• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
ہفتہ, مارچ 21, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home اداریہ ؍مضامین

اسلام کے قانونِ میراث کوعام کرنا وقت کی اہم ضرورت

Hamara Samaj by Hamara Samaj
مئی 10, 2023
0 0
A A
اسلام کے قانونِ میراث کوعام کرنا وقت کی اہم ضرورت
Share on FacebookShare on Twitter

دین اسلام میں اللہ اور بندے کے تعلق کو مرکزی اہمیت حاصل ہے جب تک بندہ اس تعلق کو اطاعت کے ذریعہ مضبوط و مستحکم بنائے رکھنے میں کامیاب رہتا ہے اس وقت تک عبد و معبود کا رشتہ قائم رہتا ہے اور انسان کے لیے دنیوی زندگی میں خوشحالی اور اخروی حیات میں سرخروی کے امکانات قوی رہتے ہیں ۔ لیکن جب اس رشتے میں ضعف و کمزوری آجاتی ہے تو انسان احساسِ مسئولیت و جوابدہی سے یکسر محروم ہوجاتا ہے اور وہ ابدی و جاودانی نعائم کی بجائے دنیوی عیش و عشرت اور ناپائیدار شہوات کو ترجیح دینے لگتا ہے پھر آہستہ آہستہ اس کے اخلاق میں گراوٹ آنی شروع ہوجاتی ہے جس کے سبب معاشرے میں برائیاں اور خرابیاں فروغ پانے لگتی ہیں اور انسان اس قدر مصائب و مشکلات کا شکار ہوجاتا ہے جسے احاطۂ تحریر میں لانا ممکن نہیں ہوتا ۔ دین اسلام ایک مکمل نظامِ حیات ہے ۔ انسان اگرتعلیمات اسلامی پر عمل پیرا رہے گاتو اس کی زندگی کامل نظم و ضبط کا مثالی نمونہ بن جائے گی اور اگر تعلیماتِ اسلامی اعراض کرے گا تو اس کی زندگی میں بے ہنگمی و بے ضابطگی کا شکار ہوجائے گی جس کی بین مثال آج کا ماحول ہے ۔آج مسلم معاشرے میں تصور ِآخرت سے غفلت وبے اعتنائی، اسلامی تعلیمات سے اعراض و دوری ، دنیاو مادہ پرستی اور جاہ پرستی بیجا محبت و یاری کے باعث کئی ایک خرابیاں پیدا ہورہی ہے۔ منجملہ ان کے مال و دولت بالخصوص مال متروکہ کے موضوع پر قتل و غارتگیری کا عام ہونا بھی شامل ہے ۔ اسلام کے قانونِ میراث سے عدم واقفیت کے باعث مال متروکہ کے حصول کے لیے کی جانے والی یہ خونی کارروائیاں آئے دن رونما ہورہی ہیں اور منظر عام پر آرہی ہیں۔ جس کا سد باب از حد ضروری ہے اور اس کا بہترین ذریعہ اسلام کے قانونِ میراث کو سمجھنا اور دوسروں سمجھانا ہے جسے ’’نصف العلم‘‘ کہاگیا ہے۔ ایسے کھٹن اور پرآشوب ماحول میں بالغ نظری اور خدا پرستی کا تقاضہ یہی ہے کہ ہم اس جانب فوری توجہ کریں۔ خصوصاً خطیب حضرات اپنے خطبوں میں معاشرے کے سلگتے ہوئے مسائل بالخصوص میراث کے مسئلہ کو مدلل اور مفصل بیان کریں چونکہ یہ خطبا کی اولین و اساسی ذمہداری و فریضہ ہے کہ وہ مسلمانوں میں پائے جانے والے شکوک و شبہات کا ازالہ کریںتاکہ مسلم امہ برائیوں کے ارتکاب سے محفوظ ہوجائے۔ جہاں تک مال کا تعلق ہے یہ ایک طرف سبب معیشت ہے تو دوسری طرف فتنہ کا باعث بھی ہے ۔ اسی لیے مالی معاملات میں انسان کو بڑی احتیاط برتنی چاہیے۔ ورنہ ذرا سی لغزش اس کی دنیا و آخرت کو تباہ و تاراج کرسکتی ہے۔ دین اسلام نے اپنے ماننے والوں کو فطرت پر مبنی میراث کا نظام عطا فرمایا جس میں (1) قرابت (2)ضرورت اور (3) تقسیم دولت کو بڑی اہمیت دی گئی ہے ۔ (1)قرابت کی بنا پر میراث پانے والوں میں پہلا طبقہ ذوی الفروض کا ہے یعنی وہ ورثا جن کے حصے قرآن سنت اور اجماع امت سے ثابت ہوں ۔دوسرا طبقہ عصبات کا ہے یعنی وہ ورثا جو ذوی الفروض کی موجودگی میں مال بچ جانے کی صورت میں میراث میں حصہ پاتے ہیں ورنہ محروم رہتے ہوجاتے ہیں اور ذوی الفروض کی عدم موجودگی میں کل متروکہ جائیداد کے حقدار بنتے ہیں۔ تیسرا طبقہ ذوی الارحام کا ہے جو پہلے اور دوسرے طبقے سے تعلق رکھنے والے ورثا کی عدم موجودگی میں میراث میں شریک ہوتے ہیں ۔ اگر ان تین طبقات میں سے کوئی بھی وارث موجود نہ ہو تب مال متروکہ بیت المال میں محفوظ کردیا جائے گا ۔ (2)ضرورت کی بنا پر خواتین کے مقابل مرد حضرات کے لیے دوحصے مقرر کے گئے ہیں چونکہ مالی ذمہ داریوں کا بوجھ صرف مرد حضرات ہی پر ہوتا ہے ۔خواتین کی اپنی کفالت بھی خواتین کے ذمے میں نہیں رکھی گئی وہ بھی مرد حضرات کی ذمہ داری ہے۔ (3) تقسیمِ دولت کی بنا پر اسلام نے لڑکے، لڑکیوں اور متوفی کے دیگر رشتہ داروں کو متروکہ جائیداد میں بلا تفریق و امتیاز حصہ دار بنایا ہے اور اسی تقسیم دولت کو یقینی بنانے کے لیے دین اسلام نے نہ صرف وصیت کو کل مال کے ایک تہائی حصے تک محدود رکھا ہے بلکہ وارثوں کے حق میں وصیت کرنے سے بھی منع فرمایا ہے تاکہ دولت چند ہاتھوں میں مرکوز ہوکر نہ رہ جائے ۔ تقسیم میراث کا عمل شروع کرنے سے قبل شریعت کا حکم یہ ہے کہ پہلے متوفی کی تجہیز و تکفین کا بندوبست کیا جائے پھر میت کے ذمے قابل ادا قرضہ جات کی ادائیگی ہوگی پھر اگر متوفی نے وصیت کی ہو تو اسلامی ہدایات کے مطابق مال متروکہ کے ایک تہائی حصہ میں سے وصیت کو پورا کیا جائے گا۔ یعنی اگر تجہیز و تکفین اور قرضہ کی ادائیگی کے بعد مال متروکہ میں 90000 روپے باقی رہ جاتے ہیں اور وفات پانے سے قبل متوفی نے کسی کے حق میں پورے مال کی وصیت کردی تھی تب بھی وصیت صرف 30000 روپے تک محدود رہے گی باقی رقم 60000 روپے ورثا میں تقسیم کردی جائے گی۔ البتہ ورثا متوفی کی وصیت کو برضا و رغبت پورا کرنا چاہتے ہیں تو ان کا یہ عمل درست و صحیح ہوگا۔اکثر یہ بات دیکھی جارہی ہے کہ کم سن، زیر کفالت، شادی شدہ اور متمول بہنوں کا حصہ دینے سے لوگ انکار کررہے ہیں یا پھر بقدر اشک شوئی معاوضہ دیکرمال متروکہ پر قابض ہونے کی کوشش کر رہے ہیں اور دلیل یہ دی جارہی ہے کہ وہ تو کم سن ہے ،ہماری پرورش میں ہے، بہن کی شادی کی ذمہ داری ہم نے اٹھائی ہے یا یہ کہ وہ تو پیسے والی ہے، اسے پیسے کی کیا ضرورت ہے وغیرہ وغیرہ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر بہن کم سن ہے تو سن بلوغ کو پہنچنے کے بعد اسے اس کا حق دے دینا ضروری ہے اس کی اجازت کے بغیر کسی کو اس کے حصے میں تصرف کرنے کا کوئی اختیار حاصل نہیں ہے ، اگر بھائی والدین کے وفات کے بعد بہن کی کفالت کرتے ہیں یا اس کی شادی کے اختراجات برداشت کرتے ہیں تو یہ حسن سلوک میں شمار ہوگا ۔ بہن کروڑ پتی ہی کیوں نہ ہو اور اسے وراثت میں سے ایک روپیہ ہی کیوں نہ ملتا ہو شریعت کی رو سے اسے اس کا حصہ دینا ضروری ہے ۔ بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے والدین کی دیکھ بھال کی ہے اور ان کے علاج و معالجہ پر خطیر رقم خرچ کی ہے لہذا وہ چاہتے ہیںکہ مال متروکہ میں سے پہلے علاج و معالجہ پر عائد ہونے والے اخراجات کو منہا کرکے میراث کی تقسیم کی جائے ۔ والدین کی خدمت کرنا اطاعت شعاری کی دلیل ہے اور اس کے لیے بندہ عند اللہ ماجور ہوگا لیکن والدین کے علاج و معالجہ پر صرف ہونے والی رقم مال متروکہ میں سے منہانہیں کی جائے گی۔ یا یہ کہا جاتا ہے کہ وہ بھائی بہن جنہوں نے والدین کے علاج و معالجہ میں کوئی مالی تعاون نہیں کیا ہم انہیں میراث میں سے کوئی حصہ نہیں دیں گے۔ اسلامی تعلیمات یہ ہے کہ نافرمانی کی وجہ سے اولاد عند اللہ ماخوذ ہوگی لیکن میراث سے محروم نہیں ہوگی۔ بعض یہ سمجھتے ہیں کہ میں والدین کا فرمانبردار، محبوب اور نورِ نظر لڑکا یا لڑکی ہوں لہذا وراثت میں صرف میرا ہی حق ہونا چاہیے ۔ بعض کہتے ہیں کہ والدین نے فلاں لڑکے یا لڑکی کو اپنی حین حیات بہت ساری جائیداد بطور تحفہ پہلے ہی دے دی ہے لہذا اب انہیںوراثت میں سے کوئی حصہ نہیں ملنا چاہیے وغیرہ وغیرہ۔ یہ تمام تصورات، افکار و خیالات باطل اور تعلیماتِ اسلامی کے بالکل مغائر و خلاف ہیں ۔ اسلام کے قانون وراثت سے ہماری عدم واقفیت ہی کا نتیجہ ہے کہ رشتوں میں دراڑیں پیدا ہورہی ہے ، نفرتوں کا ماحول ہرسو عام ہورہا ہے، انسانیت دم توڑ رہی ہے ۔ بسا اوقات ان عداوتوں کا نتیجہ قتل کی شکل میں برآمد ہورہا ہے۔ کتنی معیوب بات ہے کہ شریعت اسلامی نے تو ہمیں تقسیمِ میراث کے وقت اگر کوئی غیر وارث رشتہ دار ، یتیم و یسیر، غریب و نادار اور مسکین لوگ آجائیں تو انہیں بھی اپنی صواب دید کے مطابق مال دینے کی تلقین و نصیحت فرمائی ہے لیکن ہم ورثا جن کا حصہ خود شریعت مطہرہ نے مقرر فرمایا ہے اس سے انہیں محروم کرنے کے لیے حیلے تلاش کرنے لگے ہیں۔ جب ہم فطرت کے خلاف کوئی قدم اٹھائیں گے تو مصائب و پریشانیوں کا دروازہ کھلنا یقینی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ آج مسلم معاشرے میں مال متروکہ کی تقسیم کا مسئلہ اتنا سنگین بنتا جارہا ہے کہ لوگ قتل کرنے سے بھی گریز نہیں کررہے ہیں جبکہ رب کائنات نے ایک انسانی جان کے اتلاف کو تمام انسانوں کے قتل کرنے کے مترادف قرار دیا ۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ بطفیل نعلین پاک مصطفی ﷺ ہمیں قرآن اور صاحبِ قرآنﷺ کی تعلیمات کے مزاج کو سمجھنے اور اس کے مطابق عمل کرنے کی توفیق رفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین

ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    فائر بریگیڈ کی ہائیڈرولک لفٹ تک نہیں کھلی، بی جے پی  حکومت کی ناکامی اور لاپروائی نے9لوگوں کی جان لے لی:کیجریوال

    فائر بریگیڈ کی ہائیڈرولک لفٹ تک نہیں کھلی، بی جے پی حکومت کی ناکامی اور لاپروائی نے9لوگوں کی جان لے لی:کیجریوال

    مارچ 20, 2026
    پالم آتشزدگی معاملہ، بی جے پی اور ’آپ‘ میں ہاتھا پائی

    پالم آتشزدگی معاملہ، بی جے پی اور ’آپ‘ میں ہاتھا پائی

    مارچ 20, 2026
    عید الفطر: بندگی کی تکمیل، شعور کی آزمائش اور موجودہ حالات میں حکمتِ عمل

    عید الفطر: بندگی کی تکمیل، شعور کی آزمائش اور موجودہ حالات میں حکمتِ عمل

    مارچ 20, 2026
    دہلی میں فسادات جیسے حالات پیدا کر رہی ہے بی جے پی

    دہلی میں فسادات جیسے حالات پیدا کر رہی ہے بی جے پی

    مارچ 20, 2026
    فائر بریگیڈ کی ہائیڈرولک لفٹ تک نہیں کھلی، بی جے پی  حکومت کی ناکامی اور لاپروائی نے9لوگوں کی جان لے لی:کیجریوال

    فائر بریگیڈ کی ہائیڈرولک لفٹ تک نہیں کھلی، بی جے پی حکومت کی ناکامی اور لاپروائی نے9لوگوں کی جان لے لی:کیجریوال

    مارچ 20, 2026
    پالم آتشزدگی معاملہ، بی جے پی اور ’آپ‘ میں ہاتھا پائی

    پالم آتشزدگی معاملہ، بی جے پی اور ’آپ‘ میں ہاتھا پائی

    مارچ 20, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist