اسلام دین فطرت کے ساتھ ایک ہمہ گیر و آفاقی و عالمگیر مذہب ہے جس میں انسانی زندگی کے ہر شعبے پر روشنی ڈالی گئی ہے، خواہ وہ عبادات ہو، معاملات ہو، یا پھر اخلاقیات ، اپنے متبعین کو مواخات و مواسات کا بہترین درس دیا ہے، عید اور دیگر خوشی کے مواقع پر صرف دولت کدہ ہی میں خوشی کا چراغ جلنے نہیں دیا ہے، بلکہ ایسی خوشی مسرت کے موقع پر اہل ثروت کو سماج کے فقراءو مساکین، ونادار غریبوں کو بھی خوشی میں شریک کرنے کا مکلف کیا ہے تاکہ ایک بہتر معاشرہ کی تشکیل عمل میں لائی جاسکے۔
زکوٰۃ الفطر کی تعریف : زکوۃ الفطر کو”صدقتہ الفطر“بھی کہا جاتا ہے، ”فطر“ کے معنی ہیں روزہ ختم کرنا، روزہ توڑنا، جبکہ عام مفہوم کے مطابق اس سے مراد رمضان المبارک کے روزے کے اختتام کے وقت ادا کی جانے والی زکوۃ ہے۔
محترم قارئین کرام : ”صدقتہ الفطر“ہر مسلمان پر فرض ہے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ :رسول اللہ صل اللہ علیہ السلام نے زکوۃ الفطر میں ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو فرض کیا ہے، مسلمانوں کے غلام اور آزاد پر، مرد اور عورت پر، چھوٹے اور بڑے پر، اور حکم دیا ہے کہ اسے نماز عید کے لئے نکلنے سے پہلے ادا کر دیا جائے۔
مذکور حدیث سے پتہ چلا کہ زکوٰۃ الفطر کے لئے نصاب ضروری نہیں ہے، بلکہ بندہ کے پاس اگر عید کے دن کی خوراک کے علاوہ زائد صاع کی ملکیت ہو تو اس پر صدقۃ الفطر واجب ہے، اسی طرح صدقتہ الفطر لوگوں کی عام خوراک سے نکالا جائے،اور نکالنے کا صحیح وقت رمضان المبارک کے آخری روز غروب آفتاب سے لیکر عیدگاہ نکلنے تک ہے ۔
زکوۃ الفطر کے مستحقین:محترم قارئین کرام!
اس تحریر کا اصل محور ”زکوٰۃ الفطر“ کے مصارف کو بیان کرنا ہے، یاد رہے کہ یہ مسئلہ قدیم زمانے سے فقہاءکرام کے مابین مختلف فیہ رہا ہے تاہم کچھ قرائن کو مد نظر رکھتے ہوئے کچھ علماءکرام نے ترجیح کا راستہ اختیار کیا ہے، ان شاءاللہ اگلے سطور میں نہایت ہی اختصار کے ساتھ فقہاءکرام کے اقوال و دلائل کو بیان کرنے کے ساتھ راجح قول کے طرف اشارہ کرنے کی کوشش کروں گا۔
اس مسئلے میں اگر فقہاءکرام کے تمام اقوال کا استقراءکیا جائے تو، دو قول میں اس مسئلہ کو ذکر کیا جا سکتا ہے۔
پہلا قول :صدقتہ الفطر کے مصارف وہی ہیں جو عام مال کی زکوۃ کے مصارف ہیں، یعنی جس طرح مال کی زکوۃ کو آٹھ قسم کے لوگوں میں تقسیم کر سکتے ہیں اسی طرح’زکوۃ الفطر‘ کو بھی آٹھوں قسم کے لوگوں میں تقسیم کر سکتے ہیں ، اور یہ جمہور فقہائے کرام کا مذہب ہے جس میں حنفیہ، شافعیہ، اور حنابلہ شامل ہیں۔
جمہور علماءکرام کی دلیل :(ترجمہ: محمد عبدالسلام بن محمد] صدقات تو صرف فقیروں اور مسکینوں کے لیے اور ان پر مقرر عاملوں کے لیے ہیں اور ان کے لیے جن کے دلوں میں الفت ڈالنی مقصود ہے اور گردنیں چھڑانے میں اور تاوان بھرنے والوں میں اور اللہ کے راستے میں اور مسافر میں (خرچ کرنے کے لیے ہیں)۔ یہ اللہ کی طرف سے ایک فریضہ ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔
شافعی مسلک کے مؤ قر امام ابو الحسن علی بن محمد بن حبیب الماوردی البصری-رحمہ اللہ-نے اپنی مشہور کتاب( الحاوی الکبیر للماوردی)) (3/387) میں بیان کیا ہے کہ مذکورہ آیت کریمہ میں بیان کردہ لفظ ’صدقہ‘کے تحت زکاۃ الفطر بھی شامل ہے، لہٰذاجو عام زکوۃ کے مصارف ہیں وہی زکوٰۃ الفطر کے بھی مصارف ہیں۔
