جند: یوم جمہوریہ کے موقع پر ہریانہ کے جند میں سینکت کسان مورچہ کی اپیل پر آ ج نئی اناج منڈی میں منعقد کسان مہاپنچایت میں تین زرعی قانون کو رد کرنے ، ایم ایس پی گارنٹی کو قانونی بنانے ، سوامی ناتھن کمیشن کی رپورٹ کو لاگو کرنے ، کسان قرضے معاف کرنے اور گرفتار کسانوں کی رہائی کے مطالبے سے متعلق پانچ قراردادیں منظور کئے گئے ۔مہاپنچایت میں بھارتیہ کسان یونین (بی کے یو) کے قومی پریس ترجمان راکیش ٹکیت نے کسانوں سے اپیل کی کہ وہ کسی بھی اگلے قدم کے لیے تیار رہے ۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کسانوں کے مطالبے کو جلد قبول کرے ۔ مہاپنچایت میں ہریانہ، پنجاب، اتر پردیش، راجستھان، اتراکھنڈ سمیت کئی ریاستوں سے ہزاروں کسان پہنچے ۔ مہاپنچایت میں بی کے یو کے قومی جنرل سکریٹری یودھویر سنگھ، پنجاب سے جوگیندر اوگراہن سمیت کئی کسان لیڈرپہنچے ۔ تمام لیڈروں نے مرکزی حکومت کے خلاف زبردست تقریریں کیں۔مسٹر ٹکیت نے مرکزی حکومت پر تنقید کرتے ہو ئے کہا کہ وہ اسے کان کھول کر سن لے ، ابھی تو انہوں نے کسان بل کی واپسی کا مطالبہ کیا ہے ۔ حکومت ان تمام مسائل پر ان کی کمیٹی سے بات کرے نہیں تو کسان سخت فیصلے لیں گے ۔ انہوں نے کسانوں سے اپیل کی کہ وہ کسی بھی اگلے قدم کے لیے رات کو بھی تیار رہیں۔ انہوں نے کہا کہ 9 فروری کو کروکشیتر میں سینکت کسان مورچہ کی میٹنگ ہوگی اسی میں دہلی میں ہونے والے مظاہرے کی تاریخ طے کی جائے گی۔ یہ تاریخ 15 مارچ سے 22 مارچ کے درمیان ہوسکتی ہے ۔ انہوں نے کسانوں سے اس مظاہرے کے لیے اپنے ٹریکٹر تیار رکھنے کو کہا۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت 10 سال پرانے ٹریکٹروں کو بند کرنے جا رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہر سال 26، 27، 28، 29 جنوری کو تہاڑ کے طور پر منایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر گنے کی قیمت 500 روپے فی کوئنٹل ہو تو کسان کو فائدہ ہو سکتا ہے ۔












