لکھنؤ، (یو این آئی) پارلیمنٹ کے اجلاس سے قبل سال 2029 میں ملک میں خواتین ریزرویشن نافذ کرانے کے وزیر اعظم نریندر مودی کے بیان کو لے کر سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے قومی صدر اکھلیش یادو نے مرکزی حکومت کی پالیسیوں پر سوال اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلے مردم شماری کرائی جائے اور پھر خواتین کے ریزرویشن کی بات اٹھائی جائے۔ اتوار کو سوشل میڈیا کے ذریعے اکھلیش یادو نے کہا کہ جب گنتی ہی غلط ہوگی تو ریزرویشن کیسے درست ہوگا۔ اگر کسی کام کو کرنے کے پیچھے نیت صحیح ہوتی ہے، تو شک نہیں ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین ریزرویشن بل کی تو بنیاد ہی بے بنیاد ہے۔ ریزرویشن کی بنیاد اگر کل سیٹوں کا 1/3 (ایک تہائی) ہے، تو اس کا مطلب ہوا کہ یہ ریاضی کا معاملہ ہے اور ریاضی کی بنیاد نمبر ہوتے ہیں، تعداد ہوتی ہیں، کوئی ہوا ہوائی بات نہیں۔مسٹر یادو نے کہا کہ اس طرح کے معاملے میں تعداد کی بنیاد آبادی ہوتی ہے، جس کی بنیاد مردم شماری ہوتی ہے۔ جب خواتین کی آبادی کے لیے 2011 کے پرانے اعداد و شمار کو بنیاد بنائٰں گے تو خواتین کے ریزرویشن کی بنیاد ہی غلط ہوگی، جب مٹی میں ہی خامی ہو تو حقیقی فصل کیسے اگے گی؟مسٹر یادو نے کہا کہ ہمارا سب سے بڑا اعتراض یہی ہے کہ پہلے مردم شماری کرائی جائے، پھر خواتین کے ریزرویشن کا مسئلہ اٹھایا جائے۔ جو حکومت خواتین کو شمار نہیں کرنا چاہتی، وہ بھلا انہیں ریزرویشن کیا دے گی؟انہوں نے کہا کہ خواتین کے ساتھ بی جے پی اور ان کے اتحادی جو دھوکہ کرنا چاہتے ہیں، خواتین کے ساتھ وہ دھوکہ ہم نہیں ہونے دیں گے۔ مجموعی طور پرحکومت سے ہمارا کہنا ہے کہ جب تک جن گڑنا نہیں، تب تک مہیلا آرکشن پر بحث کرنا نہیں۔” دریں اثنا اسمارٹ پری پیڈ بجلی میٹر اکاؤنٹ میں پیسے ہونے کے باوجود بجلی گل ہونے کے حوالے سے سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے قومی صدر اکھلیش یادو نے بی جے پی حکومت پر سخت حملہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے اتر پردیش میں پری پیڈ پیڑت نام کی ایک نئی کیٹگری پیدا ہوگئی ہے۔اتوار کو سوشل میڈیا کے ذریعے اکھلیش یادو نے کہا کہ جن صارفین نے پہلے سے ہی بجلی کی ادائیگی کر دی ہے، انہیں بھی اسمارٹ میٹروں میں خامیوں کی وجہ سے بجلی کی کٹوتی اور تکنیکی مسائل کا سامنا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ جب بجلی کمپنیوں کو پہلے ہی پیسا مل جاتا ہے، تو پھر عام لوگوں کو کیوں تنگ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پاور کمپنیوں اور حکومت کے درمیان ہم آہنگی کے فقدان یا ملی بھگت کی وجہ سے عام صارفین کے مسائل بروقت حل نہیں ہو رہے ہیں۔ اس کی وجہ سے لوگ بار بار شکایت کرنے اور دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور ہیں۔ایس پی صدر نے کہا کہ بی جے پی حکومت میں عوام اُپبھوگتا سےاُپبُھگتا بن گئے ہیں، جسے پالیسیوں کی خامیوں کا خمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے پی ڈی اے(پیڑٹ، دلت، الپسنکھیک) کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ متاثرہ افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور اب پری پیڈ پیڑٹ بھی اس میں شامل ہو گئے ہیں۔اکھلیش یادو نے دعویٰ کیا کہ ریاست کے لوگ تبدیلی چاہتے ہیں اور مستقبل میں حالات بدلیں گے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ اگر ان کی حکومت بنتی ہے تو بجلی کے نظام کو مزید شفاف، جوابدہ اور صارف دوست بنایا جائے گا، جس سے لوگوں کو راحت مل سکے۔












