نئی دہلی،(یو این آئی) جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ پر بدھ کی رات ہونے والے جان لیوا حملے کے سلسلے میں جمعرات کے روز راجیہ سبھا میں کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ارکان کے درمیان گرما گرم تبادلہ ہوا، جبکہ حکومت نے ایوان کو یقین دلایا کہ اس کی مکمل تحقیقات کی جائے گی اور ان کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔ قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے صدر ملک ارجن کھڑگے نے وقفہ صفر شروع ہونے سے پہلے یہ مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر میں سکیورٹی کی صورتحال بگڑ چکی ہے، اور وہاں کے لوگوں کے لیے خطرے کا ماحول ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کے زیر انتظام علاقے کی سیکورٹی اب مرکزی حکومت اور وزارت داخلہ کے کنٹرول میں ہے، لیکن وہاں کے ممتاز لوگوں کی جان کو خطرہ لاحق ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس حملے کے لیے مرکزی حکومت براہ راست ذمہ دار ہے۔ سلامتی کی صورتحال کو جموں و کشمیر کی ریاستی درجے سے جوڑتے ہوئے مسٹر ملک ارجن کھڑگے نے کہا کہ جب تک ریاست کا درجہ بحال نہیں ہوجا تا، کشمیر محفوظ نہیں رہے گا۔ ان کے ریمارکس کی بھارتیہ جنتا پارٹی کے ارکان نے سخت مخالفت کی، جس کے نتیجے میں دونوں فریقوں کے درمیان گرما گرم تبادلہ ہوا۔ قائد ایوان اور وزیر صحت جگت پرکاش نڈا نے کہا کہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ پر جان لیوا حملہ انتہائی تشویشناک ہے اور حکومت اسے سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ حکومت کی جانب سے انہوں نے ایوان کو یقین دلایا کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائے گی اور تفتیش کے ذریعے مجرم کے محرکات کا پتہ چلے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مرکز کے زیر انتظام علاقے میں سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گی اور ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی سکیورٹی کو مضبوط بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات کو سیاسی عینک سے دیکھنا غیر مناسب ہے اور ریاستی درجے کو اس واقعہ سے نہیں جوڑا جانا چاہئے۔ انہوں نے ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے حوالے سے حکومت کے خلاف اپوزیشن لیڈر کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے الزامات کانگریس پارٹی کی سوچ کا نتیجہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے منصوبے ہمیشہ ایسے ہی رہے ہیں۔












