غلام سرور کا شمار ہندوستان کی تاریخ میں اردو صحافت کے درخشاں ستارے کے طور پر ہوتا ہے۔ انہوں نے جس بیباکی اور جرات کے ساتھ اردو صحافت کو بام عروج پہ پہونچانے میں جو کلیدی رول ادا کیا ہے۔ اس کی مثال دور حاضر میں نایاب نہیں تو کمیاب ضرور ہے۔ آزادی کے بعد اردو کے ابھرنے والے صحافیوں میں سب سے ممتاز و اعلیٰ مقام رکھتے ہیں۔ ان کی تحریریں اصولی ، متوازن حقائق پر مبنی ہوتی تھیں۔
اردو کو ریاست بہار میں دوسری سرکاری زبان کا درجہ دلانے میں ان کی خدمات اور کوششوں کو کبھی بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا ۔ انہوں نے اردو کی تحریک کی لئے گلی کوچوں اور گاؤں گاؤں کا دورہ کیا اور اپنے حامیوں اور ساتھیوں کے ساتھ بھوک ہڑتال تک کیا اور لاکھوں افراد کی دستخط پر مشتمل خط صدر جمہوریہ کو روانہ کیا اور اردو کو اس کا حق دلواکر ہی دم لیا۔ ان کی پیدائش بہار کی مردم خیز علاقہ بیگوسرائے میں 10 جنوری 1926 میں ہوئی تھی۔
غلام سرور آزادی سے قبل وہ مسلم لیگ سے وابستہ رہے اور اپنی جوانی کے ایام مسلم لیگ کی ہمنوائی میں گزارے۔ لیکن یہ سلسلہ زیادہ دنوں تک برقرار نہ رہ سکا اور آزادی کے بعد مسلم لیگ کو خیرباد کہ دیا۔ آزادی کے بعد ملک کے حالات کے ساتھ ساتھ ریاست بہار کے مسلمانوں کے حالات عمومی طور پر ناگفتہ دور سے گزر رہے تھے۔ ایسے پرآشوب دور میں یہ مرد مجاہد مرد آہن کی طرح قوم و ملت کی آبیاری کرتا رہا ۔ ملت کی سماجی، تعلیمی اور اقتصادی حالات پہ گہری نظر ہونے کی وجہ سے وہ بہت زیادہ متفکر تھے ۔ اور حتی الوسع اپنی زبان و قلم کے زور سے سوتے ہوئے عوام کو بیدار کرتے رہے۔ خواہ وہ "نوجوان” کی ادارت ہو یا اپنی ادبی شہ پارہ "پرکھ” کے اوراق ہوں۔ اپنے حساس ذہن اور جوش و جذبے سے سرشار افکار کو عوام کی توجہ کا مرکز بنا لیا۔
ان کی انقلابی تبدیلی کا دور اور صحافت کے برہنہ شمشیر کہے جانے والے کا دور اصلا سہیل عظیم آبادی کی ادارت میں شائع ہونے والا "ساتھی” روزنامہ کی خریداری سے ہوتا ہے۔ حالانکہ اس کی اشاعت زیادہ دنوں تک برقرار نہیں رہ سکی لیکن اس کے چند شمارے آج بھی کسی نادر یادگار سے کم نہیں۔
غلام سرور ایک اصول پسند شخصیت کے حامل تھے۔ انہوں نے اپنے اصولوں اور ضوابط سے کبھی سودا نہیں کیا۔ وہ اسم با مسمی تھے۔ عہدہ یا منصب کے لئے کبھی وہ سرگرداں نہیں رہے۔ وہ ہمیشہ اپنی خطابت و کتابت کے ذریعے اس بات پہ زور دیتے تھے کہ اپنی شخصیت خود اس لائق بناؤ کہ عہدہ تمہارے پیچھے بھاگے۔ آپ خود مختلف عہدوں پہ فائز رہے مگر کسی کی غلامی نہیں کی۔ وہ مرد مجاہد بے پناہ صلاحیتوں کے مالک تھے ، خوش مزاجی اور خوش اخلاقی ان کا طرۂ امتیاز تھا ۔ وہ علاقہ اور حکومت کے لئے ایک نابغہ روزگار شخصیت کے علمبردار تھے ۔ وہ انسان کو انسان دیکھنا چاہتے تھے۔ ان کے اندر کسی طرح کا کوئی امتیازی سلوک نہ تھا وہ ہر ایک کو برابر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ غلام سرور کی ذات ہمہ جہت شخصیت کی مالک تھی وہ عام و خاص ہر طبقے میں عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ وہ ہندو مسلم کے باہمی تعلقات کو استوار کرنے میں ایک پل کی حیثیت رکھتے تھے۔ وہ ادب نواز ، سخن شناس ، نہایت درد مند صفت کے حامل اور ایک زندہ دل انسان تھے۔
