اسرائیل:اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ "مغویوں کی واپسی کی خاطر ہم غزہ معاہدے کی شقوں پر پوری طرح عمل درآمد کے لیے تیار ہیں اور باور کراتے ہیں کہ ہم کسی بھی منظر نامے کے لیے تیار ہیں۔ ہم اپنے فوجیوں کو کسی بھی براہ راست خطرے سے بچانے کے لیے تمام مطلوبہ اقدامات کا سلسلہ جاری رکھیں گے”۔
بدھ کے روز جاری ایک بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ "ہم نے حماس کی جانب سے خلاف ورزیوں کا مشاہدہ کیا اور ہم نے ان مسلح افراد کو ہلاک کیا جو ہماری افواج کے لیے خطرہ بنے تھے”۔اسی طرح بیان میں غزہ کے رہائشیوں پر زور دیا گیا کہ وہ اسرائیلی فوج کے احکامات پر عمل کرے اور فوجیوں سے دور رہے”۔یاد رہے کہ اسرائیلی فوج کے ترجمان افیخائی ادرعی نے منگل کے روز "ایکس” پلیٹ فارم پر جاری ایک بیان میں اہل غزہ پر زور دیا تھا کہ وہ کچھ علاقوں بالخصوص نتساریم کے پاس اسرائیلی فوج کے قریب نہ آئیں۔
انھوں نے باور کرایا کہ اسرائیلی فوج ابھی تک کئی علاقوں میں موجود ہے کیوں کہ فائر بندی معاہدے کی رو سے انخلا بتدریج عمل میں آئے گا۔اسی طرح غزہ کی پٹی کے شمال میں الگ کیے گئے علاقوں، رفح گزر گاہ اور مصر کے ساتھ سرحد پر فلاڈلفیا راہ داری کے قریب آنے سے بھی خبردار کیا گیا ہے۔
ساتھ یہ بھی باور کرایا گیا کہ غزہ کے مقابل سمندر میں شکار یا تیراکی ابھی تک خطرناک ہے لہذا آئندہ دنوں کے دوران میں اس کے قریب نہ آیا جائے۔
یہ بات واضح کی گئی ہے کہ "اگر حماس نے جنگ بندی کی پاسداری کی تو غزہ کی پٹی کے شمال کے رہائشی آئندہ ہفتے واپس آنے میں کامیاب ہو جائیں گے”۔یاد رہے کہ 15 ماہ کی گھمسان کی جنگ کے بعد اسرائیل اور حماس کے درمیان فائر بندی کا معاہدہ 19 جنوری سے نافذ العمل ہوا ہے۔
معاہدے میں فریقین کی جانب سے قیدیوں کا تبادلہ، پوری غزہ کی پٹی سے اسرائیل کا بتدریج انخلا اور شمال میں ایک بفرزون کا قیام شامل ہے۔
اسی طرح معاہدے کے متن میں مستقل جنگ بندی اور غزہ کی تعمیر نو بھی شامل ہے۔البتہ بعد ازاں اسرائیل کے بعض بیانات نے غزہ کی پٹی کے جنوب میں فلاڈلفیا راہ داری کے حوالے سے ابہام پیدا کر دیا کیوں کہ اس سے پہلے اسرائیل وہاں سے انخلا سے انکار کر چکا ہے۔
حماس نے اعلان کیا ہے کہ جنگ بندی کے معاہدے کے ساتویں دن بے گھر افراد جنوبی اور شمالی غزہ کے درمیان منتقل ہو سکیں گے۔ حماس نے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے ساتویں دن بے گھر افراد کو شمالی غزہ واپس جانے کی اجازت دی جائے گی۔حماس نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ معاہدے کے ساتویں دن معائنہ کے بعد گاڑیوں کو نیٹزارم کے محور کے شمال میں واپس جانے کی اجازت دی جائے گی۔ بے گھر ہونے والے پیدل چلنے والوں کو معاہدے کے 22ویں دن بغیر معائنہ کیے صلاح الدین سٹریٹ کے شمال میں واپس جانے کی اجازت دی جائے گی۔ .
غزہ میں جنگ بندی اتوار 19 جنوری کو نافذ ہوئی ۔ اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ وہ معاہدے کی شرائط کو مکمل طور پر نافذ کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ اسرائیلی فوج نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا کہ ہم مغوی افراد کی واپسی کے لیے غزہ کے معاہدے کی شرائط کو مکمل طور پر نافذ کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ ہم اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ہم کسی بھی صورت حال کے لیے تیار ہیں اور ہم اپنی اہلکاروں کو درپش کسی بھی خطرے کو ہٹانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرتے رہیں گے۔












