رام اللہ(ہ س)اسرائیل کی جانب سے غزہ میں حماس کے مکمل خاتمے کے عزم اور جاری مذاکرات سے قطع نظر فوج کو کارروائی کا اختیار دیے جانے کے بعد فتح تحریک نے حماس کے سیاسی کردار کے خاتمے کا واضح مطالبہ کر دیا ہے۔غزہ میں فتح کے ترجمان منذر الحائک نے العربیہ اور الحدث سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "ہم نے حماس سے کہا ہے کہ وہ غزہ کے سیاسی منظرنامے سے باہر ہو جائے۔ان کا کہنا تھا کہ حماس کو اپنے بیانات میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور فلسطینی حکومت کی مکمل حمایت کرنی چاہیے۔منذر الحائک نے زور دیتے ہوئے کہا کہ تحریک فتح کسی بھی فلسطینی شہری کے غزہ سے انخلا کو تسلیم نہیں کرے گی۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر اسرائیل حماس کی قیادت کے باقی ماندہ افراد کو غزہ سے نکالنے کا مطالبہ کرے تو کیا موقف ہو گا، تو انہوں نے کہا کہ فلسطینی کی وابستگی خواہ کسی بھی جماعت سے ہو، اس کا غزہ سے زبردستی انخلا قابل قبول نہیں۔تاہم انہوں نے یہ ضرور کہا کہ حماس کو غزہ کی انتظامیہ سے دستبردار ہونا ہو گا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ غزہ کی سکیورٹی کی موجودہ صورتحال مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے۔العربیہ اور الحدث کو حاصل ہونے والی باخبر ذرائع کی معلومات کے مطابق حماس اب غزہ میں سکیورٹی کنٹرول کھو چکی ہے، جبکہ مسلح گروہ اور چور گروہ امدادی ٹرکوں پر قبضے کے ساتھ ساتھ شہری گھروں کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق سکیورٹی خلا کے نتیجے میں انتہا پسند گروہ ایک بار پھر منظم ہو رہے ہیں اور نئے افراد کو اپنی صفوں میں شامل کر رہے ہیں۔یہ تمام بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹس نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے فوج کو غزہ میں اپنے اہداف مکمل کرنے کی ہدایت دے دی ہے، چاہے مذاکرات کسی بھی سطح پر ہوں۔ادھر اسرائیل کی جانب سے مارچ سے اب تک غزہ کے مختلف علاقوں پر فضائی اور زمینی حملے مسلسل جاری ہیں، اور ایک نئی جنگی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔












