نئی دہلی ،سماج نیوز سروس: دارالحکومت کے پالم تھانے کے علاقے میں بدھ کی صبح ایک کثیر المنزلہ عمارت میں زبردست آگ لگ گئی، جس میں 3 بچوں سمیت 9 افراد کی موت ہو گئی۔ دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے مجسٹریل انکوائری کا حکم دیتے ہوئے معاوضے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے تحت بالغ مرنے والوں کے لواحقین کو 10 لاکھ روپے، نابالغ مرنے والوں کے لواحقین کو 5 لاکھ روپے اور شدید زخمیوں کو 2 لاکھ روپے ملیں گے۔وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی متاثرین کے اہل خانہ سے اپنی گہری تعزیت کا اظہار کیا ہے اور وزیر اعظم کے قومی ریلیف فنڈ سے 2 لاکھ روپے کی امداد کا اعلان کیا ہے۔وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کی جانب سے ٹوئٹر پر شیئر کیے گئے ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے، "ہم پالم میں آتشزدگی کے اس المناک واقعے سے بہت غمزدہ ہیں۔ معصوم جانوں کا ضیاع دل دہلا دینے والا ہے۔ سوگوار خاندانوں سے ہماری دلی تعزیت ہے۔” اللہ تعالیٰ مرحوم کی ارواح کو جوار رحمت میں جگہ دے اور ان کے لواحقین کو یہ ناقابل تلافی نقصان برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ دہلی حکومت سوگوار خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور ہر ممکن مدد کو یقینی بنائے گی۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ آگ شارٹ سرکٹ کی وجہ سے لگی، تاہم تحقیقات جاری ہیں۔ واقعے میں متعدد افراد زخمی ہوئے، امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ مقامی باشندے اور انتظامیہ اس سانحے سے حیران ہیں۔ دہلی حکومت نے آگ سے حفاظت کے معیارات پر نظرثانی کرنے اور مستقبل میں ایسے واقعات کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کرنے کا وعدہ کیا ہے۔یہ واقعہ شری رام چوک کے قریب پیش آیا جہاں آگ تیزی سے پھیلی اور کئی لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ دہلی فائر سروس نے 30 سے زائد فائر ٹینڈرز کے ساتھ ریسکیو آپریشن شروع کیا لیکن آگ پر قابو پانے میں کئی گھنٹے لگے۔ وزیر اعظم اور دہلی حکومت نے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔












