نئی دہلی، 3 نومبر :وزیر اعظم نریندر مودی نے غذائی تحفظ کو 21ویں صدی کا چیلنج بتاتے ہوئے جمعہ کو کہا کہ حکومت کی پالیسیوں اور پروگراموں کی وجہ سے گزشتہ نو سالوں میں فوڈ پروسیسنگ کے شعبہ میں 50 ہزار کروڑ روپے کی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری آئی ہے ۔مسٹرمودی نے ورلڈ فوڈ انڈیا 2023 کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی فوڈ پروسیسنگ اور کسانوں سے متعلق پالیسیوں کی وجہ سے اس شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری آئی ہے ۔ حکومت نے اس شعبے میں پیداوار پر مبنی ترغیبی اسکیم بھی نافذ کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ماہی پروری اور مویشی پروری کے شعبے میں بھی دس ہزار کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا رہا ہے ۔وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ نو سالوں میں پراسیس فوڈ کی برآمد میں 150 فیصد اضافہ ہوا ہے ۔ اس دوران بڑے پیمانے پرپروسیسڈ فوڈز برآمد کی گئیں۔ ہندوستان اس معاملے میں دنیا میں ساتویں نمبر پر آگیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ لگن سے محنت اور برآمدی پالیسی کی وجہ سے خوراک کے شعبے میں بے مثال ترقی ہوئی ہے ۔ ایک سو سے زائد اضلاع برآمدی مرکز بن چکے ہیں اور عالمی منڈی سے جڑگئے ہیں۔ پہلے دو میگا فوڈ پارکس تھے جو اب بڑھ کر بیس سے زائد ہو گئے ہیں۔ پہلے 12 لاکھ ٹن پروسیسڈ فوڈ تیار کیا جاتا تھا جو اب بڑھ کر 200 لاکھ ٹن ہو گیا ہے ۔وزیراعظم نے کہا کہ ملک سے پہلی بار کچھ مصنوعات برآمد کی جا رہی ہیں جن میں سویا دودھ، کیلا، سیب، مشروم اور شہد وغیرہ شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملک میں شہری کاری میں اضافہ ہو رہا ہے جس کی وجہ سے پروسیسڈ فوڈز کی مانگ میں اضافہ ہو رہا ہے ، اس سے چھوٹے کسانوں، صنعتوں اور خواتین کو فروغ مل رہا ہے ۔ اس سے کسان پروڈیوسر گروپوں کو بھی فروغ مل رہا ہے ۔ کل دس ہزار کسان پروڈیوسر گروپس بنائے جانے ہیں، جن میں سے تقریباً سات ہزار بن چکے ہیں۔مسٹر مودی نے کہا کہ خواتین فوڈ پروسیسنگ کے شعبے میں لیڈ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ خواتین کی وجہ سے طرح طرح کے پکوان تیار کیے جاتے ہیں۔ آج سوانگ سپورٹ گروپ سے وابستہ ایک لاکھ خواتین کے کھاتوں میں بیج کا سرمایہ دیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں ثقافتی تنوع کے ساتھ غذائی تنوع بھی ہے ۔ ہندوستان کے تئیں دنیا کا تجسس بڑھ گیا ہے ۔ پوری دنیا ہمارے لیے بازار ہے ۔ انہوں نے خوراک اور فصل سے پہلے کے نقصانات کو کم کرنے پر زور دیا اور اس کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال کرنے کو کہا۔فوڈ پروسیسنگ انڈسٹری کے وزیر پشوپتی کمار پارس اور وزیر تجارت پیوش گوئل نے بھی تقریب سے خطاب کیا۔