نیز امام ماوردی رحمہ اللہ نے آگے اپنی کتاب”الحاوی الکبیر3 / 388“ ہی میں ذکر کیا ہے کہ وجوبیت میں (زکوۃ المال، و زکوٰۃ الفطر ) دنوں یکساں ہیں لہٰذا کسی ایک صنف کو دوسرے صنف کی موجودگی میں تخصیص نہیں کیا جا سکتا ہے جیسا کہ’زکوۃ المال‘ کا معاملہ ہے۔
دوسرا قول
زکوٰۃ الفطر کے مستحقین کے زمرے میں صرف فقراءو مساکین ہی داخل ہوں گے، کیوں کہ نص کے اندر بذات خود شارع کی طرف سے تحدید موجود ہے،
مالکیہ، اور بعض حنابلہ کا یہی موقف ہے ساتھ ہی ساتھ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ، علامہ شوکانی رحمہ اللہ، امام ابن باز رحمہ اللہ، اور ابن عثیمین رحمھم اللہ جمیعا کا یہی پسندیدہ قول ہے، اور یہی راجح قول ہے۔ (الشرح الممتع 6/184 )
علامہ ابن القیم رحمہ اللہ ’زاد المعاد‘ میں رقمطراز ہیں کہ آپ علیہ السلام نے اپنی زندگی میں کبھی بھی’صدقۃ الفطر‘کی تقسیم کرتے ہوئے آٹھوں صنف کے لوگوں کو شامل نہیں کیا تھا ، اور نہ ہی آپ صل اللہ علیہ السلام نے کبھی اس کا کسی کو حکم دیا تھا ، اور پھر آپ صل اللہ علیہ السلام کے بعد صحابہ کرام، اور تابعین عظام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا بھی یہی عمل تھا یعنی کہ وہ ’زکوة الفطر‘ کو صرف فقراءو مساکین کےلئے خاص کرتے تھے۔
(زاد المعاد)) (2/21)
دلیل :(سنن ابی داود :حدیث نمبر: 1609 )
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر صائم کو لغو اور بیہودہ باتوں سے پاک کرنے کے لیے اور مسکینوں کے کھانے کے لیے فرض کیا ہے، لہٰذا جو اسے (عید کی) نماز سے پہلے ادا کرے گا تو یہ مقبول صدقہ ہو گا اور جو اسے نماز کے بعد ادا کرے گا تو وہ عام صدقات میں سے ایک صدقہ ہو گا۔
(تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/الزکاۃ ۲۱ (۱۸۲۷)،( تحفتہ الاشراف:۶۱۳۳) (حسن)
علامہ عظیم آبادی عون المعبود میں اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :
یعنی اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ صدقتہ الفطر صرف مساکین ،غرباءکو دیا جائے گا ،اور زکاۃ کے دیگر شرعی مصارف کو نہ ملے گا ،،انتہی،اسلئے صرف مساکین و غرباءوہ بھی سب سے پہلے رشتہ دار اور اپنے علاقے میں موجود فقراءو مساکین ہی مستحق ہیں ،اور امام بخاری نے صحیح البخاری میں باب منعقد کیا ہے :
باب الزکاۃ علی الاقارب:
باب: اپنے رشتہ داروں کو زکوۃ دینا:اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (زینب کے حق میں فرمایا جو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی تھی) اس کو دو گنا ثواب ملے گا ‘ ناطہٰ جوڑنے اور صدقے کا۔
حاصل کلام: مذکورہ سطور سے یہ واضح ہوا کہ اسلام میں زکوۃ الفطر کی مشروعیت ایک خاص ہدف کے حصول کے لئے ہوئی ہے، نیز یہ ایک عبادت ہے، لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ اسکی ادائیگی میں شرعی ضابطے کو پیش نظر رکھتے ہوئے اصل مستحقین تک پہنچانے کی حتی المقدور کوشش کرے، بعض علاقے میں لوگ’زکوٰۃ الفطر‘ کی رقم کا بیشتر حصہ مدارس و مکاتب کی تعمیر و ترقی و دیگر مصارف میں خرچ کرتے ہیں، انہیں متنبہ ہونے کی ضرورت ہے!!آخر میں اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے! آمین ۔












