آج گجرات میں آخری مرحلہ کی پولنگ ختم ہو گئی جہاں ساٹھ فیصد لوگوں نے ووٹ ڈالے ہیں ،وہیں دوسری جانب ہماچل ،دہلی اور گجرات میں ہوئے انتخابات کے بعد رجحانات کے آنے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے ۔ایگزٹ پول سے اندازہ ہو رہا ہے کہ گجرات میں کس کا اقتدار ہو گا ،دہلی کے ایم سی ڈی میں کس کی دعویداری ہو گی، مئیر کس کا ہوگا اور وہیں ہماچل یعنی جے پی نڈا کی ریاست میں کون حکومت کرے گا۔۔گجرات کے بارے میں ایگز ٹ پول سے صاف ظاہرہے کہ ریاست میں بی جے پی ایک بار پھر حکومت کرے گی اور وہ اگلے پانچ سالوں تک گجرات کی سرداری کرے گی ،اسے ریاست میں تقریبا ڈیرھ سو کے قریب سیٹیں ملنے کا رجحان ظاہرکیا جارہا ہے ،وہیں کانگریس کو تقریبا تین درجن سیٹیں ملنے کے اشارے ہیں ،اس کے علاوہ عام آدمی پارٹی جو کہ گجرات کے انتظامات کو آئینہ دکھا رہی تھی ،اس کے ہاتھ محض 5-7 سیٹیں آسکیں گی !۔دہلی میں یہ تصویر کچھ برعکس ہے ،بھارتیہ جنتا پارٹی کی دہلی کارپوریشن میں واپسی ممکن نظر نہیں آرہی ہے ۔یعنی کہ دہلی میں عام آدمی پارٹی کو 140سیٹیں مل سکتی ہیں تو وہیں بی جے پی کو محض ایک تہائی سے بھی کم مل سکیں گی! اور کانگریس کا چراغ گل ہی رہے گا۔اس کامطلب ہے کہ دہلی میں بی جے پی کا ڈنکا اس بار نہیں بجے گا اور عام آدمی پارٹی کا خواب پورا ہوجائیگا!۔وہیں ہماچل میں بی جے پی ایک بار پھر تاریخ بنانا چاہتی ہے اور واپسی کرتی نظر آرہی ہے ۔اس سے لگ رہا کہ ہماچل پردیش میں حکومت کی باگڈور ایک بار پھر بی جے پی کے ہاتھ آجائیگی ۔ادھر گجرات اور ہماچل میں اگر بی جے پی کو دوباراہ اقتدار ملنے کی امید ہے تو وہیں دہلی میں بھی تاریخ قائم کرنے کی تیاری ہے ۔گویا رجحان کے مطابق دہلی میں میونسپل کارپوریشن میں عام آدمی پارٹی کا ڈنکا بجے گاایسے میں کہا جا سکتاہے کہ دہلی میں اگر بی جے پی کا گجرات ماڈل نہیں چل پایا ،تو وہیں گجرات میں بھی عام آدمی پارٹی کا دہلی ماڈل نہیں چل سکا!۔ا سکی کیا وجہ ہے یہ ابھی کہنا مشکل ہے لیکن ہاں ،ہماچل میں کہا جاسکتا ہے کہ پہاڑی ریاست میں عام آدمی پارٹی پیچھے ہٹ گئی تھی اور اس نے امید چھوڑ دی تھی۔بہر حال ،رجحانات سے صاف ظاہر ہے کہ دہلی میں لوگوں کو بی جے پی سے کافی ناراضگی ہے اور اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ بی جے پی کے لئے سخت اشارہ ہوگا۔ ۔ناقدین کا ماننا ہے تازہ رجحانات 2024کے لئے بڑا اشارہ ہیں جہاں اپوزیشن و سیکولر پارٹیوں کے لئے پریشانی اور مصیبت کا بگل بج سکتا ہے۔سوال یہ ہے کہ ایساکیا ہے کہ دہلی میں عام آدمی پارٹی کو لوگوں نے کارپوریشن میں بھیجااور بی جے پی کو الوداع کہہ دیا؟۔کیا واقعی دہلی میں وہ سب نہیں ہے جو ظاہر کیا جارہا تھا ،کیا واقعی لوگ عام آدمی پارٹی سے خوش ہیں،اور کارپوریشن پر پچھلے پندرہ سالوں سے قابض بی جے پی سے اب بیزار آچکے ہیں! ۔کیا اس سے اندازہ لگالیا جائے کہ عام آدمی پارٹی کے بارے میں بی جے پی کا پروپیگنڈہ جھوٹا تھا ،کیا بی جے پی دہلی حکومت کے بارے میں جو کچھ کہہ رہی تھی اس کی زمینی سچائی کچھ اور ہی تھی ؟۔ اگر رجحانات صحیح ہیں تو اس کا مطلب صاف ہے کہ بی جے پی کے چہرہ پر پڑا غلاف اترنے والا ہے اور عام آدمی پارٹی کے اس شعبہ کو سنبھالنے کے بعدکئی بڑے انکشافات کی امید کی جارہی ہے۔جواس کے کچے چٹھے کھولے گی اور اس کے لئے مشکل کھڑے گی!۔جس کا اثر اگلے اسمبلی یا لوک سبھا الیکشن میں بھی دیکھا جائیگا۔
سوال یہ ہے کہ جس طرح سے دہلی کے کارپوریشن میں ایکزٹ پول آرہے ییں اور سروے بتار ہے ہیں ،اس میں بی جے پی کا بستر گول ہوتا نظر آرہا ہے ، یہ اس کے لئے کافی بدنامی کی بات ہوگی !۔دہلی میں کارپوریشن میں بی جے پی نے کم محنت نہیں کی تھی ،اس کے سرکردہ لیڈروں نے معمولی الیکشن میں دن و رات ایک کردئے تھے ۔وزیر اعظم مودی،وزیر داخلہ امت شاہ اور کئی سینٹرل منسٹر ،جس میں متنازع وزیر یونین اجے مشرا بھی تھے ،سبھی نے دھواں دھار تشیری مہمات کی تھیں اور لوگوں سے مل کر ووٹ مانگے تھے ۔ مبصرین کا یہاں تک کہنا تھا کہ بی جے پی چھوٹے سے الیکشن میں وزیر اعظم سطح کے لیڈروں سے کیمپیننگ کرا رہی ہے اور انہیں سڑکوں پر اتار دیا گیا ہے!۔سوال یہ ہے کیا اس کو لوگوں نے نظر انداز کردیا ہے اور عام آدمی پارٹی پر مکمل بھروسہ کیاہے ؟
بہر حال عام خیا ل ہے کہ گجرات اور ہماچل میں بی جے پی کی واپسی ہوئی تو کوئی تعجب نہیں ہوگا لیکن دہلی کارپوریشن میں بی جے پی کی واپسی پر ضرور تعجب ہوگا۔کہا جارہا ہے کہ دہلی میں بی جے پی کو ڈھائی سو سیٹوں پر بڑے نقصان کا خدشہ ستانے لگا ہے جو اس کے لئے ایک بڑا اشارہ ہوگا۔ بہر کیف ،رزلٹ آنے کا ابھی انتظار کرنا چاہئے ،لیکن رجحانات بھی کافی کچھ کہتے ہیں ،جو یہ بتا رہے ہیں کہ دہلی میں بی جے پی پچھلے پندرہ سال سے کارپوریشن کو جس طرح یرغمال بنائے تھی اس کو لوگوں نے اب آزاد کرا لیا ہے!۔












