ہندوستان نے یکم دسمبر 2022 کو انڈونیشیا کے ہاتھوں سے جی 20 کی صدارت سنبھالی۔ جی20 کی قیادت ملک کو گلوبل وارمنگ، خوراک اور توانائی کی کمی، دہشت گردی، جغرافیائی سیاسی تنازعات، اور ڈیجیٹل تقسیم کو ختم کرنے سمیت متعدد ہنگامی حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے دنیا کے سامنے ”ہندوستان کی کہانی“پیش کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اور سب سے تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشت کے طور پر،ہندوستان کی جی20کی صدارت پچھلی17 صدارتوں کی اہم کامیابیوں کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ اس سال کی جی 20 کی تھیم ”ایک زمین، ایک خاندان، ایک مستقبل“ ہندوستان کے ”وسودھیو کٹمبکم“ (دنیا ایک خاندان ہے) کے بنیادی فلسفے کو مکمل طور پر گرفت میں لے رہی ہے، جو ہندوستان کی جی 20 قیادت کی رہنمائی کرے گی۔
جی20کےماحولیات اور موسمیاتی پائیداری ورکنگ گروپ (ای سی ایس ڈبلیو جی) کا پہلا اجلاس تمام جی20 ممالک کے ساتھ مثبت تاثر (نوٹ) کے ساتھ اختتام پذیر ہوا، جس میں ہندوستان کی صدارت کے لیے ایم او ای ایف اینڈ سی سی کے بیان کردہ موضوعات پر حمایت کا اظہار کیا گیا۔ تنزلی کا شکار ہوتی زمین کی بازیابی، ساحلی پائیداری کے ساتھ ساتھ نیلگوں معیشت (بلیو اِکانومی) کو فروغ دینے، حیاتیاتی تنوع کو بڑھانے، جنگلات کی آگ اور سمندری کوڑا کرکٹ کو روکنے اور سرکلر اکانومی کو مضبوط بنانے پر بات چیت نے دوسری چوٹی کانفرنس میں مزید فکر انگیز غور و خوض کے لیے پلیٹ فارم تیار کیا ہے۔
آبی وسائل کے انتظام سے متعلق بہترین طرز عمل
جی20کی اپنی صدارت کے دور میں، ہندوستان موسمیاتی تبدیلی اور پانی کی کمی کے چیلنجوں کو کم کرنے کے لیے ایک مربوط، جامع اور اتفاق رائے پر مبنی نقطہ نظر کا منتظر ہے۔ پانی کا تحفظ درحقیقت ہندوستانی شناخت اور ثقافتی تاریخ کا ایک اٹوٹ حصہ ہے اور موجودہ دور میں اور بھی زیادہ موزوں ہو گیا ہے۔ پانی کی ”بچت“ صرف تحفظ کے بارے میں نہیں ہے، بلکہ ہماری مشترکہ ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کسی بھی وقت اور جگہ پر خاطرخواہ مقدار میں صاف پانی کی دستیابی کو یقینی بنانا بھی اس کا مقصد ہے۔
حکومت ہند کی جل شکتی کی وزارتنے مصنوعی ریچارج اور رین واٹر ہارویسٹنگ کے ذریعے پانی کے تحفظ کو فروغ دینے کی خاطرمتعدد اقدامات کیے ہیں۔ جل جیون مشن پروگرام کا مقصد 2024 تک 193 ملین سے زیادہ دیہی گھرانوں کو فعال گھریلو نلکے کے پانی کے کنکشن سے جوڑنا ہے۔ ہمارے انتہائی اہم پروگرام نمامی گنگے مشن نے دریاؤ ں کی بازیابی، آلودگی میں کمی، ماحولیاتی نظام کے تحفظ اور دریا کے طاس (ریور بیسن) کے انتظام کے لیے ایک مثالی تبدیلی لانے کا کام کیا ہے۔ اسے حال ہی میں اقوام متحدہ کی طرف سے قدرتی دنیا کی بحالی کے لیے دنیا کے 10 سب سے چوٹی کے بحالی پروگراموں میں سے ایک کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔
پانی کا ذخیرہ کرنے کے اہم انفرا اسٹرکچر کی خاطر آب و ہوا کے تعلق سے لچک پیدا کرنے کے لیے ہندوستان دنیا میں سب سے بڑے ڈیم بحالی پروگرام کو بھی نافذ کر رہا ہے۔
مزید برآں، طلب اور رسد (ڈیمانڈ اینڈ سپلائی)کے ضمنی اقدامات کے امتزاج کے ذریعے زیر زمین پانی کے وسائل کی طویل مدتی پائیداری کو یقینی بنانے کے لیے، اٹل بھوجل یوجنا اسکیم کو کمیونٹی کی قیادت میں، گرام پنچایت کے لحاظ سے جاری/نئی اسکیموں کے ساتھ ہم آہنگ پانی کے تحفظ کے منصوبوں کے ذریعے نافذ کیا جا رہا ہے۔
ان کوششوں اور بہت سی دیگر اسکیموں کے ساتھ، ہندوستان بتدریج سال 2047 تک پانی کے تعلق سے محفوظ ملک بننے کے ہدف کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اس منظر نامے میں، ہم پانی پر توجہ مرکوز کرنے، نیز پائیدار اور مساوی طور پر آبی وسائل کا تحفظ اور انتظامکرنے والے دوسرے جی 20 ماحولیات اور موسمیاتی استحکام ورکنگ گروپ (ای سی ایس ڈبلیو جی) کی میٹنگ کی میزبانی کے لیے بیتاب ہیں۔
ہم بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندوں کے ساتھ ساتھ جی 20 ممالک کے متعدد مندوبین کی شرکت کے متمنی ہیں، جو آبی وسائل کے انتظام سے متعلق دنیا میں اپنائے جانے والے بہترین طور طریقوں اور خیالات پر غور و خوض کریں گے۔ مجھے یقین ہے کہ صاف گنگا سے متعلق قومی مشن، آب و ہوا کے تعلق سے لچکدار انفرا اسٹرکچر، زیر زمین پانی کے انتظام، صفائی اور پینے کے صاف پانی تک عالمی رسائی کے لیے حکمت عملیوں پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے، سوچھ بھارت مشن اور جل جیون مشن کے ذریعے دریاؤ ں کی بحالی پر بات چیت، حصہ لینے والے ممالک کےلئے معاون ثابت ہوگی، تاکہ وہایک دوسرے سے سیکھیں اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں تیزی لائیں۔
تاریخ اور ورثہ گجرات کے مترادف ہیں۔ شاندار گجرات بہت سے قدیم شہر کے کھنڈرات، محلات، قلعے اور مقبرے کا مسکن ہے، جو فخر کے ساتھ خاندانوں کے سنہری دور کی گواہی دے رہے ہیں۔ رانی کی واؤ اور ادلج واؤ آبی وسائل کے تحفظ اور زمانہ قدیم میں پانی کے انتظام و انصرام میں ہندوستان کی دیرینہ روایتکو ظاہر کرتے ہیں۔ پانی کے بنیادی ڈھانچے کی تخلیق میں استعمال ہونے والی پرانی اور نئی روایتی آبی حکمت اور جدید ٹیکنالوجی کے امتزاج کے ساتھ گجرات، 20 ممالک کے لیے ایک قیمتی پلیٹ فارم فراہم کرے گا تاکہ ایک دوسرے کے یہاں موجود بہترین چیزیں سامنے آسکیں اور وہ ایک دوسرے سے سیکھ سکیں۔












