• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
ہفتہ, مارچ 14, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home عالمی خبریں

اسرائیل کے بزدلانہ حملوں سے لہو لہان غزہ

Hamara Samaj by Hamara Samaj
نومبر 7, 2023
0 0
A A
اسرائیل کے بزدلانہ حملوں سے لہو لہان غزہ
Share on FacebookShare on Twitter
اسرائیل اور حماس جنگ کو شروع ہوئے ایک مہینہ مکمل ہو چکا ہے، غزہ کی اس دردناک تباہی پہ پتھر دل انسان کی آنکھوں سے بھی بےاختیار آنسو نکل رہے ہیں، ایک قیامت ہے جو ان پہ برپا ہے  کچھ بھی خبر نہیں کہ کب کس کی سانس آخری ہو، اس غیر مہذب جنگ کے خلاف عالم انسانیت مسلسل احتجاج کر رہی ہے لیکن اسرائیل کی شقی القلبی ہے کہ بڑھتی ہی جا رہی ہے، سات اکتوبر کو ہونے والی پسپائی نے اسرائیل کو اس قدر بوکھلا دیا ہے کہ ایک مہینے کے بعد بھی اس کے حواس قابو میں نہیں آ رہے، ردعمل کی نفسیات سے پوری طرح مغلوب ہو کر وہ دن رات غزہ پہ مسلسل حملے کئے جا رہا ہے، اسرائیل کی منافقت اور بزدلی کا عالم یہ ہے کہ وہ ایک طرف عام شہریوں کو عمارتوں کو خالی کرنے کی وارننگ دیتا ہے جب وہ فلسطینی عوام اپنی جان بچانے کے لئے وہاں سے دور جانے کی کوشش میں ہوتے ہیں تو ان کے قافلوں اور بےسروسامانی کے عالم میں رہ رہے ان کے کیمپوں پہ حملے کئے جاتے ہیں،  ہسپتالوں، مساجد، اور اسکول بھی ان کے مظالم کے ہاتھوں ڈھائے جا رہے ہیں، زخمیوں کو لے جارہے ایمبولینس بھی ان کے حملوں سے محفوظ نہیں اب تک دس ہزار سے زائد لوگ شہید ہو چکے ہیں جس میں 4 ہزار 880 بچے شامل ہیں اس میں عورتوں  کی ایک بڑی تعداد ہے،  حماس کے نام پہ ہونے والی یہ جنگ عام شہریوں کے لئے تباہی کا باعث بن رہی ہے، اسرائیل کی یہ ظالمانہ حرکتیں ہر شہری کو ہتھیار اٹھانے پہ مجبور کر دے گی اگر ایسا ہوا تو پھر اسرائیل بھی چین سے جی نہیں پائے گا جب بات سراوائیول کی آ جائے تو  پھر جان کھونے کا خوف دل سے جاتا رہتا ہے۔ اس وقت اسرائیل اگر تمام انسانی و اخلاقی اصولوں کو پامال کر کے جنگ جیت بھی جائے تو بھی تاریخ انسانی اسے ہٹلر کی طرح ملعون و مطعون کرتی رہے گی، یہ ہر کوئی جانتا ہے کہ یہ جنگ نابرابری کی جنگ ہے ایک طرف جدید ہتھیاروں سے مسلح فوج اور دوسری طرف ناکافی ہتھیار لئے تھوڑے سے حماس کے لوگ یا پھر نہتے عوام، ان پہ بم برسا کر بےدست و پا کر کے کون سی طاقت دکھائی جا رہی ہے،  اسرائیل کو اپنی بالا دستی کا اتنا ہی جنون ہے تو کمزوروں کو نشانہ بنا کر خوش ہونے کے بجائے برابر کی جنگ لڑنے کو ترجیح دے، یہ ایک بزدلانہ جنگ ہے جو امریکہ کی پیشوائی میں لڑی جا رہی ہے امریکہ ایک طرف غزہ کی عام عوام کے ساتھ جھوٹی ہمدردی ظاہر کرتا ہے، دوسری طرف انھیں کو تباہ کرنے والے ہتھیار بھی اسرائیل کو فراہم کرتا ہے اور جنگ بندی کی مخالفت کرتا ہے۔ برطانیہ اور امریکہ نے اسرائیل کو گود لے کر اسے پروان چڑھایا اس کی ہر جائز و ناجائز خواہشات کو پورا کر کے اسے اس قدر خودسر بنا دیا ہے کہ اقوام متحدہ جیسی تنظیم کو بھی وہ آنکھ دکھاتے ہوئے نہیں ڈرتا،  اس کو برخاست کرنے کا مطالبہ کرتا ہے، امریکہ و برطانیہ میں رہنے والے یہودی بھی ان کے اس دوغلے رویے پہ احتجاج کر رہے ہیں اور اسرائیل کو ظالم قرار دے رہے ہیں۔ بحیثیت یہودی کے خود کو اس جنگ سے الگ ہونے کی بات کر رہے ہیں۔ غزہ کی اس لہو زار حالت کے ذمےدار عرب ممالک بھی ہیں جو کہ محض اپنے مفاد کے لئے غزہ کی پشت پناہی کے لئے تیار نہیں ان کی اس بےحسی نے غزہ کو بےآسرا کر دیا ہے، یوں لگ رہا ہے جیسے جس کی لاٹھی اس کی بھینس یہ عرب ممالک چاہتے نہ چاہتے ہوئے اسی بھینس کے آگے بین بجاتے ہوئے آئے ہیں جو اس کو ذرا بھی خاطر میں نہیں لا رہی، اسرائیل جنگی قوانین کو توڑ کر محض اپنی عسکری طاقت کو ثابت کرنے کے لئے  وحشیانہ انداز میں حملے کئے جا رہا ہے اور ہر چوبیس گھنٹے میں وہ حماس کے خاتمے کی بات کرتا ہے جب کہ غیر ملکی ذرائع سے یہ بات سامنے آ رہی ہے کہ زمینی جنگ میں غزہ میں اسرائیلی فوج کو بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، درجنوں اسرائیلی فوج حماس کے ہاتھوں ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان کے بیس ٹینک تباہ ہوگئے ہیں اس کی وجہ سے یہودیوں میں بےچینی پائی جا رہی ہے اسرائیل میں نیتن یاہو کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں وہ لوگ جنگ بندی کا مطالبہ کر رہے ہیں، اقوام متحدہ سے وابستہ اٹھارہ اداروں کے سربراہ نے معصوم شہریوں، بچوں اور عورتوں کے بہنے والے خون ناحق کے خلاف غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے بآواز بلند اسرائیل کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ بہت ہو چکا یہ سب اب بند ہونا چاہئے،  جنرل اسمبلی میں غزہ پہ اسرائیلی فضائی، بری و بحری حملوں کی مذمت اور جنگ بندی پہ 120 ممالک نے اس کی حمایت کی جب کہ چودہ ممالک بشمول امریکہ نے جنگ بندی  قرارداد کی مخالفت کی چار ممالک نے خود کو اس قرار داد سے الگ رکھا اور کسی بھی طرح کی شمولیت سے اجتناب کیا جس میں ہندوستان بھی شامل ہے، ہندوستان کی خاموشی وشوگرو ہونے پہ سوال اٹھا رہی ہے، اس جنگ بندی کی قرارداد کو اسرائیل نے ذرہ برابر اہمیت نہیں دی، نیتن یاہو جو کہ انسانی اقدار اور اخلاقی اصولوں سے مکمل طور سے عاری ہو چکا ہے بھلا اس سے جنگ بندی کی امید کیسے رکھی جا سکتی ہے۔ اس کی اس حیوانیت کو دیکھتے ہوئے خود ان کے مذہبی پیشواؤں نے بھی ان کے اس اقدام کی مذمت کی ہے اور خدا کا واسطہ دے کر جنگ بندی کی اپیل کی ہے۔
 غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ جنگ نہیں قتل عام اور نسل کشی ہے، تہذیب یافتہ قومیں تماشائی کی طرح کھڑی تماشہ دیکھ رہی ہیں،  فی الحال ابھی اس جنگ کے رکنے کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے ہیں، ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسرائیل کی اس بڑھتی بربریت پہ لگام کیسے اور کون ڈالے گا؟ محض باتوں اور امدادی سامان فراہم کرنے سے فلسطینی عوام کی زندگیوں کو محفوظ نہیں کیا جا سکتا، بےشک کئی عرب ممالک نے اسرائیل کو وارننگ دینے کی جرأت کی ہے کہ اگر  اسرائیل غزہ پہ زمینی سطح پہ حملہ کرتا ہے تو وہ پھر بدترین عاقبت کے لئے تیار رہے، اس وقت اسرائیلی افواج زمینی سطح پہ حماس اور فلسطینی عوام سے برسرپیکار ہیں ایسے میں عرب ممالک کی پیش قدمی کیا ہوتی ہے اس پہ دنیا کی نگاہیں مرکوز ہیں۔ فلسطینیوں کو تباہ کرنے کے بعد مذاکرات کی میز پہ آنا کوئی معنی نہیں رکھے گا، جیسا کہ امریکہ نے بھی اس بات کو تسلیم کر لیا کہ دو ریاستی حل ہی اس جنگ کا خاتمہ کر سکتا ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا  امریکہ دو ریاستی حل کو ماننے کی شرط پہ  وہ اسرائیل کو امداد فراہم کرنے کی بات کرتا ہے نہ ماننے کی صورت میں بائیکاٹ کرنے کی جرأت رکھتا ہے، امریکہ نے اب تک اسرائیل کے خلاف پاس کی جانے والی ہر قرار داد کو ویٹو کیا ہے، اس قدر ویٹو کا استعمال اس نے اب تک اپنے لئے بھی نہیں کیا ہے، امریکہ منافق ہے وہ اپنی سپر پاور کی طاقت کو برقرار رکھنے کے لئے کسی کا بھی گلا کاٹ سکتا ہے، روس کے بالمقابل وہ یوکرین کی مدد کو انسانی حقوق کی پاسداری کا نام دے رہا تھا لیکن یہی انسانیت فلسطینیوں کے لئے مفقود ہے، روس کو بدترین نتائج سے خبردار کر رہا تھا لیکن اسرائیل کو یہ کہنے کی جرأت اس کے پاس نہیں،  روس اور چین کی بڑھتی ہوئی طاقت نے اسے رات تو رات بلکہ دن میں بھی چوکنا رہنے پہ مجبور کر دیا ہے۔ اسرائیل کی حیوانیت و انانیت کی وجہ یہی مغربی ممالک ہیں اس جنگ نے ان کے اصل چہرے کو مزید دنیا پہ آشکار کر دیا ہے۔
اس وقت غزہ کی حالت انتہائی قابل رحم ہے دوائیں، پانی، کھانا، بجلی، سر چھپانے کی جگہ سب ختم ہوتی جا رہی ہیں، حملوں سے بچ جانے والے لوگ زخم کی شدت اور بھوک کی وجہ سے سسک سسک کر مرنے پہ  مجبور ہیں، اقوام متحدہ کی ایجنسی کے غزہ کے ڈائریکٹر نے کہا ” غزہ میں روزآنہ اوسطاً فلسطینی آٹے سے بنی عربی روٹی کے دو ٹکڑوں پہ زندہ ہیں جسے اقوام متحدہ نے اس خطے میں ذخیرہ کیا تھا گلی میں پانی پانی کی صدا بلند ہو رہی ہے کیوں کہ اسرائیل سے سپلائی ہونے والی تین پائپوں میں سے صرف ایک کام کر رہی ہے، بہت سے لوگ دستیاب ہونے پہ کھارے یا نمکین زمینی پانی پہ انحصار کر رہے ہیں اس وقت غزہ کے لوگوں کی حالت کو دیکھتے ہوئے دنیا کے مختلف حصوں میں صدائے احتجاج بلند کی جا رہی ہے لیکن افسوس کی بات ہے کہ عرب ممالک کسی تماشائی کی طرح کھڑے حالات کا نظارہ کر رہے ہیں، آپسی نااتفاقی اور وقتی مفاد نے ان سے ان کا ضمیر چھین لیا ہے۔ وقت ان کی اس بےحسی کا محاسبہ ضرور کرے گا۔ اس وقت پوری دنیا کے عام عوام کا ضمیر تاریخی کردار ادا کر سکتا ہے، ہم جمہوریت کے دور میں جی رہے ہیں اس کے ذریعے ہی ان ناخلف طاقتوں کو لگام ڈالی جا سکتی ہے۔
علیزے نجف
ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    ایران نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھا دیں: روئٹرز

    ایران نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھا دیں: روئٹرز

    مارچ 13, 2026
    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران کے پڑوسی ممالک پر حملوں کے خلاف قرارداد منظور

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران کے پڑوسی ممالک پر حملوں کے خلاف قرارداد منظور

    مارچ 13, 2026
    نیتن یاہو اپنے منطقی انجام کے بہت نزدیک پہنچ گئے

    نیتن یاہو اپنے منطقی انجام کے بہت نزدیک پہنچ گئے

    مارچ 13, 2026
    ایران کی ایٹمی صلاحیت کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا ہے

    ایران کی ایٹمی صلاحیت کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا ہے

    مارچ 13, 2026
    ایران نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھا دیں: روئٹرز

    ایران نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھا دیں: روئٹرز

    مارچ 13, 2026
    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران کے پڑوسی ممالک پر حملوں کے خلاف قرارداد منظور

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران کے پڑوسی ممالک پر حملوں کے خلاف قرارداد منظور

    مارچ 13, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist