسیل عامہ و صحافت طلبہ کی تربیت کے لیے ہر طرح کا سامان فراہم کر رہا ہے۔ شعبہ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے انہوں نے ہر ممکنہ تعاون کا یقین دلایا اور کہا کہ اردو یونیورسٹی کے طلبہ دیگر زبانوں پر عبور حاصل کرتے ہوئے جاب مارکٹ میں اپنے لیے بہترین مواقع حاصل کرسکتے ہیں۔ وائس چانسلر نے کہاکہ اردو یونیورسٹی کے طلبہ کو مناسب تربیت اور رہبری فراہم کی جائے تو ان میں ترقی کی بے پناہ صلاحیتیں موجود ہیں۔ایم سی جے میڈیا اسٹوڈیو کی افتتاحی تقریب میں وائس چانسلر کے علاوہ رجسٹرار پروفیسر اشتیاق احمد، ڈین اکیڈیمکس پروفیسر محمد شاہد، صدر شعبہ نظم و نسق عامہ پروفیسر سید نجی اللہ، صدر شعبۂ سی ایس و آئی ٹی پروفیسر پردیپ کمار، صدر شعبۂ سماجیات ڈاکٹر کے ایم ضیاءالدین، صدر شعبۂ اسلامک اسٹڈیز پروفیسر محمد حبیب کے علاوہ مختلف اسکولوں کے ڈین، صدور شعبہ جات، اساتذہ، غیر تدریسی عملہ ، پی ایچ ڈی اسکالرس، یو جی و پی جی کے طلبہ موجود تھے۔ اس موقع پر طلبۂ صحافت کے تیار کردہ چنندہ ویڈیوز کی اسکریننگ بھی کی گئی۔ایم سی جے میڈیا اسٹوڈیو کے افتتاح کے بعد وائس چانسلر پروفیسر سید عین الحسن کا ایک تفصیلی انٹرویو ایم سی جے کی طالبہ صالحہ وسیم نے ریکارڈ کیا۔ جو بہت جلد ایم سی جے کے یو ٹیوب چینل پر پیش کیا جائے گا۔پروفیسر احتشام احمد خان، صدر و ڈین شعبۂ ترسیل عامہ و صحافت نے شعبہ کے میڈیا اسٹوڈیو کے آغاز کے متعلق تفصیلات پیش کیں اور کہا کہ جاریہ تعلیمی سال سے ویڈیو پروڈکشن کے دو کریڈٹ یو جی ، پی جی کے سبھی طلبہ کے لیے لازمی کردیئے گئے ہیں اور مختصر سے عرصے میں توقع ہے کہ طلبہ ویڈیو پروڈکشن کی عملی مشق کرتے ہوئے سیاسی، سماجی، معاشی، ثقافتی اور تاریخی نوعیت کے اہم موضوعات پر 250 سے زائد ویڈیو تیار کریں گے۔