غلام سرور نے اپنی بے پناہ صلاحیتوں سے ملک و ملت کی ایسی آبیاری کی کہ ان کے چلے جانے کے بعد وہ خلا ابھی تک پر نہ ہو سکا ۔ سماجی ناہمواریوں کا سامنا ہو یا اقتصادی اصلاحات کا ، تعلیمی میدان ہو یا سیاست کی پیچیدگی ہو وہ مرد قلندر کی طرح ہر موڑ پہ نبردآزما ہوتے تھے۔ صحافت کے میدان میں انہوں نے جو کارہائے نمایاں انجام دیئے ہیں وہ میدان صحافت کے لئے کسی نایاب دستاویز سے کم نہیں۔ ہفتہ وار "سنگم” سے لے کر روزنامہ سنگم کے طویل عرصے تک صحافتی میدان میں جو خدمات سرانجام دی ہیں وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ وہ صحافت کو صرف خبر رسانی کا ذریعہ نہیں بلکہ سماج کی اصلاح اور عوامی خدمت کا مؤثر اور کارگر ذریعہ سمجھتے تھے۔ ان کی صحافت کا مقصد سچائی کو اجاگر کرنا اور سماج و معاشرے کے مسائل کو حکومت اور صاحب اقتدار تک پہونچانا تھا۔ انہوں نے اپنی صحافتی صلاحیتوں سے نئی نسل کی ایسی تربیت کی تھی کہ جنہوں نے آگے چل کر صحافت کے میدان میں پیش بہا کارنامے انجام دیئے ۔ انہوں نے صحافت کے میدان میں تعلیمی ، سماجی مسائل ، نا انصافی ، بے روزگاری اور مہنگائی پہ زیر حاصل گفتگو کرکے صحافت کو زندہ و تابندہ فروغ عطا کیا ۔ صحافت کو دیانت داری اور ایمانداری کے ساتھ آزادانہ طور پر پیش کرکے انسانوں کی ہمہ گیر فلاح و بہبود اور زندگی کے نصب العین کی حصول یابی کا مؤثر ذریعہ بنادیا۔ آزاد ہندوستان میں ان جیسا ابھی تک کوئی بیباک لیڈر، ادیب ، سیاستداں اور سچا اور ایماندار صحافی نہیں پیدا ہوا۔ بطور مثال "کلام حیدری” کے خط کا یہ اقتباس جو "مقالات غلام سرور صفحہ 31 پر درج ہے ملاحظہ ہو۔ جو انہوں نے 22 اگست 1979 میں لکھا تھا۔
پیارے سرور۔۔۔ سلام علیک!
دس اداریوں کی نقل بھیج رہا ہوں ۔جتنی جلد ہو سکے یہ کام کردہ اور پھر ان نقل نقل کئے ہوئے اداریوں سمیت پیش لفظ مجھے رجسٹرڈ بھیج دو۔
ویسے میں 30 تاریخ کو شاید پٹنہ آؤں تو تم سے ملاقات کروں گا۔ اگر نہ آ سکا تو پھر پیش لفظ ڈاک سے بھیج دو۔پیش لفظ کے سلسلے میں تمہیں کھلی آزادی ہے۔ کیونکہ میں ایمانداری کے ساتھ آزادی تحریر پر یقین رکھتا ہوں۔
تمہارا خیرخواہ
کلام حیدری
22 اگست 1979ء
غلام سرور کا یہ وصف کمال رہا ہے کہ انہوں نے اپنی صحافت میں ادب و ثقافت کے موضوعات کو وسیع طور پر جگہ دی۔ اور اردو ادب کو بام عروج تک پہنچایا اور اس کی ترویج و ترقی کے لئے ہمیشہ سینہ سپر رہے۔ اردو کو اپنا حق دلانے میں کلیدی رول ادا کیا ۔
غلام سرور کا دور بھی نشیب و فراز سے پر رہا ۔ اپنے دور کے کئی سرکاری منصب و عہدوں پہ فائز رہے اور وہ بھی سیاسی پیچیدگیوں کے شکار ہوکر متنازع شخصیت کی صف میں شامل ہو گئے اور ان پر بھی طرح طرح کے الزامات لگائے گئے اور کچھ لوگوں کی نظر میں معتوب اور ناپسند قرار دیئے گئے ۔ مقامی اخبارات نے اس میں مزید جلتے دیئے میں گھی کا کام کیا۔ خواہ وہ ‘عظیم آباد ایکسپریس” ہو یا”پندار” ہو یا گیا سے شائع ہونے والا” مورچہ” ہو۔ بہرحال کوئی ایسی انسانی شخصیت اس دنیائے فانی میں نہیں گزری ہے جو کسی نہ کسی ناحیہ سے مختلف فیہ یا متنازع نہ رہی ہو۔
الغرض غلام سرور کی ادبی و صحافتی خدمات کو کسی صورت میں فراموش نہیں کیا جا سکتا ۔ عرصۂ دراز تک میدان صحافت کے معتبر اور با اعتماد ناموں میں ان کا شمار رہا ہے۔ ان کی کتابیں ان کے رسائل و جرائد اور تقریریں آج بھی محفوظ ہیں اور تشنگان علم و ادب کو سیراب کر رہے ہیں اور آنے والی نسلوں کے لئے مفید اور کارآمد ثابت ہوتے رہیں گے۔ بس ضرورت اس بات کی ہے کہ تحقیق و جستجو اور استفادے کی غرض سے انہیں پڑھا ، لکھا اور دیکھا جائے ۔ تنقید برائے تعمیر ہو نہ کہ تنقید برائے تنقیص و تخریب ۔ خاص کر صحافت کو آزاد اور ایک ذمہ دار کی حیثیت سے اپنا فرض منصبی نبھانا چاہیئے ۔ کم ظرفی ، ضمیر فروشی ، مصلحت پسندی اور حاشیہ برداری سے دور رہنا چاہیئے۔












