تل ابیب:ایک بین الاقوامی میڈیا ایسوسی ایشن نے منگل کو اسرائیلی حکومت کو اس بات پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے کہ وہ غزہ تک میڈیا کی غیر محدود رسائی پر پابندی برقرار رکھے ہوئے ہے اور اس کے اس اقدام کو مایوس کن قرار دیا۔حکومت نے اتوار کے اواخر میں سکیورٹی خطرات کے پیشِ نظر ایک درخواست میں سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ غزہ کی پٹی میں صحافیوں پر پابندی برقرار رہنی چاہیے۔اسرائیل اور فلسطینی علاقوں میں سینکڑوں صحافیوں کی نمائندگی کرنے والی فارن پریس ایسوسی ایشن (ایف پی اے) کی دائر کردہ ایک پٹیشن میں غزہ کی پٹی تک غیر ملکی صحافیوں کی فوری اور غیر محدود رسائی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اسی کے جواب میں اسرائیلی حکومت نے درخواست دی تھی۔ملکی پریس ایسوسی ایشن نے غزہ کی پٹی تک مکمل اور آزادانہ رسائی کی اپیل کی تھی جس پر اسرائیلی حکومت کے تازہ ترین ردِ عمل پر ہم گہری مایوسی کا اظہار کرتے ہیں،” ایسوسی ایشن نے منگل کو کہا۔ایسوسی ایشن نے مزید کہا، علاقے میں جنگ بندی کے باوجود حکومت نے دوبارہ ہمیں باہر تک محدود رکھنے کا فیصلہ کیا ہے بجائے یہ کہ صحافیوں کو غزہ میں آزادانہ داخلے کی اجازت اور ہمیں اپنے بہادر فلسطینی ساتھیوں کے ساتھ کام کرنے دیا جائے۔”اکتوبر 2023 میں غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے اسرائیلی حکومت نے غیر ملکی صحافیوں کو تباہ شدہ علاقے میں آزادانہ داخلے سے روک رکھا ہے۔
اس کے بجائے اسرائیل نے صرف محدود تعداد میں صحافیوں کو غزہ میں داخلے کی اجازت دی ہے جو فوجیوں کے ہمراہ جا سکتے ہیں۔ایف پی اے نے 2024 میں اپنی پٹیشن دائر کی تھی جس کے بعد عدالت نے حکومت کو جواب جمع کروانے کے لیے کئی مہلتیں دیں۔تاہم گذشتہ ماہ عدالت نے چار جنوری کی آخری تاریخ مقرر کی تھی کہ میڈیا کو غزہ تک رسائی کی اجازت دینے کے لیے حکومت ایک منصوبہ پیش کرے۔اپنی میں حکومت نے سابقہ مؤقف برقرار رکھا کہ پابندی رہنی چاہیے۔یہ حفاظتی وجوہات کی بناء پر ہے کیونکہ دفاعی اسٹیبلشمنٹ کا مؤقف یہ بات برقرار رکھتا ہے کہ ایسے داخلے سے منسلک سکیورٹی خدشات ہنوز موجود ہیں،” حکومت کی درخواست میں کہا گیا۔حکومت نے یہ بھی کہا کہ غزہ میں رکھے گئے آخری اسرائیلی قیدیوں کی باقیات کی تلاش جاری ہے جس کے باعث اس مرحلے پر صحافیوں کو داخلے کی اجازت سے اس کام میں رکاوٹ آ سکتی ہے۔جنگ بندی کے باوجود ران گویلی کی باقیات تاحال برآمد نہیں ہو سکیں جس کی لاش 2023 میں حماس کے حملے میں ہلاکت کے بعد غزہ لے جائی گئی تھی۔ایف پی اے نے کہا کہ وہ عدالت میں ایک "پُرزور جواب” داخل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ "ججز یہ جھوٹا دعویٰ ختم کر دیں گے۔”ایسوسی ایشن نے مزید کہا، ایف پی اے کو یقین ہے کہ آزادی اظہار، عوام کے جاننے کے حق اور آزاد صحافت کے بنیادی اصولوں کی مسلسل خلاف ورزی کی روشنی میں عدالت انصاف فراہم کرے گی۔”توقع ہے کہ سپریم کورٹ اس معاملے پر فیصلہ جاری کرے گی اگرچہ یہ واضح نہیں ہے کہ فیصلہ کب سنایا جائے گا۔اے ایف پی کا ایک صحافی ایف پی اے کے بورڈ کا رکن ہے۔












