نئی دہلی، دہلی قانون ساز اسمبلی کی درج فہرست ذاتوں قبائلی بہبود کمیٹی کی 11ویں میٹنگ ویشیش روی کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ SC/ST ویلفیئر کمیٹی نے اعلیٰ تعلیم کے محکمے اور GGSIPU انتظامیہ کو خط لکھا ہے تاکہ SC/ST طلباءکو فیس میں اضافہ اور فیس میں رعایت کے مسئلہ پر بات کی جائے۔ میٹنگ میں انکشاف کیا گیا کہ ڈی پی سی آئی ایکٹ 2007کے تحت تشکیل دی گئی اسٹیٹ فیس ریگولیٹری کمیٹی فیس اسٹرکچر کو ریگولیٹ کرتی ہے۔ اس میں SC/ST اور دیگر پسماندہ طبقات کی کوئی نمائندگی نہیں ہے۔ اس بات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا کہ جی جی ایس آئی پی یو اور ملحقہ کالجوں میں ایس سی ایس ٹی طلباءکے لیے فیس میں کوئی چھوٹ نہیں ہونا چاہیے۔درج فہرست ذاتوں قبائل کی بہبود کی کمیٹی کے چیئرمین ویشیش روی نے محکمہ اعلیٰ تعلیم کو ہدایت دی ہے کہ وہ ڈی پی سی آئی 2007 ایکٹ میں ترمیم کرے۔ اس سے ایس سیایس ٹی کمیونٹی کے ایک ممبر کو اسٹیٹ فیس ریگولیٹری کمیٹی میں شامل کیا جا سکے گا تاکہ SC/STsکے لیے فیس میں رعایت کو یقینی بنایا جا سکے۔کمیٹی نے جی جی ایس آئی پی یو سے منسلک کالجوں کے تفصیلی آڈٹ کی بنیاد پر فیس کا ڈھانچہ طے کرنے اور تمام طلباءکی فیسوں کا جائزہ لینے اور کم کرنے کی سفارش کی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ریاستی فیس ریگولیٹری کمیٹی کو بھی سفارش کی گئی ہے کہ وہ SC/STبرادریوں سے تعلق رکھنے والے طلباءکے لیے فیس میں رعایت کو یقینی بنائے۔ایم ایل اے ویشیش روی نے کہا کہ ترجیحی بنیادوں پر ایس سیایس ٹی کمیونٹی کے طلباءکو فیس میں رعایت دی جانی چاہئے۔ جی جی ایس آئی پی یو نے الحاق شدہ کالجوں اور دیگر تمام یونیورسٹیوں کے تفصیلی آڈٹ کی بنیاد پر فیس کا ڈھانچہ طے کرنے کی سفارش کی ہے۔












