تل ابیب (ہ س)۔اسرائیل نے فرانس اور اس کے صدر میکروں پر الزام لگایا ہے کہ وہ یہودی ریاست کے خلاف صلیبی جنگ شروع کر رہے ہیں۔اسرائیل کے وزیر خارجہ نے دعوی کیا ہے کہ غزہ میں خوراک کی ترسیل روکنے کے لیے اسرائیل نے کوئی ناکہ بندی نہیں کی ہے۔اسرائیلی وزیر خارجہ جدعون نے امداد روکنے کی اسرائیلی پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے کہا اسرائیل دباؤ کی پالیسی کے تحت جہاد کے حامی فلسطینی دہشت گردوں کو روکنے کے لیے ترسیل پر کچھ پابندیاں لگائے ہوئے ہے۔ جبکہ فرانس کے صدر میکروں فلسطینی ریاست کا احیا کرنا چاہتے ہیں۔یاد رہے اسرائیل نے کئی اطراف سے دباؤ کے بعد انتہائی محدود مقدار میں کچھ خوراک انہی دنوں غزہ میں داخل ہونے دی ہے۔ادھر فرانس کے صدر میکروں نے اسرائیل کی انتہائی جنگی جارحیت کے بعد یہ بیان دیا ہے کہ وہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے لیے حمایت کر سکتے ہیں۔جمعہ کے روز یورپی ملکوں نے کہا ہے کہ اسرائیل خوراک کی ترسیل نہ کھولے اور ہماری آواز پر توجہ نہ دے تو یورپی ملکوں کو مشترکہ اور مضبؤط پوزیشن اختیار کرنی چاہیے۔ اس میں اسرائیل کے خلاف پابندیوں کی آپشن بھی ہو سکتی ہے۔فرانس کے صدر میکرون نے سنگاپور میں ایک اعلیٰ دفاعی فورم میں بات کرتے ہوئے کہا تھا، اگر ہم غزہ کو مکمل طور پر اسرائیلی صوابدید اور رحم وکرم پر چھوڑے رکھتے ہیں کہ اسرائیل کو غزہ میں سب کچھ کرنے کا اختیار ہے تو ہم اپنی ساکھ کھو دیں گے۔ان کی مراد تھی پھر دنیا ہم یورپی ملکوں پر اعتبار نہیں کرے گی۔ اس لیے انہوں نے فلسطینی ریاست کو کچھ شرائط کے ساتھ تسلیم کرنے کو نہ صرف اخلاقی فرض بلکہ یورپ کی سیاسی ضرورت بھی قرار دیا ہے۔علاوہ ازیں فرانس سعودی عرب کے ساتھ مل کر نیویارک میں اقوام متحدہ میں ایک بین الاقوامی کانفرنس کی میزبانی کر نے جارہا ہے۔ یہ کانفرنس تنازعہ کے دو ریاستی حل کیحمایت کرنے کا عندیہ دے سکتی ہے۔ جس کی اسرائیلی وزیر اعظم اور ان کی حکومت مخالفت کرتی ہے۔فرانسیسی کے وزیر خارجہ جین نول بیروٹ نے جمعہ ہی کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا ہے کہ ان کا ملک اسرائیل کو مربوط کرنے کے لیے ایک بغیر فوج کے فلسطینی ریاست کی حمایت کرتا ہے۔مگر اسرائیلی وزیر خارجہ جدعون ساعر کا کہا ہے کہ یہ آپ نے فیصلہ نہیں کرنا کہ اسرائیل کے مفاد میں کیا ہے اور کیا نہیں ہے۔ یہ فیصلہ اسرائیل کو ہی کرنا ہے۔ اسرائیلی سلامتی کے لیے ضروری ہے کہ حالت جنگ کو جاری رکھے۔












