نئی دہلی، (یو این آئی) وزیر اعظم نریندر مودی نے ملک کی ماہی گیر برادری کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ ماہی گیر نہ صرف سمندر کے سپاہی ہیں بلکہ خود کفیل ہندوستان کی مضبوط بنیاد بھی ہیں۔ اتوار کے روز آل انڈیا ریڈیو پر نشر ہونے والے اپنے ماہانہ پروگرام من کی بات” میں مسٹر نریندر مودی نے کہا کہ ماہی گیر علی الصبح سمندر میں جا کر نہ صرف اپنے خاندانوں کی کفالت کرتے ہیں بلکہ ملک کی معیشت کو بھی مضبوط کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بندرگاہوں کی ترقی، انشورنس اسکیموں اور تکنیکی مدد کے ذریعے ماہی گیروں کی زندگیوں کو آسان بنا رہی ہے۔ مسٹر نریندر مودی نے کہا کہ سمندر میں کام کرنے والے ماہی گیروں کے لیے موسم کی معلومات بہت ضروری ہے، اس لیے انہیں ٹیکنالوجی کے ذریعے بروقت مدد فراہم کی جا رہی ہے۔ مسٹر نریندر مودی نے کہا کہ ماہی گیری اور سمندری سیر کے شعبوں میں نئی اختراعات ہو رہی ہیں، جس سے ماہی گیروں کو خود کفیل بنایا جا رہا ہے۔ سمبل پور، اڈیشہ کی سجاتا بھویان کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا جس نے ہیرا کڈ آبی ذخائر میں مچھلی کاشت کرنا شروع کیا اور اسے چند سالوں میں کامیاب کاروبار میں تبدیل کر دیا۔ اس کی کامیابی دوسری خواتین کے لیے تحریک کا کام کرتی ہے۔ مسٹر نریندر مودی نے لکشدیپ کے منیکوئے کے حوا گلزار کا بھی ذکر کیا، جنہوں نے مچھلی کی پروسیسنگ یونٹ کے ساتھ کولڈ اسٹوریج کی سہولت قائم کرکے اپنے کاروبار کو نئی بلندیوں تک پہنچایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بیلگاوی کے شیولنگ ستاپا ہدر نے روایتی کھیتی کو ترک کر کے مچھلی کی کھیتی کو اپنایا، اب بہتر آمدنی حاصل کر رہے ہیں۔ مسٹر نریندر مودی نے کہا کہ ملک بھر میں مچھواروں کی اس طرح کی کوششیں متاثر کن ہیں، اور ماہی گیری کے شعبے سے وابستہ افراد کے تعاون سے ہندوستان کی معیشت مضبوط ہو رہی ہے۔ انہوں نے اس شعبے سے وابستہ تمام افراد کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کی محنت اور جدت طرازی ملک کو خود کفیل بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔دریں اثنا وزیر اعظم نریندر مودی نے ملک کے شہریوں سے شمسی توانائی کی مہم میں شامل ہونے اور صاف توانائی کو فروغ دینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ "پردھان منتری سوریہ گھر مفت بجلی یوجنا” سے ملک کے شمسی توانائی کے شعبے میں بڑی تبدیلی آئی ہے۔ یہ توانائی کے شعبے میں عام آدمی کو خود انحصار بنانے والا ہے، اور سب کو اس مہم میں شامل ہونا چاہیے۔ اتوار کے روز آل انڈیا ریڈیو پر نشر ہونے والے اپنے ماہانہ پروگرام من کی بات” میں مسٹر نریندر مودی نے کہا کہ ملک بھر کے چھوٹے اور بڑے دونوں شہروں میں گھروں کی چھتوں پر اب بڑی تعداد میں سولر پینل نظر آ رہے ہیں۔ چند سال پہلے یہ نایاب تھے لیکن اب اس اسکیم کے اثرات ملک کے کونے کونے میں نظر آرہے ہیں۔ اس تناظر میں انہوں نے گجرات کے ضلع سریندر نگر کی پائل منجپارہ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس اسکیم سے ان کی زندگی میں بڑی تبدیلی آئی ہے۔ انہوں نے شمسی توانائی کی پہل کے تحت تربیت حاصل کی اور چار ماہ کا سولر ٹیکنیشن کورس مکمل کیا اور اب وہ ہنر مند سولر ٹیکنیشن کے طور پر کام کر رہی ہے۔ وہ ارد گرد کے اضلاع میں چھتوں پر سولر پلانٹس لگانے کا کام کر رہی ہے، جس سے ان کو ماہانہ کافی آمدنی ہوتی ہے۔ انہوں نے اتر پردیش کے میرٹھ سے تعلق رکھنے والے ارون کمار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ارون اب اپنے علاقے میں توانائی فراہم کرنے والا بن گیا ہے۔ دہلی میں حالیہ تقریب میں اپنا تجربہ بتاتے ہوئے، انہوں نے وضاحت کی کہ وہ نہ صرف بجلی کے بل میں بچت کر رہے ہیں بلکہ اضافی بجلی بیچ کر آمدنی بھی حاصل کر رہے ہیں۔ راجستھان کے جے پور سے مرلی دھر کی کامیابی کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ پہلے ان کی کھیتی ڈیزل پمپ پر منحصر تھی جس کے نتیجے میں کافی سالانہ اخراجات ہوتے تھے۔ سولر پمپ کو اپنانے کے بعد، اس کی کاشتکاری میں اہم تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔ اب اسے ایندھن کی فکر نہیں ہے، آبپاشی بروقت ہوجاتی ہے اور اس کی آمدنی بھی بڑھ گئی ہے۔ دریں اثنا وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ اس وقت مغربی ایشیا میں جاری جنگ کے سبب پوری دنیا میں ایندھن کا بحران پیدا ہو گیا ہے۔ اس لیے عوام سے اپیل ہے کہ وہ اس مشکل وقت میں متحد رہیں، خود غرضی پر مبنی سیاست نہ کریں اور کسی قسم کی افواہیں نہ پھیلائیں۔ مودی نے آل انڈیا ریڈیو سے نشر ہونے والے اپنے ماہانہ پروگرام من کی بات کی 132ویں قسط میں عوام کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مغربی ایشیا کے بحران سے ہندوستان بھی متاثر ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ اس مسئلے کو سیاسی رنگ دے رہے ہیں، انہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ 140 کروڑ شہریوں کے مفاد سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ افواہیں پھیلانے والے ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ حکومت مسلسل درست معلومات فراہم کر رہی ہے، اسی پر بھروسہ کریں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ مارچ کا مہینہ عالمی سطح پر بہت واقعات ہوئے ہیں۔ کووڈ کے بعد دنیا کو امید تھی کہ ترقی کی نئی شروعات ہوگی، لیکن مختلف خطوں میں جنگ اور تنازعے ابھرے۔ اب وہاں نہایت نازک صورتحال ہے اور کروڑوں ہندوستانی خاندانوں کے افراد خاص طور پر خلیجی ممالک میں کام کر رہے ہیں۔ مودی نے خلیجی ممالک کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایک کروڑ سے زیادہ ہندوستانیوں کو ہر طرح کی مدد دی۔ اب تک 3.75 لاکھ سے زیادہ ہندوستانی محفوظ طور پر واپس لائے جا چکے ہیں۔ ایران سے تقریباً 1000 ہندوستانی، جن میں 700 سے زیادہ میڈیکل طلبہ شامل ہیں، بھی وطن واپس لوٹ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ علاقہ ہندوستان کی توانائی ضروریات جیسے خام تیل اور گیس کا اہم مرکز ہے۔ جنگ کے سبب دنیا بھر میں پٹرول، ڈیزل اور گیس کا بحران پیدا ہو رہا ہے۔ *اسٹریٹ آف ہرمز* سے جہازوں کی آمدورفت مشکل ہو گئی ہے، جس سے تجارتی راستے متاثر ہیں۔ حکومت ایندھن کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے مسلسل کوشش کر رہی ہے۔ گھریلو ایل پی جی صارفین کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ ملک میں اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو 5.3 ملین ٹن سے زیادہ ہے اور اسے مزید بڑھایا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اس بحران میں قوم کو متحد رہنا چاہیے اور افواہوں سے بچنا چاہیے۔












