نئی دہلی، ( یو این آئی )نئی دہلی سے تعلق رکھنے والی نو سالہ کوہ پیما سواکرتی انسان نے ثابت کر دیا ہے کہ اگر ارادہ مضبوط ہو تو کم عمری اور محدود وسائل کے باوجود بلند ترین چوٹیاں سر کی جا سکتی ہیں۔پانچویں جماعت کی اس طالبہ نے اس نئے سال کے موقع پر افریقہ کی بلند ترین چوٹی کلیمنجارو (5,895 میٹر) سر کر کے ایک نیا اعزاز اپنے نام کر لیا ہے۔ یو این آئی س خصوصی بات چیت میں ان کی متاثر کن سفر کی تفصیلات پیش ہیں:سواکرتی کی کوہ پیمائی میں دلچسپی مغربی گھاٹ میں وسوٹا قلعہ کی ٹریکنگ سے شروع ہوئی۔ انہوں نےمارچ 2024 میں اناپورنا بیس کیمپ (4,130 میٹر) کی تسخیر کی ،دسمبر 2024 میں نیپال کے علاقے لنگٹانگ میں کیانجن ری (4,400 میٹر) اور تسیرکو ری (4,985 میٹر) کی چوٹیاں سر کیں۔ مارچ 2025 میں ماؤنٹ ایورسٹ بیس کیمپ (5,364 میٹر) صرف 5 دن میں مکمل کیا۔ دسمبر 2025 میں افریقہ کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ کلیمنجارو کو لیموشو راستے سے محض 7 دن میں سر کیا۔سواکرتی کی خاص بات ان کی غیر معمولی رفتار ہے۔ جہاں ایورسٹ بیس کیمپ کے لیے عام طور پر 12 سے 15 دن درکار ہوتے ہیں، انہوں نے یہ فاصلہ 5 دن سے بھی کم وقت میں طے کیا۔ اسی طرح اناپورنا بیس کیمپ محض 3 دن میں مکمل کیا۔کلیمنجارو کی مہم میری اب تک کی سب سے مشکل مہم تھی۔ پہلی بار مجھے کئی دن مسلسل ٹینٹ میں سونا پڑا، وہ بھی منفی درجہ حرارت میں۔ یہ مشکلات آپ کو مزید مضبوط بناتی ہیں۔” سواکرتی انسانسواکرتی نے ماؤنٹ ابو کے سوامی ویویکانند انسٹی ٹیوٹ سے راک کلائمبنگ کا کورس مکمل کیا ہے جہاں انہوں نے گولڈ میڈل حاصل کیا۔ ان کے والد، جو ہر مہم میں ان کے ساتھ ہوتے ہیں، بتاتے ہیں کہ وہ روزانہ گھر پر 2 سے 3 گھنٹے دوڑ، یوگا اور دیگر ورزشیں کرتی ہیں۔ سواکرتی کا اگلا ہدف 6,000 میٹر سے بلند چوٹی سر کرنا ہے۔ وہ سواحلی زبان کے الفاظ "پولے، پولے” (آہستہ آہستہ) پر یقین رکھتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مستقل مزاجی کے ساتھ چھوٹے قدم اٹھا کر آپ زندگی اور کوہ پیمائی دونوں میں جیت سکتے ہیں۔ اب تک سواکرتی کی تمام مہمات کے اخراجات ان کے والد خود برداشت کر رہے ہیں، لیکن مستقبل کی تکنیکی تربیت اور بڑی مہمات کے لیے انہیں حکومتی یا نجی شعبے سے اسپانسر شپ کی ضرورت ہے تاکہ وہ ہندوستان کا نام مزید روشن کر سکیں۔












