کٹیہار بلقیس خاتون : کٹیہار کے کوڑھا تھانہ حلقہ کے سمریا گاؤں کے رہنے والے برتنوں کی فیری لگانے والے ایک نوجوان کے ساتھ مارپیٹ اور لوٹ پاٹ کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ اس سلسلے میں متاثرہ شخص نے پوٹھیا تھانہ اور کوڑھا کے سب ڈویژنل پولیس افسر کو درخواست دے کر انصاف کی اپیل کی ہے۔برتنوں کی فیری لگانے والے متاثرہ نوجوان اکمل حسین (عمر 25 سال) نے بتایا کہ وہ 11 جنوری کی شام تقریباً 5 بجے فیری کے دوران سمیلی چوک کے تحت چکلا گاؤں گئے تھے۔ وہاں برتن فروخت کر رہے تھے کہ اسی دوران سائیکل پر سوار دو افراد وہاں آئے اور انہیں بنگلہ دیشی کہہ کر گالی گلوچ کرنے لگے۔ اس کے بعد لاٹھی سے شدید مارپیٹ کی اور ان کی جیب میں موجود کمائی کے 12 ہزار روپے چھین کر فرار ہو گئے۔متاثرہ کے مطابق مارپیٹ کے دوران دونوں افراد یہ کہتے رہے کہ آئے دن فیری والے بنگلہ دیشی یہاں آ کر خواتین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتے ہیں۔اس معاملے میں متاثرہ نے پوٹھیا تھانہ اور کوڑھا کے سب ڈویژنل پولیس افسر کو درخواست دے کر انصاف کی اپیل کی ہے۔وہیں اس واقعہ پر شیرشاہ وادی وکاس منچ کے قومی صدر محمد صغیر نے کہا کہ بنگلہ دیش میں پیش آنے والے واقعات کے بعد بہار میں شیرشاہ وادی سماج کے لوگوں کو نشانہ بنا کر مارپیٹ کی جا رہی ہے۔ ہماری مادری زبان اور بول چال میں بنگالی لہجہ ہے۔ اسی بنیاد پر کچھ لوگ اس طرح کی وارداتیں انجام دے رہے ہیں جو بالکل غلط ہے۔ ہمارے سماج کو نشانہ بنانا مناسب نہیں ہے۔ حکومت سے ہماری مانگ ہے کہ جو لوگ شیرشاہ بادی سماج کے افراد کے ساتھ ظلم و زیادتی کر رہے ہیں ان کو سخت سے سخت سزا دی جائے تاکہ آئندہ کوئی ایسی حرکت کرنے سے پہلے سوچے۔ادھر اس معاملے پر کٹیہار کے کوڑھا سب ڈویژنل پولیس افسر رنجن کمار نے بتایا کہ اس واقعہ سے متعلق درخواست موصول ہو چکی ہے دو افراد کو نامزد ملزم بنایا گیا ہے۔ معاملے کی جانچ کی جا رہی ہے اور جلد ہی گرفتاری عمل میں لائی جائے گی۔اس واقعہ پر کانگریس کے قومی سکریٹری توقیر عالم بھی متاثرہ خاندان سے ملاقات کے لیے پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ کٹیہار-کوڑھا کے سمریا گاؤں میں بنگالی زبان بولنے والے اکمل کو بنگلہ دیشی کہہ کر دو افراد کے ذریعے مارپیٹ کرنا نہایت افسوسناک، تشویشناک اور انسانیت کو شرمندہ کرنے والا واقعہ ہے۔ زہریلی سوچ رکھنے والے لوگ، نفرت پھیلانے والی میڈیا اور بی جے پی حکومت مل کر دیہی علاقوں میں نفرت کی چنگاری پھیلانے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔ اسی گاؤں کی دو خواتین کا شکریہ جنہوں نے فیری والے اکمل کو بچایا۔موب لنچنگ کی کوشش اور مذہب و زبان کی بنیاد پر ہونے والی ایسی مارپیٹ کے واقعات کو سیمانچل میں پھیلانے والوں کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔












