نئی دہلی، پارلیمنٹ سٹریٹ پر واقع ہیڈ پوسٹ آفس میں تعینات پوسٹل سروس ایجنٹ لوگوں کے اکاؤ نٹس توڑ رہا تھا۔ ملزمان کھاتہ داروں کے جعلی دستخط کر کے ان کے نام جاری کردہ چیک بک حاصل کرتے تھے اور پھر چیک کے ذریعے ان کے کھاتوں سے رقم نکال لیتے تھے۔ ابتدائی تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ ملزم نے 50 سے زائد لوگوں کے اکاؤ نٹس سے 1.25 کروڑ سے زائد رقم نکالی ہے۔ نئی دہلی کے سنسد مارگ پولیس اسٹیشن نے ملزم پوسٹل سروس ایجنٹ سریندر اجیت پال سنگھ کو فرید آباد سے گرفتار کیا ہے۔ پولیس نے اسے جمعہ تک ریمانڈ پر لے لیا ہے۔نئی دہلی ضلع کے ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ ریٹائرڈ سینئر افسر اشوک بہل نے سنسد مارگ پولیس اسٹیشن میں شکایت کی تھی۔ اس نے بتایا کہ کسی نے جعلی چیک کے ذریعے اس کے اکاؤ نٹ سے کئی لاکھ روپے نکال لیے ہیں۔ اس کے بعد کئی اور متاثرین نے پولیس سے رجوع کیا۔ متاثرین نے ہیڈ پوسٹ آفس میں تعینات پوسٹل سروس ایجنٹ سریندر اجیت پال سنگھ پر شک ظاہر کیا۔متاثرین کی شکایت پر کیس درج کرنے کے بعد اے سی پی سنسد مارگ اجے گپتا کی نگرانی میں سنسد مارگ پولس اسٹیشن کی ٹیم اتر سنگھ یادو، بوٹ کلب چوکی انچارج راج کرن اور کانسٹیبل دارا نے تحقیقات شروع کی۔ ابتدائی تفتیش میں پوسٹل سروس ایجنٹ پر شبہ ظاہر کیا گیا۔ معلوم ہوا کہ ملزم اپنی ڈیوٹی اور گھر سے فرار ہے۔ بالآخر کئی دنوں کی تفتیش کے بعد بوٹ کلب چوکی انچارج راجکرن کی ٹیم نے ملزم کو فرید آباد سے گرفتار کرلیا۔ملزم نے بتایا کہ اس کا خاندان بہت زیادہ مقروض ہے اور وہ قرض کی ادائیگی کے لیے لوگوں کے اکاؤ نٹس سے رقم نکال رہا تھا۔ وہ جعلی دستخطوں سے جاری کردہ چیک بک کھاتہ داروں کے کھاتوں میں ان کے دستخط دیکھ کر حاصل کرتا تھا۔ پھر ان چیکوں پر دستخط کرکے وہ آہستہ آہستہ ان کے کھاتوں سے رقم نکالتا تھا۔ اس طرح اس نے کئی کھاتہ داروں کے کھاتوں سے تقریباً 1.25 کروڑ روپے نکال لیے تھے۔ملزم2003 سے بطور سروس ایجنٹ کام کر رہا تھا۔ملزم سریندر اجیت پال سنگھ، جو اصل میں روپڑ، پنجاب کا رہنے والا ہے، 2003 سے ہیڈ پوسٹ آفس میں پوسٹل سروس ایجنٹ کے طور پر کام کر رہا تھا۔ پویلس اس بات کی بھی جانچ کر رہی ہے کہ سریندر اجیت پال سنگھ کے علاوہ پوسٹ آفس کے دیگر ملازمین اس گھوٹالے میں ملوث نہیں ہیں۔ پولیس ملزم سے یہ جاننے کے لیے پوچھ گچھ کر رہی ہے کہ وہ کب سے لوگوں کے کھاتوں سے رقم نکال رہا تھا اور اب تک کتنے لوگوں کے کھاتوں سے رقم نکال چکا ہے۔ اس معاملے میں ہیڈ پوسٹ آفس کے حکام سے تفصیلی معلومات طلب کی گئی ہیں۔












