اٹاوا(ہ س)۔اسرائیل ایران محاذ آرائی کے درمیان G7 رہنماؤں نے ایران اور اسرائیل کے درمیان تنازع پر ایک مشترکہ بیان کا مسودہ تیار کیا جس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دستخط نہیں کیے۔روئٹرز نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ مسودہ بیان میں اسرائیل اور ایران سے تنازعات کو کم کرنے اور علاقائی استحکام کو نقصان پہنچانے سے گریز کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔مسودے میں یہ بھی کہا گیا کہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے اور ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا۔ ذرائع کے مطابق جی 7 رہنما توانائی کی منڈیوں سمیت مارکیٹ کے استحکام کے تحفظ کے لیے کام کریں گے۔ برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹارمر نے پیر کو کہا کہ انہوں نے کینیڈا میں G7 سربراہی اجلاس میں اسرائیل ایران تنازع کو کم کرنے کی ضرورت پر اتفاق رائے دیکھا ہے۔اسٹارمر نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ میں ڈی ایسکلیشن پر اتفاق رائے دیکھ رہا ہوں، واضح طور پر آج ہمیں کیا کرنے کی ضرورت ہے اسے حاصل کرنا اور یہ بتانا کہ ہم اسے کیسے حاصل کر سکتے ہیں۔جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے کہا کہ جی 7 میں شامل یورپی ممالک ایران کے بارے میں ایک بیان تیار کر رہے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ تہران جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتا اور اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ذرائع نے بتایا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل اور ایران سے متعلق جی 7 کے بیان پر دستخط نہیں کیے ہیں اور سی بی ایس نے تصدیق کی ہے کہ ٹرمپ اس بیان پر دستخط کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ وائٹ ہاؤس نے ابھی تک تبصرہ کی درخواست کا جواب نہیں دیا ہے۔جمعہ کو علی الصبح اسرائیل نے ایران پر بڑے پیمانے پر حملہ کیا، جوہری تنصیبات اور میزائل اڈوں پر بمباری کی اور فوجی رہنماؤں اور ایٹمی سائنسدانوں کو قتل کیا۔ اسرائیلی حملوں سے ایران میں 224 افراد جاں بحق اور 1,277 زخمی ہوچکے ہیں۔ایران نے بھی جمعہ کو ہی میزائلوں اور ڈرونز سے اسرائیل کو جواب دینا شروع کیا۔ چار روز کے دوران ایران کیحملوں کی زد میں آکر 24 اسرائیلی ہلاک اور 592 زخمی ہوگئے ہیں۔












