صادق شروانی
نئی دہلی،سماج نیوز سروس: ایران، امریکہ اور اسرائیل کی جنگ سے ہمارا کیا لینا دینا، ہم بھارت واسی ہیں۔ ہمارے لیے سب سے پہلے ملک ہے ، مذہب نہیں۔راشٹریہ مسلم منچ سے جڑ نا ایمان کی گارنٹی ہے، اس پر داغ نہ لگنے دیں۔ان خیالات کا اظہار راشٹریہ مسلم منچ کے کنوینر ڈاکٹر اندریش کمار نے کیا۔انھوں نے مزید کہا کہ اسلام میں حب الوطنی کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ راج گھاٹ میں واقع گاندھی اسمرتی درشن ستیہ گرہ منڈپ میں کی قومی عاملہ کی میٹنگ اور عید ملن تقریب نے سماجی ہم آہنگی اور سنجیدہ قومی مباحثے کا ایک منفرد امتزاج پیش کیا۔ یہ پروگرام محض تہوار کی رسم تک محدود نہیں رہا بلکہ ملک اور دنیا کے موجودہ حالات پر گہرے غور و فکر کا پلیٹ فارم بن گیا۔ تقریب کا آغاز عید کی مبارکباد اور باہمی معانقہ سے ہوا جس سے پورے ماحول میں محبت اور بھائی چارے کی جھلک نمایاں تھی، مگر جلد ہی گفتگو بڑے مسائل کی طرف مڑ گئی۔ مغربی ایشیا میں بڑھتی کشیدگی، تیل کی سپلائی سے متعلق عالمی تشویش اور بھارت کی اسٹریٹجک پوزیشن جیسے موضوعات پر تفصیلی بحث ہوئی۔ اس موقع پر تنظیم کے سرپرستاندریش کمار نے مغربی ایشیا میں جاری جنگ کو فوری طور پر ختم کرنے کی اپیل بھی کی۔مہمانِ خصوصی اندریش کمارنے کہا کہ جمہوریت کی مضبوطی کے لیے ضروری ہے کہ انتخابی عمل مکمل طور پر شفاف اور محفوظ ہو۔ انہوں نے “دراندازوں” پر سختی سے روک لگانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ووٹر لسٹ اور انتخابی عمل میں کسی بھی قسم کی بے ضابطگی ملک کی یکجہتی اور سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ان کے بیان کے بعد دیگر مقررین نے بھی انتخابی شفافیت، قومی سلامتی اور سماجی بیداری جیسے موضوعات پر اپنے خیالات پیش کیے۔ کئی مقررین نے کہا کہ منصفانہ اور پُرامن انتخابات صرف سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری نہیں بلکہ معاشرے کے ہر طبقے کو اس میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ملک کے اندر بڑھتی سماجی دوریوں اور سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلنے والی غلط معلومات پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اس موقع پر نمایاں شخصیات میں ذاکر حسین (ایڈمنسٹریٹر، ہریانہ وقف بورڈ)، محمد افضل (قومی کنوینر، مسلم راشٹریہ منچ)، ڈاکٹر شاہد اختر،چیئرمین، قومی کمیشن برائے اقلیتی تعلیمی ادارے)، ڈکٹر شالنی علی سماجی کارکن، ڈاکٹر ماجد تالیکوتی، کرنل طاہر مصطفیٰ، قاری ابرار جمال، پدم شری دلشاد حسین، افسر عالم، مہتاب عالم رضوی، شمس اقبال، آچاریہ یشی پھنتسوک، سید رضا حسین رضوی، ابو بکر نقوی، مظاہر خان، سید زیارت حقانی اور ڈاکٹر رضوان خان شامل تھے۔ڈاکٹر شاہد اختر نے کہا کہ بھارت کی اصل طاقت اس کے لوگ ہیں اور اسی طاقت کے بل پر ملک کو ہر شعبے میں آگے بڑھانا ہوگا۔ انہوں نے تعلیم اور ادارہ جاتی ترقی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مضبوط اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں ملک کی مضبوط بنیاد ہیں۔ انہوں نے انفراسٹرکچر کو ترقی کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہوئے کہا کہ بہتر سڑکیں، جدید تعلیمی ادارے اور ڈیجیٹل سہولیات بھارت کو عالمی سطح پر آگے لے جائیں گی۔ ڈاکٹر شالنی علی نے کہا کہ بھارت کو آگے بڑھانے کے لیے صحت، روزگار اور سماجی ہم آہنگی پر تیزی سے کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک عام آدمی کو بہتر صحت کی سہولیات اور روزگار کے مواقع نہیں ملیں گے، ترقی ادھوری رہے گی۔ انہوں نے خواتین اور نوجوانوں کی شمولیت کو نہایت اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی طبقہ ملک کو نئی سمت دے سکتا ہے۔ انہوں نے یکساں سول کوڈ پر مثبت اور تعمیری مکالمے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ اس سے ملک میں برابری اور انصاف کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ہم سب مل کر کام کریں تو بھارت کو عالمی سطح پر اعلیٰ مقام تک پہنچانا مشکل نہیں۔ اس موقع پر ایک تفصیلی “عزم نامہ” بھی پیش کیا گیا جو اس اجلاس کی نمایاں خصوصیت بن کر سامنے آیا۔ اس میں چھواچھوت اور امتیاز کے خاتمے، ہر بچے تک تعلیم کی فراہمی، منشیات سے پاک بھارت، ماحولیاتی تحفظ اور تمام مذاہب کے درمیان بھائی چارے کو فروغ دینے جیسے اہم نکات شامل تھے۔ عزم نامے میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ ملک کو فسادات، تشدد اور دہشت گردی سے پاک رکھنا ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔ مقررین نے زور دے کر کہا کہ جب معاشرہ متحد اور باخبر ہوگا تبھی ملک مضبوط بنے گا اور ہر چیلنج کا مقابلہ کر سکے گا۔پروگرام کے اختتام پر راشٹریہ مسلم منچ کی جانب سے تیار کئے گئے 9نکاتی عہد سازی کو نہ صرف پڑھ کر سنایا گیا بلکہ وہاں موجود تمام لوگوں سے عہد لیتے ہوئے ڈاکٹر اندریش کمار نے کہا کہ اس عہد نامے کو مساجد اور درگاہوں میں نسب کیا جائے اور سماج میں تیزی سے ان کو سرکلیٹ کیا جائے۔ جس میں مذہب کی تبدیلی کے خلاف آواز اٹھانا ہے اور تمام مذاہب کی عزت کرنی ہے۔ لیکن تبدیلی مذہب نہیں ہونے دینا ہے۔اس کے علاوہ تمام طبقات ذات، برادری اور مذہب کے درمیان بہتر تال میل تعلیم کو ہر بچے کا حق بنایا جائے گا۔ منشیات سے آزاد بھارت، آلودگی سے پاک بھارت، بھائی چارے اور ایکتا مشعل جلائی جائے گی۔ فساد، دہشت وغیرہ سے پاک بھارت بنایا جائے گا، ہمیشہ بھارت پہلے اپنایا جائے گا ۔اس کے ساتھ ہی تہذیب اور ترقی والے ہندوستان کوساتھ لے کر 2027کو دنیا میں ہندوستان نمبر 1 پر ہوگا۔












