گجرات اسمبلی انتخابات کا پہلا مرحلہ شروع ہوچکا ہے ۔بھارتیہ جنتا پارٹی کے اسٹار کمپینرس آجکل گاندھی نگر میں ڈیرا ڈالے ہوئے ہیں۔ربع صدی سے زائد عرصے تک ریاست پر حکومت کرنے والی بھارتیہ جنتا پارٹی کے اقتدار میں اس وقت زلزلہ سا آیا ہوا ہے ۔اس کے اقتدار کے تخت کے پائے لرزہ بر اندام ہیں ۔موربی حادثے نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے انتظام،انصرام،عوامی کے تئیں حساسیت،لوگوں کی جان کی قیمت پر کسی بھی حد تک چلے جانے کی ذہنیت کو عوام پر پوری طرح ظاہر کردیاہے۔ ریاست کے عوام اچھی جان گئے ہیں کہ چوتھائی صدی میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے حکمرانوں نے گجرات کو لاکھوں کروڑ روپئے کا مقروض کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کیا ۔وہاں کی مشہور ٹےکسٹائل صنعت دم توڑ رہی ہے۔صنعت کاروں کو لاگت کے مطابق قیمت نہیں مل رہی ہے،مزدور کو محنت کا معاوضہ نہیں مل رہا ہے ، قانون ،انتظام کی حالت خستہ ہے،دلتوں ،آدی واسیوں پر خوف و دہشت طاری ہے یعنی کل ملاکر بھارتیہ جنتا پارٹی نے ریاست میں ایسا کچھ بھی نہیں کیا کہ وہ عوام کو اپنے قریب لاسکے یا اپنی حصول یابی سے آئندہ وعدوں کے جال میں پھنساسکے۔
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق گجرات کے کئی ایسے گاؤں ہیں جہاں آج تک بجلی نہیں پہنچی،بھارت پاکستان سرحد سے لگ بھگ تےس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع گاؤں راگھنیڈا کے لوگوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے کبھی بجلی کے درشن نہیں کئے۔حالانکہ سرحدی علاقہ ہونے کی وجہ سے 1400 ہیکٹر زمین پر 700 میگاواٹ سے زیادہ کی صلاحیت والا سولر پارک بنایا گےا ہے اور گاؤں سے کئی کلو میٹر دور تک ہزاروں سولر پینل نصب کئے گئے ہیںلیکن اتنے بڑے پروجیکٹ سے گاؤں والوں کو کوئی فائدہ نہیں ہوا ہے ۔آبپاشی کے ذرائع بہت محدود ہیں اس لئے گاؤں کی زمین پر خشکی اور ریگستان کے اثرات نمایاں نظر آتے ہیں۔گاؤں میں زیادہ سے زیادہ پڑھے لکھے لوگ دسویں یا بارھویں کلاس پاس ہیں ان میں سرکاری ملازم تو ہے نہیں عام طور پر سب کے سب یومیہ مزدوری پر کام کرتے ہیں۔پینے کے صاف پانی کے لالے ہیں کمپوٹر صدی میں بھی یہ گاؤں صدیوں پرانی روایایتی زندگی گذارنے پر مجبور ہے۔لوگوں کا کہنا ہے کہ ایسے گاؤں کی ایک طویل فہرست ہے جو بنیادی سہولیات سے آج بھی محروم ہیں۔
