ہیگ میں قائم عالمی عدالت ِ انصاف نے اسرائیل کے خلاف فلسطینیوں کی نسل کشی کے مقدمے میں اپنا عبوری فیصلہ سنایا ہے۔ یہ ایک ایسے فورم کا فیصلہ ہے جو اپنے فیصلوں پر عمل درآمد نہیں کراسکتا۔ یہ عدالت عالمی تنازعات پر اقوام متحدہ کو اپنی رائے فراہم کرتی ہے، اور کیا اقدامات کرنے ہیں آس کی رائے کی بنیاد پر اقوام متحدہ فیصلہ کرتی ہے، لیکن اس کے فیصلوں پر عمل درآمد کا انحصار عالمی طاقتوں پر ہے۔ اس کے فیصلے سلامتی کونسل کا کوئی بھی مستقل رکن ویٹو کرسکتا ہے۔ اس طرح اس فیصلے کا صاف مطلب یہ ہے کہ اسرائیل قتل وغارت گری جاری رکھے، بس زیادہ مسئلہ نہ بنے، کیونکہ فیصلے میں اسرائیل کو غزہ پر حملے بند کرنے کا حکم نہیں دیا گیا، فیصلے میں عدالت نے اسرائیل کو غزہ میں انسانی امداد کی اجازت دینے اور نسل کشی کے مترادف اقدامات سے صرف باز رہنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کے خلاف کیے گئے حملوں میں بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان ہوا ہے۔ فلسطینیوں کو زبردستی نقل مکانی پر مجبور کیا گیا اور ان کے بنیادی حقوق کی پامالی کی گئی ہے۔ اسرائیل اس بات کو یقینی بنائے کہ آس کی فوجیں غزہ میں نسل کشی نہ کریں اور مبینہ نسل کشی کے شواہد کو محفوظ رکھا جائے، لیکن اسرائیل کی دہشت گردی جاری ہے، اہم بات یہ ہے کہ آیا اسرائیل عالمی عدالت کے فیصلے کی پاسداری کرے گا؟ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو پہلے کہہ چکا ہے کہ وہ عدالت کا پابند نہیں ہے۔ فیصلے میں عالمی عدالت ِ انصاف کا مزید کہنا ہے کہ اسرائیل کو عدالت کے سامنے ایک ماہ کے بعد ایک رپورٹ پیش کرنی ہوگی جس میں یہ بتانا ہوگا کہ آس نے غزہ میں نسل کشی سے بچنے کے لیے کیا اقدامات کیے ہیں۔ دنیا یہ سوال کررہی ہے کہ جس طرح اقوامِ عالم ہنگامی بنیادوں پر عراق اور افغانستان میں مداخلت کرتی ہیں اور ساری قوتیں بیک وقت حملہ کرتی ہیں وہ رویہ اسرائیل کے خلاف دیکھنے میں کیوں نہیں آیا؟ یا تو عدالت کے جج بہت سادہ لوگ ہیں یا پھر پوری دنیا کے لوگ بے وقوف ہیں؛ جب کہ پاکستان نے آئی سی جے کے فیصلے کو بروقت اور فلسطینی عوام کے لیے انصاف کے حصول اور اسرائیل کے عالمی احتساب میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا ہے۔ پریس ریلیز میں مزید کہا گیا: ’’ہم آئی سی جے کے فیصلے کو بروقت اور فلسطینی عوام کے لیے انصاف کے حصول اور اسرائیل کے بین الاقوامی احتساب میں ایک اہم سنگِ میل سمجھتے ہیں، پاکستان فلسطینی عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے ان کی منصفانہ اور جائز جدوجہد کی غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کرتا ہے‘‘۔ اسی طرح الجزائر نے کہا ہے کہ وہ عالمی عدالتِ انصاف کی طرف سے فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی میں نسل کشی روکنے کے فیصلے پر عمل درآمد کے لیے سلامتی کونسل سے رجوع کرے گا۔ سعودی دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ فلسطینیوں کی اجتماعی نسل کشی سے متعلق اقوام متحدہ کے معاہدے کی خلاف ورزیوں اور قابض اسرائیلی حکام کے اقدامات کو پوری طرح سے مسترد کرتے ہیں، عالمی عدالت ِ انصاف کے ابتدائی فیصلے کا مقصد غزہ کی پٹی میں محصور فلسطینی عوام کی اجتماعی نسل کشی والے بیانات اور اقدامات کو روکنا ہے۔ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کے مطابق انہیں عدالت سے اس فیصلے کی امید تھی کہ اسرائیل کو غزہ میں نسل کشی کے اقدامات اور عام شہریوں کے خلاف ’’غیر انسانی‘‘ حملے روک دینے چاہئیں۔ اسی پس منظر میں مصر کی وزارتِ خارجہ نے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ’’مصر اس کا منتظر تھا کہ بین الاقوامی عدالت ِ انصاف غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرے گی جیسا کہ عدالت نے ایسے کیسز میں فیصلہ دیا تھا‘‘۔ فیصلے کے بعد بھی اس وقت غزہ میںصورت حال کشیدہ ہے۔ اسرائیلی فوج نے غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف حملوں میں اضافہ کردیا ہے۔ اسرائیلی تازہ حملوں میں کم از کم 183 فلسطینی شہید ہوئے ہیں۔ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اب تک غزہ میں 26ہزارسے زیادہ فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں بیش تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔ 20 لاکھ سے زائد لوگ نفسیاتی اور جسمانی تکالیف میں مبتلا ہیں۔ اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ (UNICEF) نے بدھ کو عالمی یوم ِ تعلیم کے موقع پر ایک مشترکہ بیان میں اس بات کی تصدیق کی کہ غزہ جنگ کے آغاز سے 6لاکھ سے زائد طلبہ تعلیم سے محروم ہیں۔ عالمی عدالت ِ انصاف کے فیصلے سے غزہ کے لوگوں پر تو کوئی فرق نہیں پڑے گا اور یہ یقینی طور پر اسرائیل کو فلسطینیوں کے خلاف اپنے جرائم سے باز نہیں رکھے گا، لیکن مستقبل میں ایک خاص زاویے سے یہ اہم قدم ہے اور عالمی لڑائی میں اس کی اہمیت ضرور ہے۔ اسرائیل کے خلاف یہ ایک ایسا ہتھیار عالمی قوتوں کے ہاتھ آگیا ہے جو مستقبل میں اس کے خلاف استعمال ضرور ہوسکتا ہے، اس حوالے سے حماس کا موقف سب سے اہم ہوگا، لیکن ابھی تک اس کا کوئی تفصیلی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ عالمی قوتوں کے کھیل میں مسلم امہ کی بحیثیت ِ مجموعی کوئی ٹریجڈی ہوگی تو مسلمانوں پر عتاب ختم ہوگا۔ یہ وقت مزاحمت اور جدوجہد کے لیے سازگار ہے اور حماس کی طرح پوری دنیا کے مسلمانوں کو جدوجہد کرنے اور اپنے اپنے حکمرانوں کو مجبور کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ مغرب کے اثرسے باہر آئیں۔ اس کے ساتھ عالمی عدالت ِ انصاف کا فیصلہ اسرائیل سے نافذ کرانے کے لیے عالمی برادری اور اس کے تمام اداروں اور تنظیموں کو بھی آسی طرح اپنا کردار ادا کرنا ہوگا جس طرح ماضی میں امریکا آن سے ہنگامی بنیادوں پر افغانستان، عراق اور مسلم ممالک کے خلاف کراتا آیا ہے۔












