غزہ (یواین آئی)غزہ کی وزارت صحت نے اتوار کو اعلان کیا کہ وہ اسرائیلی جارحیت کے باوجود پولیو کے قطرے پلانے کی مہم کے پہلے دن 72,000 سے زیادہ بچوں کو قطرے پلانے میں کامیاب رہی۔وزارت نے ٹیلی گرام پر کہا کہ "مرکزی علاقے (غزہ کی پٹی کے) میں طبی ٹیمیں ہنگامی پولیو ویکسینیشن مہم کے پہلے دن 72,611 بچوں کو قطرے پلانے میں کامیاب ہوئیں۔”
غزہ میں اقوام متحدہ اور مقامی وزارت صحت کے حکام کی مشترکہ کوششوں سے پولیو ویکسینیشن مہم جاری ہے۔ اس مہم کے دوران غزہ کے کچھ علاقوں میں عارضی جنگ بندی کی گئی ہے۔ اتوار کےروز غزہ میں تقریبا 72 ہزار بچوں کو پولیو ویکسین دی گئی۔
غزہ کی پٹی کے وسطی علاقے الزوائدہ کیمپ کے ایک طبی مرکز میں فلسطینی بسمہ البطش پولیو کے خلاف ویکسین کی آمد پر اپنی خوشی چھپا نہیں پائی، جس سے اس کے بچے اور دیگر ہزاروں بچے اس مرض کے خلاف قوت مدافعت حاصل کر سکیں گے۔
درجنوں والدین اپنے بچوں کے ساتھ مرکز کے سامنے جمع تھے، جہاں پر طبی عملے نے بچوں کو ویکسین لگائی۔ شہریوں کو اتوار کی صبح ان کے فون پر ٹیکسٹ پیغامات موصول ہوئے کہ وہ اپنے بچوں کو لے آئیں۔البطش کہتی ہیں کہ "میں خوشی اور راحت محسوس کرتی ہوں کہ میں اپنے بچوں کے لیے فالج اور بیماریوں سے ڈرتی ہوں”۔ اس نے مزید کہا کہ ’لیکن خدا کا شکر ہے، میں اب خوش ہوں، کیونکہ میرے بچوں کو ویکسین لگ جائے گی‘۔اتوار کے روز غزہ کی پٹی میں پولیو کے قطرے پلانے کی مہم باضابطہ طور پر شروع ہوئی، جس کا اعلان غزہ میں وزارت صحت کے ایک اہلکار نے ’اے ایف پی‘ سے بات کرتے ہوئے کیا۔اقوام متحدہ نے اعلان کیا کہ یہ مہم مرحلہ وار فلسطینی پٹی کے تمام علاقوں میں چلائی جائے گی، جو تقریباً گیارہ ماہ سے تباہ کن جنگ کا سامنا کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ "انسانی جنگ بندی” بھی ہو گی، جس کی شرائط مکمل طور پر واضح نہیں ہیں۔
غزہ کی پٹی میں گزشتہ ماہ ایک چوتھائی صدی میں پولیو کا پہلا کیس سامنے آنے کے بعد اقوام متحدہ نے ویکسینیشن مہم کا اعلان کیا تھا۔ وسطی غزہ کی پٹی میں ایک دس ماہ کا بچہ پولیو سے متاثر ہوا تھا۔ اس کے خاندان کو جنگ کی وجہ سے بار بار بے گھر ہونا پڑا نے کہا کہ وہ غزہ کی پٹی کے بہت سے بچوں کی طرح اسے کبھی بھی ویکسین نہیں دلوا سکے۔












