نئی دہلی، (یو این آئی) حکومت نے مردم شماری 2027 کے پہلے مرحلے میں 11 ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں گھروں کی فہرست سازی کا کام یکم اپریل سے شروع کرنے کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ مردم شماری کے پہلے مرحلے میں اپریل سے ستمبر کے درمیان ملک بھر کی تمام ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں مکانات کی گنتی کی جائے گی۔ دوسرے مرحلے میں افراد سے متعلق معلومات جمع کی جائیں گی، جس کے شیڈول کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ حکومت نے مردم شماری 2027 کے لیے 11,178 کروڑ روپے کا بجٹ منظور کیا ہے۔ہندوستان کے رجسٹرار جنرل اور مردم شماری کمشنر مرتیونجے کمار نارائن نے دارالحکومت میں مردم شماری 2027 پر ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ اس بار مردم شماری میں لوگوں کی ذات سے متعلق ڈیٹا بھی جمع کیا جائے گا۔ مردم شماری ایکٹ 1948 کے تحت لوگوں کی انفرادی معلومات کو خفیہ رکھا جائے گا اور انہیں کسی فائدے یا عدالتی کارروائی کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا۔ ٹیکنالوجی کا استعمال بڑے پیمانے پر کیا جا رہا ہے، جس میں لوگ سیلف اینومریشن (خود شماری) بھی کر سکیں گے۔ اس کے لیے لوگوں کو اپنے علاقے میں مردم شماری شروع ہونے سے 15 دن پہلے ڈیجیٹل ذرائع سے اپنی معلومات درج کرنے کا موقع دیا جا رہا ہے، لیکن ہر صورت میں مردم شماری کا عملہ ہر گھر میں ذاتی طور پر جا کر معلومات جمع کرے گا۔مردم شماری کمشنر نے کہا کہ دنیا کی یہ سب سے بڑی مردم شماری دو مرحلوں میں منعقد کی جائے گی، جس کا پہلا مرحلہ یکم اپریل 2026 سے شروع ہوگا۔ پہلی بار مردم شماری ڈیجیٹل شکل میں ہو گی اور پہلی بار خود شماری کا آپشن بھی دستیاب ہوگا۔یکم اپریل سے انڈمان اور نکوبار جزائر، دہلی، گوا، کرناٹک، لکشدیپ، میزورم، اوڈیشہ اور سکم میں 1 سے 15 اپریل تک خود شماری اور 16 اپریل سے 15 مئی 2026 تک مکانات کی فہرست سازی اور مکانات کی گنتی کا کام مکمل کیاجائیگا۔مردم شماری کا عمل مردم شماری ایکٹ 1948 اور مردم شماری رولز 1990 (وقت فوقتاً ترمیم شدہ) کی دفعات کے تحت کیا جاتا ہے۔ آخری مردم شماری سال 2011 میں مکمل ہوئی تھی۔ مردم شماری 2027 اس سلسلے کی 16 ویں اور آزادی کے بعد 8 ویں مردم شماری ہوگی۔ حکومت نے مردم شماری 2027 منعقد کرنے کے ارادے کا نوٹیفکیشن 16 جون 2025 کو ہندوستان کے گزٹ میں جاری کیا تھا۔مردم شماری 2027 کی حوالہ جاتی تاریخ یکم مارچ 2027 کی رات 00:00 بجے ہوگی (لداخ، جموں و کشمیر، اتراکھنڈ اور ہماچل پردیش کے برفانی علاقوں کے لیے حوالہ جاتی تاریخ یکم اکتوبر 2026 کی رات 00:00 بجے ہوگی)۔مردم شماری 2027 کے پہلے مرحلے میں مکانات کی فہرست سازی اور گنتی (ایچ ایل او) اپریل سے ستمبر 2026 کے دوران ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کی سہولت کے مطابق 30 دنوں کی مدت میں منعقد کی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، مکانات کی فہرست سازی کے کام سے پہلے 15 دنوں کی خود شماری کی سہولت بھی دستیاب ہوگی۔ اس مرحلے میں مکانات کی حالت، خاندانوں کو دستیاب سہولیات اور ان کے پاس موجود اثاثوں سے متعلق معلومات جمع کی جائیں گی۔ پہلے مرحلے کے سوالات جنوری 2026 میں مشتہر کیے جا چکے ہیں۔اس کے بعد دوسرے مرحلے میں آبادی کی گنتی فروری 2027 میں کی جائے گی (لداخ، جموں و کشمیر، اتراکھنڈ اور ہماچل پردیش کے برفانی علاقوں میں یہ ستمبر 2026 میں ہوگی)۔ کابینہ کے فیصلے کے مطابق، اس مرحلے میں ذاتوں کی گنتی بھی کی جائے گی۔ اس مرحلے میں ہر فرد سے آبادیاتی، سماجی و اقتصادی، تعلیم، نقل مکانی اور افزائشِ نسل وغیرہ سے متعلق معلومات اکٹھی کی جائیں گی۔ آبادی کی گنتی کی درست تاریخیں اور سوالنامہ وقت کے مطابق جاری کیا جائے گا۔سرکاری اعلامیے کے مطابق، انڈمان و نکوبار، دہلی، گوا، کرناٹک، لکشدیپ، میزورم، اوڈیشہ اور سکم میں مکانات کی فہرست سازی اور گنتی 16 اپریل سے 15 مئی 2026 کے درمیان ہوگی، جبکہ یکم اپریل سے 15 اپریل 2026 تک خود شماری کی سہولت میسر ہوگی۔












