عامر سلیم خان
نئی دہلی ، سماج نیوز سروس: سوشل میڈیا مذہبی نفرت پھیلانے کاسب سے بڑا آلہ بنتا جارہا ہے۔ زی- نیوز نے ایک شخص کی ویڈیو وائرل کی ہے جو کیمرے کی نظر سے لگتا ہے کہ وہ ایک گلاب جامن کے برتن میں پیشاب کررہا ہے، لیکن اصل ویڈیو دیکھنے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ وہ مسخرے پن (پرینک ویڈیو) کا ویڈیو ہے، جس میں ویڈیو کے اخیرمیں نوجوان کے ہاتھ میں دوسری طرف ایک بوتل پکڑے دکھایا گیا ہے۔’ دی لوجیکل انڈین‘ پورٹل نے اپنے تحقیق میں پایا کہ گلاب جامن کے برتن میں پیشاب کرنےوالے مسلمان کا دعویٰ گمراہ کن ہے کیونکہ اس فعل کو دکھایا گیا ویڈیو ایک مذاق یا مسخرہ پن والا ویڈیو ہے۔ اس شخص کو ایک بوتل پکڑے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جس سے برتن میں مائع (لیکوڈ)چیز ڈالی جارہی ہے۔ ویڈیو سوشل میڈیا پرتیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مسلم کمیونٹی کا ایک شخص ایک ہندوشادی کیلئے بنائے جارہے گلاب جامن میں سرعام پیشاب کررہا ہے۔
اس دعوے میں ایک نیا شوشہ نکالا گیاہے جس کو ’ فوڈ جہاد‘ کانام دیا گیا ہے ،جیسا کہ اس سے قبل لوجہاد، تعلیم جہاد، یوپی ایس ای جہاد، جائیداد جہاد اور مسلم طبقے کیخلاف نہ جانے کیا کیا جہادی شوشے چھوڑے جاچکے ہیں۔ ویڈیوکیلئے لکھے گئے کیپشن میں دعوی کیاجارہا ہے کہ یہ حرکت ’فوڈ جہاد‘کو ظاہر کرتی ہے، مانا جارہا ہے ہے کہ یہ ایک دائیں بازوگروپ کی سازش ہے کہ مسلم کمیونٹی کے افراد کھانے کو آلودہ کر کے ہندئوں کی زندگی خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ اس سے قبل یہ دعوی بھی وائرل ہو چکا ہے جن میں جھوٹا دعویٰ کیا گیا تھا کہ مسلمان ہندوئوں کا مذہب خراب کرنے کےلئے کھانے کی چیزوں میں تھوک رہے ہیں۔پیچھے سے بنائی گئی ویڈیو میں ایسا لگتا ہے جیسے وہ گلاب جامن کے برتن میں پیشاب کر رہا ہو۔ 2 دسمبر 2022 کو زی -اتر پردیش اتراکھنڈ کی جانب سے اس ویڈیو کو سرکلیٹ کیا گیا ہے، جس کے کیپشن میں لکھا تھا”شادی کیلئے تیار کئے جانےوالے کھانے میں اس شخص نے کچھ ایسا کیا، دیکھ کر آپ بیزار ہو جائیں گے“۔
فیس بک پیج، ہندوستانی رپورٹر نے بھی 3 دسمبر کو کیپشن کے ساتھ وہ ویڈیو شیئر کی اور لکھا”تھوک کھانے کے بعداب پیشاب پینا“، گلاب جامن میں پیشاب کرنےوالے شخص کی وائرل ویڈیو کو مسلم کمیونٹی سے جوڑا جا رہا ہے۔ اترپردیش بی جے پی یوتھ ونگ کی سوشل میڈیا سربراہ ڈاکٹر رچا سنگھ نے اس ویڈیو کو ٹویٹ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ”فوڈ جہاد کے بعد آنےوالے اس جہاد کا نام کیا ہے؟“۔’ دی لوجیکل انڈین “ کی حقائق جانچ کرنےوالی ٹیم نے وائرل ویڈیو اور دعوے کی تصدیق کی اور اسے گمراہ کن پایا۔ وائرل ویڈیو میں موجود شخص نے برتن میں پیشاب نہیں کیاتھا۔ ہم نے وائرل ویڈیو کے کلیدی فریموں کو الگ کرنے کیلئے جانچ ٹول کا استعمال کیا۔ ہم نے کلیدی فریموں پر ایک الٹ امیج سرچ کیا، جس کی وجہ سے ہم اس ویڈیو کو صارف @ashiq.billota کے Instagram صفحہ پر اپ لوڈ کرپائے۔ ویڈیو کے کیپشن میں کچھ مسکراتے ہوئے ایموجیز ہیں جو ویڈیو کی مضحکہ خیز نوعیت کو اجاگر کرتے ہیں۔
آلات کے ذریعہ ہم نے دیکھا کہ اس شخص کو ایک بوتل پکڑے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جس سے برتن میں مائع ڈالا جا رہا ہے۔ یہ وائرل ویڈیو سے ایڈٹ کردیا گیا ہے۔ اصل ویڈیو کے آخری چند فریموں میں ایک بوتل دیکھی جا سکتی ہے جو وائرل ویڈیو میں واضح طور پر موجود نہیں ہے۔ شیئر کنندہ انسٹا گرام یوزر کی آئی ڈی میں ایک ویڈیو میں دیکھا گیاکہ انسٹاگرام پیج ایک اور پیج @funtaap کے ساتھ مل کر ویڈیوز پوسٹ کر رہا ہے۔ یہ اکائونٹ بھی اسی طرح کے میمز اور مذاق کا مواد پوسٹ کرتا ہے۔ 23 جولائی 2022 کو پوسٹ ایک ویڈیو میں @funtaap، ایک لڑکے کو پول میں تیراکی کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، اور دوسرا لڑکا اس کے اوپر کیمرے کی طرف پیچھے کھڑا ہے۔ کیمرے کے زاوئے سے معلوم ہوتا ہے کہ لڑکا اس کے اوپر پیشاب کر رہا ہے۔ لیکن اصل میں اس نے سوئمنگ پول میں پانی کا پمپ پکڑا ہوا ہے۔ اس طرح ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ وائرل ویڈیو ایک گمراہ کن دعوے کے ساتھ پھیلائی گئی ہے۔