کئی سروے ایجنسیاں دعویٰ کرچکی ہیں کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اس بار اقتدار قائم رکھنے میں کامیاب نہیں ہوسکے گی۔عام آدمی پارٹی ریاست کی بڑی اپوزیشن جماعت ہوسکتی ہے اور اگر کانگریس کے امید وار اگر مضبوطی کے ساتھ چناوی دنگل میں کھڑے رہے تو ان کی جیت کا یقین کیا جاسکتا ہے۔عام آدمی پارٹی کی شہروں میں اچھی پوزیشن ہے،دیہات میں کانگریس مقبول ہے ،کچھ حلقوں میں کئی آزاد اور دیگر جماعتوں کے لیڈر اپنے مقابل امیدواروں کو اچھی ٹکر دے رہے ہیں بھارتیہ جنتا پارٹی ان سروے کے مطابق شکست سے دوچار نظر آرہی ہے۔بھارتیہ جنتا پارٹی کی مرکزی قیادت،پالیسی ساز اور اسٹار پرچارکوں کی سرگرمیاں،تقریریں اور بوکھلاہٹ بھی ظاہر کررہی ہے کہ انہیں بھی پارٹی کی عدم مقبولیت اور زمینی حقیقت کا احساس ہوچلا ہے۔یہ ریاست بھاجپا کے لحاظ سے اس کا ایک مضبوط قلعہ ہے ۔اگر یہ ڈھہہ گےا تو 2024 میں اس کی ساکھ کا برقرار رہنا مشکل ہوگا۔پارٹی کے لئے اب یہاں کرو یا مرو کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے لہٰذاپارٹی کی اعلیٰ قیادت نے ایک بار پھر ریاست میں تعصب،نفرت،حقارت اور مذہبی جنون پیداکرنے کے اپنے پرانے فارمولے پرعمل کرنا شروع کردیا ہے۔
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے گذشتہ دنوں اپنی تقریر میں علی الاعلان دعویٰ کیا کہ انہوں نے 2002 میں تمام شرپسندوں کو سبق سکھادیا ہے ۔امت شاہ کی اس تقریر کے مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں ہےں۔گجرات کے فسادت میں مسلمانوں کا قتل عام ہواتھا۔بچے بوڑھے،نوجوان ہی نہیں نونہال تک بھی فسادیوں اور آتنک وادیوں کی تلواروں،گولیوں،خنجروں اور دیگر ہتھیاروں کا نشانہ بنے تھے۔اس کیس میں موجودہ وزیر اعظم نریندر بھائی مودی اور فی الوقت مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو عدالت نے مجرم قرار دیا تھا۔امت شاہ کو یہ بھی حکم دیا گیا تھا کہ ان کا ریاست گجرات میں رہنا امن و انصاف کے لئے خطرناک ہے۔ لہذا ان کو ریاست بدر کیا جائے ۔ساری دنیا میں دونوں لیڈران کو فسادی اور انسانی حقوق کا قاتل قرار دیا گےاتھا۔ امریکہ جیسے ممالک نے اپنے ملک میں ان کے آنے پر پابندی لگادی تھی ۔گجرات فسادات کی چیخیں اقوم متحدہ تک میں سنائی دی تھیں۔اس وقت بھارتیہ جنتا پارٹی کو فسادیوں کی جماعت بھی کہا جانے لگا تھا کانگریس کے وزیر داخلہ پی چدمبرم نے بھگوا آتنک وادی تک کہہ ڈالا تھا ۔ دنیا بھر کی بدنامی کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی کے چھوٹے سے بڑے عہدے دار تک قسمیں کھاکھاکر صفائی دیتے پھرے تھے کہ گجرات فسادات سے ان کی جماعت کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ کانگریس انہیں بدنام کررہی ہے اور ان کو ناجائز مقدمات میں سازش کے تحت پھنسایا جارہا ہے ۔بعد میں ماحول بدلا ،نریندر مودی ملک کے وزیر اعظم بنے اور امت شاہ وزیر داخلہ۔ اقتدار کی طاقت نصیب ہونے کے بعد ملک کی سب سے بڑی عدالت نے دونوں کو کلین چٹ دی تھی ۔
امت شاہ کی حالیہ تقریر نے گجرات فسادات کے زخموں کو پھر تازہ کیا ہے ۔ حاملہ عورتوں کا پیٹ چیر کر ناپختہ حمل کو ضائع کرنے اور حاملہ سے اجتماعی عصمت دری حیوانیت کے وہ بھیانک واقعات ہیں جن کی مثالیں ،چنگےز ،ہلاکو،ہٹلر اور مسولینی کے دور میں بھی نہیں ملتیں۔ایک سابق ممبر پارلیمنٹ کو اسی کے گھر میں بند کرکے اس قدربے دردی سے جلاکر مارگےا تھا کہ اس کے تصور سے ہی رونگٹے گھڑے ہوجاتے ہیں۔کم سن لڑکیوں کی عزت کو کئی کئی حیوانوں نے مل کر تاراج کیا،بچیوں کے خفیہ مقامات کو خنجر اور دھار دار ہتھیار سے چھلنی کیا گےا۔معصوم بچوں کو قتل کرکے نیزوں پر اچھالا گےا تھا۔ گجرات کے واقعات کی عالمی حقوق انسانی کی کئی تنظیموں نے سخت الفاظ میں مذمت کی تھی۔آنجہانی وزیر اعظم اٹل بہاری باجپئی تک نے اس وقت کے وزیر اعلیٰ اور موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی کے رویے پر افسوس کا اظہار کیا تھا۔ گجرات کے قتل عام کے بعد سے آج تک ریاست میں رہنے والے مسلمانوں پر شدید خوف و دہشت طاری ہے ۔عدالتوں میں کئی برس تک مقدمے بھی چلے قصورواروں کو سزائیں بھی ہوئیں۔
امت شاہ نے ایک بار پھر گجرات فسادات کا ذکر چھیڑکر یہ کہنے کی کی کوشش کی ہے کہ فسادات ایک سوچی سمجھی سازش کا نتیجہ تھے۔مسلمانوں کو تہہ تیغ کرنے کا انہوں نے حکم دیا تھا،سرکارنے ہی معصوم لڑکیوں کی عصمتیں روندنے کی اجازت دی تھی ۔ان ہی کے اشارے پر گھروں میں بند کرکے کئی لوگوں کو زندہ جلایا گےا تھا ،اسی کی ایما پر عورتوں کے پیٹ چاک کرکے حمل ضائع کئے گئے اور نونہالوں کو نیزوں پر اچھالا گےا۔امت شاہ کی یہ تقریر ایک طرح کا اقبال جرم بھی ہے اور دھمکی بھی کہ اگر اس بار اقلیتیں اسے جیتنے سے روکیں گی تو ان واقعات کا اعادہ کیا جاسکتا ہے جن کے تصور سے ہی انسانیت کاپنے لگتی ہے۔بھارتیہ جنتا پارٹی نے گجرات میں نفرت اور خوف کی لہر پیدا کرنے کے لئے صرف امت شاہ سے ہی ایسے الفاظ کی ادائیگی نہیں کرائی بلکہ راجناتھ سنگھ ،یوگی ادتیہ ناتھ،جے پی نڈا اور دیگر لیڈروں کو بھی اسی قسم کی اسکرپٹ لکھ کر دی گئی ہے ۔ مدارس کی اسکالر شپ کو بند کیا جانا،وقف جائیداد پر سرکارکی من چاہی سے کام ہونا،یکساں سول کوڈ کی دھمکی دراصل گجرات میں اقتدار کو اپنے ہاتھوں میں رکھنے کی کوشش کے سوا کچھ نہیں ہے۔بھارتیہ جنتا پارٹی کی یہ کوششیں اس بار شاید کامیاب نہیں ہوسکیں گی کیونکہ گجرات کے عوام برسوں سے ان باتوں کو سنتے سنتے تھک چکے ہیں۔اب وہ چاہتے ہیں کہ ریاست میں حقیقی ترقی ہو،مرتی ہوئی کپڑا صنعت میں روح پھونکی جائے، کسانوں کو مراعات حاصل ہوں،مزدوروںکا استحصال بند ہو،ہر گاؤں میں بجلی ہو،پینے کا صاف پانی میسر آئے اور زندگی گذارنے کے وسائل کو یقینی بنایا جائے۔گجرات کے لوگوں کو بھارتیہ جنتا پارٹی نے جو مذہبی جنون کا نشہ پلایا تھا اس کا اثر اب زائل ہونے لگا ہے۔امت شاہ جی اب خود کو کتنا ہی سخت گےر دکھائیں،مسلمانوں کے قتل عام کی چاہے جتنی دھمکی دیں ،مجرموں کی چاہے جتنی پشت پناہی کریں اب ان باتوں کا اہل گجرات پر کوئی اثر ہونے والا نہیں ہے۔












